122

پنکچر ٹرائی سائیکل (تحریر: محمد ندیم اختر)

پنکچر ٹرائی سائیکل

گاؤں کے بھرے بازار میں چھ سال کا بچہ اپنی تین پہیوں والی سائیکل کو پنکچر لگوانے کے لئے دکان ڈھونڈ رہا تھا. گلی کی چند دکانوں میں سے اس کو ایسی دکان نہیں مل رہی تھی جہاں پر اس کا مسئلہ حل ہو پائے. ننھے قدموں پر گھومتا اس کو ایک دکان کےباہر سائیکل کا بوسیدہ زنگ آلود پہیہ لٹکا نظر آیا اس کا معصوم بچگانہ ذہن یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اس کے مسئلہ کا حل یہاں مل پائے گا. اس کی سائیکل کو پنکچر لگانے والا یہیں موجود ہو گا. خوشی محسوس کرتے ہوئے وہ منزل پر پہنچ کر اپنی سائیکل کو پکڑے کھڑا ہوگیا اور  کاریگر سے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہتا ہے

چچا! میری سائیکل بہت زیادہ زور لے رہی ہے  ابو جی بول رہے تھے کہ اس کو پنکچر لگوا لاؤ..  دکاندارنے بچے کی نفیسات کو سمجھتے ہوئے ربڑ کے پہیے کو ٹاکی لگا کر  بچے کو مطمئن کر چلتا کیا.  دوسرے لفظوں میں چونا لگا کر واپس بھیج دیا گیا. 

مماثلت رکھنا کوئی بڑی نہیں ہے وہ بھی پاکستان سے پاکستانی عوام سے پاکستان کو قائم ہوئے تقریباً تہتر سال کا عرصہ بیت چکا. ابھی ہم وہی مسائل لے  کر گھوم رہے ہیں جن کا سامنا ہم کو روز اول سے تھا. 

سیاسی صورتحال جوں کی توں ملک میں  عدم استحکام پیدا کرنے میں سرگرداں ہے. اس کا خمیازہ یہ ملک انیس صد اکہتر کو بھگت چکا. زمانہ جدید میں جہاں پر دنیا بھر میں سیاسی استحکام آچکا جمہوریت کو مستحکم کیا جا چکا مگر  پاکستانی اب بھی پاکستان کو تبدیلی کے تجربات و مشاہدات سے گزار رہے ہیں. تحفظات کو لئے اس ملک کے معصوم حالات سے نابلد لوگ جن کو جمہوریت کا دور دور تک  علم نہیں شخصی آمریت کے زیرِ سایہ اپنی زندگی گزار کر اس خاک سے ابدی نیند جا سوتے ہیں. پاکستان کے گذشتہ حکومتی ادوار  میں جو بھی حکومتیں گزریں کہاں سے استحکام ملا یا برقرار رہا. عوامی رائے عامہ صرف یہی رہی حکومت  کےآنے پر خوش. حکومت کے گرنے پر لڈی بھنگڑے. ابھی تک بھی عوام کا سیاسی شعور اس بات سے آگے نہ بڑھ سکا. 

بلاشبہ فوج ملک کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اس کی قربانیاں بے مثال ہیں مگر اس کی حیثیت جمہوری نظام متنازعہ بناتی رہی. ملک کا نظم و نسق کو  بہتر بنانے کیلئے حکومتی کنٹرول بھی رہا اور کئی دہائیوں تک ملکی باگ دوڑ کو سنبھالہ دئیے رکھا. 

پاکستان میں تیسرا ستون عدلیہ جو کہا جاتا ہے انصاف و قانون کا بول بالا کرنے کے لیے  کام کر رہا ہے.. یہ بات  چند عشروں کے دوران سچ سمجھی جاتی رہی بھولی بسری یادوں میں  بسی عوام کی سوچ اس سے تجاوز نا کر سکی.. مگر یہ کیا اب لوگ  کہتے ہیں  حکومتیں اپنی مرضی سے فیصلےکرواتی ہیں . ہاں رات کو بھی پیشی ڈال کر بیرون ملک بھیج دیا جائے گا. 

عدالتی نظام کبھی کبھی حکومت کے متوازی نظام لانے کی کوشش کرتا ہے تو کبھی  کٹھ پتلی بن کے ناچتا ہے.  عوام آس لگائے ان تینوں قومی اداروں کی جانب منھ اٹھاۓ  آنکھیں موندے کھٹ پر بیٹھے اپنا پاسپورٹ ہاتھ میں لئے کسی ایجنٹ کے انتظار میں  حالات درست ہونے کا انتظار کر رہی ہے.. کب حالات سدھریں اور باہر سدھار جائیں. نہیں  تو عدالت میں جا کر سیدھے راستے سے  آڈر کروا لیں گے. 

انیس صد سینتالیس سے لے کر اب تک بزرگوں سے  پاکستان کی کہانیاں سنیں تو ایک محاورہ ضرور سننے کو ملے گا کہ  پاکستان  نازک دور سے گزر رہا ہے. گِنے چُنے بزرگوں میں میرے بزرگ بھی شامل ہیں جو پاکستان بننے کی کہانیاں بھیگتی پلکوں ساتھ سنانے کے لئے موجود ہیں.وہ نازک حالات میں پاکستان پہنچے  اور بقول  حکومتی ارکان  اب تو ملک میں  جمہوری ،فوجی اور عدالتی فیصلے سب پرنازک حالات نے بسیرا کر رکھا ہے 

ہماری رعایہ اس بچے کی ٹرائی سائیکل پر سوار ہیں جس کی پہیے سے پنکچر کی تلاش میں  عرصہ ستّر سال سے گھوم رہی ہے اور اس کا پنکچر نہیں مل رہا.جیون جوگیا کجھ چنگیاں تے کر.

 جیون جوگیا
میتھوں اوچا توں بیبا
بھجدا بھجدا چلدا  بیبا
تیرےاوچے شنبلے بیبا

تینوں بھاگ لگّے بیبا
 وڈّی کرسی نال بیبا
 ایتھے قتل ہون بیبا
تیری نگری وچ بیبا

وڈیاں عدالتاں ہون بیبا
جج ہون تیرے بیبا
پیسوں چنگا اوچا بیبا
پیسے نال چھُٹ جاوے بیبا

ماڑا ویکھے رب بیبا
انصاف لے جاوے پیسہ بیبا
کیہڑیاں گلاں لے بیٹھاں بیبا
توں دانے پھرول بیبا

توں دانے رول بیبا
ودر کردا چل بیبا
تسبیح تیرے کول بیبا
میں نئیں بن دا خان بیبا
میں تیتھوں ندیم چنگا

محمد ندیم اختر: ڈھوک کاسب 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں