120

منڈی بہاؤ الدین سے لاہور تک “تحریر: محمد سعید اظہر”

سروسز اسپتال کے بلاک سی، سیکنڈ فلور کمرہ نمبر 3میں مَیں اس وقت صاحبِ فراش ہوں۔ میری بیماری کی شروعات جولائی 2018ء میں ہوئی تھی، مدت کا اندازہ خود ہی لگایا جا سکتا ہے۔ بیماری کے دوران میں جن کیفیات یا حالات سے میں گزرا یا گزر رہا ہوں وہ اپنی جگہ لیکن کچھ ایسے انکشافات سے مجھے ضرور دلچسپی ہے، جن کا تعلق ابدی اقدار سے ہے۔ لگتا یوں ہے یہ ابدی اقدار ویسی کی ویسی ہی رہتی ہیں مگر ان کی اطلاقی پوزیشن بدل جاتی ہے۔ مثلاً قوتِ ارادی ایک ابدی سچائی ہے لیکن اس کے اطلاق کی وہ پوزیشن اس آدمی پر نہیں رہتی جو سوا سال سے صاحبِ فراش ہو۔ ہر شخص کی اپنے اپنے پس منظر میں یہی کہانی ہے۔ مثلاً وہ شخص جو چل پھر رہا ہے، زندگی کی تمام سرگرمیوں میں، تمام تر مسائل کے باوجود حصہ لے رہا ہے، کھانا پینا نارمل ہے، نیند نارمل ہے اور زندگی کی تمام سرگرمیوں میں کسی نہ کسی طرح انجوائے منٹ حاصل کرتا ہے، اس کے مقابلے میں وہ شخص بہرحال اس قوتِ ارادی کے معاملے میں سو فیصد ایک مختلف تجربے سے گزرتا ہے یعنی وہ نہ پھدک پھدک کر کھا سکتا ہے، نہ چپڑ چپڑ باتیں کرکے دوسروں کو بیماری میں دماغی قوت سے کام لینے کے فوائد سے آگاہ کرنے کی عیاشی کر سکتا ہے، مگر یہ اپنا اپنا نقطہ نظر ہے، ضروری نہیں ہر کسی کو اس سے انصاف ہو۔

میں نے ’ منڈی بہائو الدین سے لاہور تک‘‘ کی آخری قسط غالباً ستمبر 2019ء میں لکھی تھی، آج بیماری کے باعث تیسری قسط لکھنے جا رہا ہوں یعنی نومبر 2019ء میں، مدت کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔ رسول حمزہ توف میرے محبوب قلمکار ہیں، وہ ایک جگہ رقمطراز ہیں، یہ ایک لوک کتھا ہے۔ آپ بھی سنتے جائیں۔

کہانی یوں ہے کہ ایک بار ایک چڑیا کو پنجرے میں بند کر دیا گیا، چڑیا پنجرے میں رات دن چلایا کرتی ’’میرا وطن، میرا وطن، میرا وطن‘‘ بالکل اسی طرح ان برسوں میں وطن، وطن کی رٹ لگائے رہا۔ ایک دن اس چڑیا کو پکڑنے والے نے سوچا، آخر اس چڑیا کا وطن ہے کہاں اور کس قسم کا ہے؟ یقیناً وہ کوئی خوبصورت وادی اور سرسبز و شاداب پہاڑ ہوگا جہاں خوبصورت اور قد آور درخت ہوں گے اور ایسی خوبصورت چڑیاں ہوں گی جو فردوس ہی میں دیکھی جا سکتی ہیں، میں چڑیا کو آزاد کر دوں گا اور اس کا پیچھا کروں گا اور یوں اس خوبصورت وادی تک پہنچ جائوں گا، اس نے پنجرے کا دروازہ کھول دیا اور اسے اڑ جانے دیا۔ چڑیا اڑ کر دس قدم گئی اور پھر ایک روڑی سی جھاڑی پر جا بیٹھی جو ننگی بُچی پہاڑی پر اُگی ہوئی تھی، اُسی جھاڑی کی کسی شاخ پر اس کا گھونسلہ تھا۔ میں بھی اپنے پنجرے کی تیلوں سے اپنے وطن کو دیکھتا رہتا ہوں۔

’’تو پھر آپ اپنے وطن کیوں نہیں لوٹنا چاہتے؟‘‘ میں نے پوچھا

’’اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ جب میں نے وطن چھوڑا تھا تو میرے پہلو میں ایک جوان دل تھا جس میں ایک جوالا بھڑک رہا تھا اور اب میں محض اپنی بوڑھی ہڈیاں لے کر اپنے وطن کس منہ سے جائوں گا؟‘‘

پیرس سے واپسی پر میں نے مصور کے عزیزوں کو تلاش کیا۔ مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ اس کی ماں ابھی تک زندہ ہے۔ مصور کے عزیز افسردہ چہروں کے ساتھ گائوں کے ایک مکان میں میرے اردگرد جمع ہوئے، اپنے اس سپوت کی کہانی سننے کے لئے جس نے ہمیشہ کے لئے اپنا وطن چھوڑ دیا تھا اور ایک دوسرے ملک میں رہائش اختیار کر لی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ انہوں نے وطن چھوڑنے کا قصور معاف کر دیا تھا اور یہ جان کر ان میں مسرت کی ایک لہر دوڑ گئی تھی کہ ان کا کھویا ہوا بیٹا زندہ ہے۔

اچانک اس کی ماں نے مجھ سے ایک سوال کیا ’’اُس نے تم سے بات چیت تو ’’آوار‘‘ زبان میں کی ہو گی نا؟ (اُس وطن کی مادری زبان کا نام ’’آوار‘‘ تھا)

’’نہیں! ہم نے ترجمان کے ذریعے بات چیت کی۔ میں روسی بول رہا تھا اور آپ کا بیٹا فرانسیسی‘‘ میں نے جواب دیا۔

ماں نے چہرے پر سیاہ نقاب ڈال لیا، جس طرح ہمارے پہاڑوں میں بیٹے کی موت کی خبر سن کر مائیں کیا کرتی ہیں۔ اوپر چھت پر بڑی بڑی بوندیں گر رہی تھیں۔ ہم آوارستان میں تھے، غالباً بہت دور دنیا کے اُس سرے پر داغستان کا وہ بیٹا بھی جو اپنے قصور پر نادم تھا، برستے پانی کی آواز سن رہا ہوگا۔ ’’رسول تم سے غلطی ہوئی‘‘ ایک طویل خاموشی کے بعد ماں نے کہا۔

’’میرے بیٹے کو تو مرے ہوئے ایک مدت ہو گئی۔ جس سے تم ملے وہ میرا بیٹا نہ تھا کیونکہ میرا بیٹا اس زبان کو کبھی نہیں بھلا سکتا جو میں نے، ایک ’’آوار‘‘ ماں نے اسے سکھائی تھی‘‘۔

لیکن میری بوڑھی ہڈیوں کی داستان اپنی تمام تر دل خراشیوں کے باوجود کچھ نہیں بہت مختلف ہے۔ نہ تو میں اپنے شہر منڈی بہائو الدین کی کسی سوکھی بُچی جھاڑی پر بیٹھا ہوں اور نہ ہی ابھی میرے شہر کے کسی درخت کی کوئی سرسبز شرح سوکھی بُچی شاخ میں تبدیل ہوئی ہے، آج جبکہ میں نومبر 2019ء کے آخری حصے میں اپنی خود نوشت ’’منڈی بہائو الدین سے لاہور تک‘‘ کی کہانی رقم کر رہا ہوں، میرا سارا شہر سرسبز ہے، البتہ صاحبِ فراش ہونے کے ناتے میری ہڈیاں ضرور بوڑھی ہو گئی ہیں لیکن منڈی بہائو الدین کے چاروں اطراف اور اوپر تلے پھیلی ہوئی ہریالی کے باعث ان بوڑھی ہڈیوں کی مچھلیاں پھڑکتی رہتی ہیں اور میں اپنے شہر کے ایک ایک ذرے کو ہریالی میں ڈوبا دیکھتا ہوں، ہریالی بھی ایسی جس میں زندگی تھرتھراتی، قلقاریاں مارتی، قہقہے لگاتی اور اٹھکیلیاں کرتی ہے۔میں خود کو ’’منڈی بہائو الدین سے لاہور تک‘‘ کی اس تیسری خود نوشت قسط میں اپنے شہر کی اس ہریالی میں قلانچیں بھرتا محسوس کرتا ہوں اور آپ کو ان قلانچوں کی شوخیوں میں جبراً بھی حصہ دار بنائے بغیر نہیں رہوں گا۔

تو آپ کو عرض کرتا ہوں۔ جب آپ میرے شہر ’’لاہور‘‘ سے میرے ’’وطن‘‘ منڈی بہائو الدین جاتے ہیں تو آپ کو کوئی بھی آپ کا دوست بتا سکتا ہے، یہ ’’ایم بی ہائی اسکول منڈی بہائو الدین‘‘ تھا، ’’یہ گمٹی چوک ہے‘‘، یہ ’’جامع مسجد چوک ہے‘‘، یہ ’’چھوٹی مسجد‘‘ کا چوک ہے، اِسے ’’گڑھا باغ‘‘ کہتے ہیں، اس کے سامنے یہ ’’تھانہ ہے‘‘، یہ ’’عید گاہ‘‘ ہے، اس میں دو کشمیری نژاد (غالباً) تنہا دو بابے رہتے تھے جو ہر ہفتے منڈی بہائو الدین کے چھوٹے بازار سے ہفتہ بھر کا سودا سلف لے آتے، خود ہی کھانے بناتے اور یونہی اس عید گاہ کے برآمدے میں غالباً انہوں نے زندگی بتا دی ہو گی چونکہ میں تو 62ء میں اپنے وطن ’’منڈی سے اپنے شہر لاہور‘‘ کی مہاجرت میں آ بسا تھا ہاں اس شہر نے اپنی سماجی وسیع الظرفی کے باعث البتہ مجھے اپنی ’’شہریت‘‘ دیدی جس کے لئے میں آپ کے اس شہر کا شکر گزار ہوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں