192

حکومت کی جانب سے کھاد کی نئی قیمتیں مقرر۔ جولائی سے نومبر تک ضلع بھر میں مہنگی کھاد بیچنے والوں کو 4 لاکھ سے زائد کے جرمانے کئے گئے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت

منڈی بہاوالدین ( ایم۔بی۔ڈین نیوز 29 نومبر2019 ) ڈپٹی کمشنر مہتاب وسیم اظہر نے کہا کہ صوبائی حکومت کسانوں کی فلاح و بہبود کیلئے لا تعداد اقدامات اٹھا رہی ہے جن میں کسانوں کو بلا سود قرضوں کی فراہمی ، مشینری اور دیگر سہولیات شامل ہیں، زراعت کی ترقی اور زیادہ پیداوار کے حصول کیلئے کسانوں کو مکمل سپورٹ فراہم کی جائے تاکہ عوام کو معیاری اجناس میسر آسکیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج یہاں ڈی سی آفس میں کی زیر صدارت ضلعی ٹاسک فورس اور مشاورتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میںایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ملک غضنفر علی اعوان ، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع محمداقبال، ڈپٹی ڈائریکٹر آبپاشی، ڈی او انڈسٹریز رانا گلفام حیدر، کسان بورڈ کے نمائندوں کے علاوہ دیگر متعلقہ محکموں کے افسران بھی شریک تھے۔

قبل ازیں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع شیخ اقبال نے اجلاس کوتفصیلی پریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ محکمہ زراعت نے جولائی 2019سے لے کر اب تک ضلع بھر میں مہنگی کھاد بیچنے والوں کے خلاف کریک ڈاﺅن کرتے ہوئے 162ریڈز/انسپکشنز کیں اور70خلاف ورزیوں پر 4 ڈیلروں کے خلاف مقدمات درج کروائے 4،96،000جرمانہ کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کھاد کا وافر زخیرہ موجود ہے اور کھاد کی قلت کے کوئی امکانات نہیں ۔

شیخ اقبال نے بتایا کہ ڈی اے پی کے 94،700بیگز جبکہ یوریا کھاد کے69،500 بیگز ضلع میں موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے کھادوں کی قیمتوں کے درج ذیل قیمتیں مقرر کی گئی ہیں جس کے مطابق ڈی اے پی کھاد 3،700روپے سے لے کر 3،784روپے تک فروخت کی جارہی ہے۔ اسی طرح یوریا کھاد 2،040روپے سے لے کر2،060 روپے تک فروخت کی جاسکتی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 2019-20کے ٹارگٹ کے مطابق اب تک کسان کارڈ کے تحت ڈیش بورڈ پر53،778 کسانوں کا ڈیٹا اپ لوڈ کیا جاچکا ہے جبکہ10،110 کسانوں کو مختلف فصلوں کے حوالے سے تربیت بھی فراہم کی جاچکی ہے۔اسی طرح پانی کے مختلف 594سیمپل لے کر لیب ٹیسٹ کیلئے بھجوائے گئے ہیں ۔

انہوں نے بتایا کہ اینٹی سموگ کے حوالے سے کاشتکاروں کو آگاہی فراہم کی جارہی ہے اور 330والنٹریر کمیٹیوں نے 9،440کسانوں کوتربیتی سیشن میں آگاہی فراہم کی گئی اور 11،388لٹریچر تقسیم کئے گئے جبکہ 335مسجدوں میں اینٹی سموگ کے حوالے سے اعلانات کئے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع نے بتایا کہ گندم اور دیگر اجناس کی زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کیلئے اورکسان کوریلیف پہنچانے کیلئے زرعی قومی منصوبے کے تحت کاشتکاروںسے جلد ہی زرعی آلات کی سبسڈی کی درخواستیں وصول کی جارہی ہیں اورضلع میں گندم کا پیداواری مقابلہ بھی منعقد کیا جائے گا اور جیتنے والے کاشتکاروں میں لاکھوں روپے کے زرعی آلات بطور انعام دئیے جائیں گے۔ شیخ اقبال نے بتایا کہ مڈھ جلانے اور اینٹی سموگ کی خلاف ورزی کے 12کیس رپورٹ ہوئے جس میں سے 6کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی جاچکی ہے۔

بریفنگ سننے کے بعد اے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ زرعی شعبہ ہمارے ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسان کی خوشحالی کا مطلب ملک کی مجموعی ترقی ہے اور کسان کی خوشحالی اور زرعی معیشت کی مضبوطی لازم وملزوم ہیں۔ اس موقع پر کسان بورڈ کے نمائندوں کی جانب سے کسانوں کے مسائل اور ان کے حل کیلئے گزارشات بھی پیش کیں گئیں جس پرڈپٹی کمشنر نے جائزگزارشات کو جلد حل کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں