37

شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال ؒ کا 142واں یوم ولادت آج منایا جا رہا ہے

اسلام آباد / سیالکوٹ: شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال ؒ کا 142واں یوم ولادت آج (9 نومبر) منایا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر علامہ اقبال ؒ کا 142واں یوم ولادت آج منایا جا رہا ہے، لاہور میں مزار اقبال پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب ہوئی۔ ولادت اقبال کے حوالہ سے ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں سیمینار، مباحثوں اور سکولوں اور کالجوں میں خصوصی تقریبات کا انعقاد ہوگا، ریڈیو، ٹی وی پرخصوصی پروگرام نشر و ٹیلی کاسٹ ہوں گے۔

شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال ؒ برصغیر کے عظیم فلاسفر تھے جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں میں اپنی شاعری کے ذریعے بیداری پیدا کی۔

کراچی /  اسلام آباد: صدرپاکستان ڈاکٹرعارف علوی اور وزیراعظم عمران خان کی جانب سے شاعر مشرق علاقہ اقبال کو ان کی یوم پیدائش پرخراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔

صدرپاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے شاعر مشرق علاقہ اقبال کے یوم پیدائش پر پیغام میں کہا کہ عظیم مفکر، فلسفی اور شاعر علامہ اقبال کوان کی یوم پیدائش پرخراج عقیدت پیش کرتا ہوں، آج کا دن انکے خودی کے پیغام پرعمل پیرا ہونے کا عہد کرنے کو موقع ہے۔ صدرعارف علوی نے کہا کہ علاقہ اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونکی، علاقہ اقبال نے بر صغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک نئے وطن کا نظریہ دیا، برصغیر کے مسلمان علاقہ اقبال کی انمول خدمات کے لیے ہمیشہ انکے شکر گزار رہیں گے۔

عارف علوی نے کہا کہ عظیم مفکرکے کام پرپوری دنیا کے لوگوں نے تحقیق کی اور اسکو سراہا، آج ہمیں مسائل سے نمبرد آزما ہونے کے لیے انکے فکروقول پرعمل کرنا ہوگا اوراندرونی اختلافات بھلاکرپاکستان کو درپیش مسائل کے حل کے لیے محنت کرنا ہوگی۔

وزیراعظم عمران خان نے یوم اقبال کے موقع پر قوم کے نام پیغام میں کہا کہ آج شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے یوم پیدائش کے موقع پر پوری قوم اور ملت اسلامیہ مفکراسلام کو بھرپور خراج عقیدت پیش کرتی ہے، علامہ محمد اقبال کی شخصیت نے ایسے وقت میں مسلمانان بر صغیر کو ایک آزاد اور خودمختاراسلامی فلاحی ریاست کے قیام کا راستہ دکھایا، جب وہ غلامی کے اندھیروں اورہندو اکثریت کے ظلم ونا انصافی کا شکارہوکرمنزل کا سراغ کھوبیٹھے تھے، علامہ محمد اقبال کے افکار نے مسلمانوں میں امید کی وہ شمع روشن کی جس کی روشنی سے منزل کا تعین ہوا۔

وزیراعظم نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی عظیم قیادت میں برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے بے شمار قربانیاں دے کر دنیا کے نقشے پر ایک آزاد اور خودمختار مسلم ریاست کا قیام ممکن بنایا، امت مسلمہ کو درپیش مختلف مسائل کی نشاندہی کرنے اور ساتھ ہی ان مسائل کا حل آپ کے شہرہ آفاق شعری مجموعوں اور کلام میں پنہاں ہے جب کہ آپ کاخودی کاتصور مسلمان کوبحیثیت مومن انفرادی اور اجتماعی طورپراس قدرقوت بخشتا ہے جس کی بدولت دنیا میں عمل کے ذریعے فلاح اور ملت کو اقوام عالم میں سنہری مقام حاصل ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں