274

مرزا عارف نعیم (عطائے مصطفیﷺ )

مرزا عارف نعیم (عطائے مصطفیﷺ )

مرزا عارف نعیم ایک شخصیت ایک فرد کا نام نہیں تھا، بلکہ آپ ایک زمانے ، ایک عہد کا نام ہیں ، جو کبھی ختم نہیں ہوگا جو ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گا ہمارے دلوں کی دھڑکن میں دھڑکے گا جو ہمارے ذہینوں میں چمکے گا ، جو ہمارے بولنے میں جھلکے گا ، جو ہماری آنکھوں سے آنسو بن کر چھلکے گا ۔ آپ کے اسباق و اسلوب اور اصول ہماری نسلو ں میں نسل در نسل منتقل ہوتے رہیں گے ۔

مرزا صاحب کو اﷲ تعا لی نے جوانی میں وہ مقام دیا جو بڑے بڑے بزرگوں کو بزرگی میں بھی عطا نہیں ہوتا ، آپ کی داڑھی کے ابھی چند بال ہی سفید ہوئے تھے عین دو پہر کے وقت آپ کا آفتاب غروب ہو گیا اتنی کم عمری میں آپ نے وہ مقام حاصل کر لیا تھا ، جن اولیاء اﷲ اور بزرگان دین کو ملنے کیلئے لوگ گھنٹوں لائن میں لگ کر کھڑے رہتے اور ملاقات پھر بھی نصیب سے ہوتی ، وہ بزر گان دین آپ کا نام سنتے ہی اپنے حجرے سے باہر آ جاتے اور آپ کو اپنے ساتھ اپنے حجرے میں لے جاتے اور اپنے ساتھ بیٹھا کر گھنٹوں محو گفتگو رہتے، گفتگو کا مرکز اﷲ اور اﷲ کا حبیب ﷺ ہی ہو تے۔وہ بزرگان دین جن سے ملنے کیلئے لوگ میلوں مسافت طے کر کے ان کا دیدار کرنے آتے تھے وہ بزرگان دین خود چل کر آپ سے ملاقات فرمانے آتے تھے۔ آپ کے بارے میں ایک وقت کے ولی کا فرما ن ہے کہ آپ عطائے مصطفیﷺہیں عطائے مصطفیﷺ کی زندگی کبھی ختم نہیں ہوتی یہ الفاظ ولی کامل ڈاکٹر فرخ حفیظ صاحب نے دنیا سے پردہ فرمانے سے چند منٹ پہلے فرمائے تھے ۔ آپ کا سب مقام و مرتبہ بزرگان دین جانتے تھے ۔

یہ بھی پڑھیں: گرین فورس ٹیم منڈی بہائوالدین گورنمنٹ ڈگری کالج کے پرنسپل اور پروفیسر مرزا عارف نعیم کیساتھ، کالج کی ریواروں سے گندگی اور ڈھیر کو ختم کر دیا، ویڈیو دیکھیں

آپ مانند پھول مہکتے اور مہکاتے بالکل اسی طرے جیسے اکیلا پھول اپنے ساتھ خو شبو کا ہجوم رکھتا ہے اور خو شبو فضا میں گھل مل کر نبی نو ع انسان کے ذہن و قلب کو معطر اور سحر انگیز کر دیتی ہے، بالکل اسی طرح آپ اپنے سننے اور پاس بیٹھنے والوں کو معطر اورسحر انگیز کر دیتے تھے ۔ آپ خالق کائنات کی مخلوق کے روح و وجدان میں علم و ادب ، دانش و بینش ، فکر و احساس ، عقائد و رحجانات ، جذبات و خواہشات ، عادات و اطوار ، قول و افکار ، انکشافات و ایجادات ، اخلاق وتکلم ، عقل و خرد ، متحرک و متحارب ، تحقیق و جستجو ، شعور و آگہی اور تہذیب و تمدن کی خو بصورتی ، شفافیت اور عطر و بو کی خاصیت کی طرح تحلیل ہو کر لوگوں کے ذہن و قلوب سے ہو کر جسم و جان میں اتر جاتے تھے ۔

اﷲ تعالی کے آگے کسی کا کوئی زور نہیں، قدرت کے اپنے ہی فیصلے ہوتے ہیں اور ہم انسانوں کو ان فیصلو ں پر آمین کہنا ہوتا ہے، اس کے سوا کوئی چارہ نہیں، شکوہ یا نالہ کریں تو خارج السلام ہو جاتے ہیں، اﷲ تعالی کے فیصلے ہمارے حق میں بہتر ہوتے ہیں اور وہی سب جانتا ہے جو زمین آسمان اور تمام مخلوقات کا مالک ہے ۔

مرزاصاحب کے بالوں کی سفید اور بڑھتی ان کی بزرگی میں دن بدن اور نکھار آتا تو ان کی شخصیت کے پردے مزید عیاں ہو جاتے نہ جانے وہ کس مرتبہ پر فائز ہو جاتے، ان کے چاہنے والوں میں شب و روز اضافہ ہو جاتا ان کی وہ خوبیاں بھی سامنے آ جاتی جن پر قدرت نے پردہ ڈال رکھا تھا مگر ان پر قدرت کو پردہ ہی مقصود و منظور تھا اس لیے آپ اپنی تمام تر خو بیوں کو اپنے اندر سما کر اس جہان فانی سے رخصت فر ما گے ۔

یہ بھی پڑھیں: پروفیسر مرزا عارف نعیم کی نماز جنازہ گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج منڈی بہاوالدین میں ادا کر دی گئی۔ ویڈیو دیکھیں

اس ولی کے جنازے کی بات کی جائے تو اس کا نظارہ ہی الگ ہے ہمارے شہر کی تاریخ میں آج تک ایسا جنازہ نہیں ہوا،جس طرح اس ولی کا جنازہ ہوا ہے ہر آنکھ اشکبار تھی ، آسماں بھی رو رہا تھا مگر کسی بشر کو نہ سردی کا احساس تھا اور نہ کسی مو سمی تکلیف کا اندازہ ،آنکھ سے آنسو بہہ رہے تھے دل تھا کے غم میں ڈوباجا رہا تھا ، نہ جانے کہاں کہاں سے قدرت اپنے ولی عطائے مصطفی ﷺ کیلئے اسباب پیدا فرما رہی تھی ، یہ سب کام ہماری سوچ سے بالا تر تھے ایک دوست آئے انھوں نے فرمایا کہ آپ کے جسد خاکی کو تابوت میں دفن کیا جائے گا یہ ہمیں حکم ملا ہے، ہم گھر والوں کو معلوم بھی نہ تھا کے تابوت بھی آگیا اور نہ جانے کون عطائے مصطفی ﷺ کا عاشق پھول کی چادر لے کر آ گیا تد فین کا خوبصورت منظر آنکھوں میں ابھی تک بسا ہوا ہے لو گ عطائے مصطفیﷺ کی قبر مبارک سے دور جانے کا نام نہیں لے رہے تھے آپ کے عاشق گھنٹوں قبر پر کھڑے ہو کردرود و سلام پیش کرتے رہے اوران کے آنسوں کے ساتھ ساتھ آسماں بھی آنسو بہاتا رہا ۔

(تحریر :۔ طاہر فاروق طاہرؔ)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں