198

قائداعظم کا سیکیورٹی گارڈ 110 سال کی عمر میں چل بسا

میانوالی کے رہائشی بابا شیر محمد 110 سال کی عمر میں طویل علالت کے بعد گزشتہ رات انتقال کرگئے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں دوران ملازمت پولیس میں اڑھائی ماہ قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ بطور گارڈ گزارے۔

لگ بھگ 110 سال عمر پانے والے قائد کے سپاہی بابا ملک شیر محمد اعوان کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی علاقہ داؤدخیل میں ادا کردی گئی۔ نمازِ جنازہ پیر سید بشیرالحسن گیلانی نے پڑھائی۔ نمازِ جنازہ میں سینکڑوں علاقہ مکینوں سمیت پولیس کے آفیسران، سماجی و صحافتی و مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔ مرحوم کو گرڈاسٹیشن ماڑی کی مغربی دیوار سے ملحق فاروق آباد کے قبرستان میں سپردِخاک کردیا گیا۔

اپنی زندگی میں ایک بار مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ قیام پاکستان سے قبل قائداعظم، نہرو اور گاندھی کے لاہور سے براستہ اٹک پشاور اور افغانستان دورے کے موقع پر آئی جی نے سیکورٹی اہلکاروں میں انہیں بھی شامل کیا گیا۔

تینوں راہنماؤں کو افغانستان سے واپسی پر دوبارہ بارڈر پر ہم نے سیکورٹی دی تھی۔ قیام پاکستان سے قبل انگریز آئی جی بینٹ کے ساتھ بھی ملک شیرمحمد نے سیکورٹی کے فرائض سرانجام دیے تھے۔

جب قائداعظم مہاجرین کی دیکھ بھال اور ان کی منتقلی کے انتظامات دیکھنے دو اڑھائی ماہ کے لیے لاہور آئے تو اُس وقت شیر محمد اعوان کی ڈیوٹی بطورِ سیکورٹی گارڈ قائد کے ساتھ لگائی گئی۔ محترمہ فاطمہ جناح بھی قائد کے ساتھ تھیں۔ ان دنوں قائداعظم فجر کی نماز پڑھتے اور کیمپ جاکر مہاجرین کی ڈھارس بندھاتے۔

ملک شیر محمد نے اپنے انٹرویو میں بتایا تھا کہ 1971 میں جب حالات بہت خراب ہوگئے تو بنگلہ دیش سے شیخ مجیب الرحمن کو گرفتار کرکے کراچی لایا گیا۔ ہم انہیں کراچی سے لینے گئے تھے۔ پہلے منٹگمری لائے، پھر فیصل آباد جیل منتقل کردیا۔ پھر میانوالی جیل اور یہاں سے چشمہ ریسٹ ہاؤس منتقل کردیا گیا۔ چشمہ منتقلی کے موقع پر راستے میں شیخ مجیب نے مجھے کہا کہ رات کی تاریکی میں مجھے کہاں لے جارہے ہو۔ آپ نے مجھے پھانسی تو دینی ہی ہے۔ میں نے انہیں حوصلہ دیا کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ آپ کی سیکورٹی کے لیے منتقل کیا جارہاہے۔

سابق گورنر مغربی پاکستان نواب آف کالاباغ ملک امیرمحمدخان سے ایک ملاقات کے موقع پر نواب صاحب نے کہا کہ شیرمحمد میں نے حکومت کی نوکری کرکے اچھا نہیں کیا۔ نوکری اور نوابی کا کوئی جوڑ نہیں۔

قائد کے سپاہی ملک شیرمحمد کہا کرتے تھے کہ نواب آف کالاباغ کی فیملی نے اُن کا ہر موقع پر خاص خیال رکھا۔ بابا شیر محمد قائداعظم محمدعلی جناح کے ساتھ گزارے تقریبت اڑھائی ماہ کی بطور سیکورٹی گارڈ ڈیوٹی کو اپنی زندگی کا ایک نایاب اثاثہ سمجھتے تھے۔

اپنی زندگی میں بابا شیر محمد 14 ہزار روپے پنشن لے کر گزارہ کر رہے تھے۔ علالت کے آخری دنوں میں جب شدید بیماری میں ڈی ایچ کیو ہسپتال میانوالی لائے گئے تو اسپتال میں ان کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا جس پر ڈی سی ڈاکٹر ناصر محمود بشیر نے میڈیا کی نشاندہی کے بعد بابا شیر محمد کو اسپتال میں بنیادی سہولیات مہیا کرنے کا حکم دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں