44

انڈے سے کام (تحریر: محمد ندیم)

 ” انڈے سے کام”

طرز تخاطب میں مثال نہیں ملتی 
تلخ نوائی کہاں سادہ لوح لگتے ہیں

تجارت میں اضافہ ہو چاہے جس طرح سودے بازی میں قلم کی مار رکھتےہیں. کرمجیت سنگھ کے ابا ممبئی میں نوکری کرتے تھے. کافی کھاتا پیتا گھرانہ تھا میرے پنڈ میں پہلا لوہے کا گھوڑا وہی لائے تھے کرمجیتے کو بڑی دیر بعد پتا چلا اس کو سائیکل کہتے ہیں. پورا پنڈ اس کو دیکھنے آیا تھا.اس پنڈ میں مسلمان ہندو اور سکھ  رہائش پذیر تھے. اس وقت تو شاید ایمان سلامت تھے1947 کے بعد  پاکستان قائم ہونے کے بعد پنڈ کے نزدیک منڈی شہر میں کاروباری حضرات نے بڑی ترقی کی  پاس پڑوس کے سارے لوگ اپنی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے اس شہر کا رخ کیا کرتے عام طور پر پینڈو مشہور لوگ شہر سے خریداری کر کے خوشی محسوس کرتے.

ساری تمحید کے بات قلم کار جو اہم بات کی طرف قارئین کو لانا چاہتا ہے وہ ہمارے معاشرے کی معاشرتی موت ہے. مجموعی طور پر ہم مردہ ضمیر ہو ہی چکے ہیں جن میں سے چند مثالیں دینا چاہوں گا. گاؤں کی خواتین شہر میں شاپنگ کرتے ہوئے  دوکاندار سے مختلف اشیاء کی سودے بازی کے بعد دام کم کرانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں.  پندرہ سو کا سوٹ بارہ سو  میں لے آتی ہیں..  دوکاندار بل میں وہی سوٹ پچیس سو ڈال کر دونمبری کی اعلی مثال قائم کرتا ہے.. 

سادہ لوح خواتین سارے مال کا شاپر پکڑے ڈبل قیمت کے ساتھ گھر وارد ہوتے ہی اپنی کامیابی کے قصے سناتی ہیں. بل دیکھنا گوارا نہیں کرتیں. دوسری مثال میں یہ سامنے رکھتا ہوں. ہارڈویئر کی دوکان پر آپ کو کسی بھی چیز کے کم ریٹ بتا کر بل میں  ڈبل ڈال کر آپ کی جیب کے سرے چڑھے گا.. 

آگے چلتے ہیں کہاں کہاں عوام دکانداروں کی چکی میں پس رہے ہیں. تھوک دکاندار  بل میں 80 روپے کو 800 بنانے میں دیر نہیں لگاتے ایک صفر کا فرق بہت سے غریب اور سفید پوش افراد کو تباہ کر کے رکھ دیتا ہے. گاؤں کے لوگوں کو عموماً حساب کتاب کا علم نا ہونے کے برابر ہوتا ہے اس لئے ان کو دکاندار کا بنایا بل پڑھنا مشکل ہوتا ہے. جس کی وجہ سے شہری دکاندار ان کو تسلی سے لوٹ رہے ہیں.. کوئی سمجھدار بندا ان کی چالاکی کو پکڑ لے تو اوہ غلطی ہوگئی.   چپکے سے دم بچا کر نکل جاتے ہیں. 

یہ بالکل حقیقت پر مبنی بات ہے  کہ تجارتی لوگ جان بوجھ کر یہ ڈرامہ بازیاں کرتے ہیں اور صفائی کے ساتھ عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈالا جا رہا ہے.. گاؤں کے لوگوں کے ساتھ ساتھ  شہری علاقوں کے پوش لوگ بھی اسی قسم بیماری کا شکار ہیں کیونکہ وہ بھی بل دیکھنا پسند نہیں کرتے.. ہماری پیاری عوام جب بھی کہیں سے بھی کوئی  بھی خریداری کرے تو ہر چیز کی قیمت بل پر علیحدہ علیحدہ  چیک کرے ورنہ ان کے ساتھ وہی سلوک ہو گا حکومتیں اپنے ملک کے ساتھ باقاعدہ برتاؤ کر رہی ہیں.. نہیں تو عوام پر محاورہ صادق آتا  انڈے سے کام مطلب  اپنا کام نکلواؤ چاہے کوئی مرے یا جئیے

تحریر: محمد ندیم اختر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں