45

بھارت میں بابری مسجد کیس کا فیصلہ آج سنایا جائیگا

بھارتی سپریم کورٹ آج بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنائے گی جب کہ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کےلیے حکومت نے سیکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے ہیں۔

بھارتی سپریم کورٹ نے ایودھیا کے معاملے پر 16 اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

فيصلے کے موقع پر رياست اترپرديش ميں تمام تعليمی ادارے بند رہيں گے۔ مہاراشٹرا، کرناٹک اور گجرات سميت بھارت کی متعدد ریاستوں میں اضافی سیکیورٹی تعينات کر دی گئی ہے۔

اتوار 17 نومبر کو جج کی ريٹائرمنٹ کے باعث کيس کا فيصلہ آئندہ ہفتے سنايا جانا تھا مگر پھر اچانک تاريخ تبديل کر دی گئی۔

تین سال قبل بھارتی سپریم کورٹ نے ایودھیا میں بابری مسجد کیس میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینیر لیڈر لال کرشن ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی سمیت مختلف رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ سازش رچانے کا مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔

 مئی 2011 میں الہٰ آباد ہائی کورٹ نے 2.77 ایکڑ متنازعہ زمین کو تین فریقوں رام للا، نرموہی اکھاڑہ اور سنی وقف بورڈ میں برابر تقسیم کرنے کا حکم دیا تھا جس کو سپریم کورٹ نے معطل کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ 6 دسمبر 1992 کو ايودھيا ميں بابری مسجد کو شہيد کيا گيا تھا اور اس کی جگہ مورتياں نصب کر دی گئی تھيں۔ مرکزی حکومت نے تحفظ کے نام پر يہاں قبضہ کرليا تھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں