62

پاکستان پیپلز پارٹی کے راہنما قمر زمان کائرہ کا پھالیہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب۔ سخت تنقید کرتے ہوئے حکومت کو ناکام ترین حکومت قرار دے دیا

منڈی بہاؤالدین ( طلعت محمود ) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے پھالیہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پر تنقید کے خوب نشتر چلائے. انہوں نے حکومتی پالیسیوں پر شدید اختلاف کرتے ہوئے موجودہ حکومت کو ناکام ترین حکومت قرار دیا. انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی عوام مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہے۔ مگر حکومت کو کوئی فکر نہیں۔

بے روزگاری میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ نوکریوں کے خواب دیکھانے والی حکومت اب نوجوانوں کو بے روزگار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا منی لانڈنگ کے کیس بنانے والی حکومت بتائے کہ اب پیسہ باہر نہیں جا رہا؟ ایف بی آر کا چیئرمین تسلیم کر رہا ہے کہ اب بھی اربوں روپیہ باہر جا رہا ہے مگر حکومت خاموش ہے.

قمرالزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کا کاروباری طبقہ پریشان ہے۔ کاروبار ختم ہو چکاہے اس حکومت کا صرف ایک ہی کام ہے کہ ہر بات پر یو ٹرن لینا۔کب تک یو ٹرن لو گے خان صاحب عوام کو سچ بتائیں کائرہ نے اپنے دور کو سہنری الفاظ میں یاد کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے دور میں کاروبار بھی تھا نوکریاں بھی تھیں۔ اور غریبوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے ریلیف دیا جاتا تھا مگر اس حکومت نے بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کو صحت کارڈ میں بدل کر اپنی کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے۔

انہوں نے کہا ہم نے اپنے دور میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی گی۔حکومت کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم پر قرضوں کا الزام لگانے والے ایک سال میں گیارہ ہزار ارب ڈالر قرض لے چکے ہیں۔ یہ حکومت نالائقوں کی حکومت ہے ایک سال پچیس لاکھ افراد بے روزگار ہو گئے۔قمر الزمان کائرہ نے جوش خطابت میں کہا کہ پاکستان کا تاجر وزیراعظم سے نہیں آرمی چیف سے ملاقات کرکے اپنے مسائل بتا رہا ہے۔ ذوالفقار بھٹو۔ بینظیر بھٹو اور بلاول کا قصور یہ ہےکہ وہ سول سپر میسی کے حامی ہیں۔۔

کشمیر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے عوام سے بولا کہ مودی نے الیکشن کمپین میں کہا تھا ہم کشمیر کو اپنا حصہ بنائیں گے اس وقت یہ حکومت سو رہی تھی ۔اقوام متحدہ میں کشمیر کے معاملے پر ہمارے ساتھ کوئی ملک کھڑا نہیں ہوا۔ اقوام متحدہ میں بی بی شہید اور نواز شریف نے بھی کشمیر کا مقدمہ اس سے بہتر لڑا۔مودی کے لئے دعائیں کرنے والے خان صاحب کو علم تھا کہ گجرات میں کشمیر میں مودی کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے لت پت تھے مگر عالم دنیا کے سامنے اسے بے نقاب کرنے میں۔ ہم ناکام رہے ۔ہماری خارجہ پالیسی کشمیر پر مکمل ناکام رہی یہ ہمیں تسلیم کرنا ہو گا۔

انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ ہم پوچھتے ہیں عالمی منڈی میں تیل گیس کی قیمتیں کم پاکستان میں زیادہ کیوں تمام سبسڈیز ختم کر کے معیشت پر قابو کیوں نہیں پایا جا سکا کسانون کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کسان کو فصلوں کی قیمت ادا کی آپ نے کیا کیا؟ موجودہ حکومت اب تک گیارہ ہزار ارب ڈالر قرضہ لے چکی ہے ۔ الیکشن سے قبل عمران خاں کا دعویٰ تھا کہ حکومت چلانے کیلئے انکی ٹیمیں تیار ہیں بتایا جائے کہاں ہیں وہ ٹیمیں عمران خاں بتائیں کہاں ہے انکی سول حکومت۔حکومت کے جانے یا آنے کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے اداروں نے نہیں ۔

قمر الزمان کائرہ نے کہا اگر مارشل لاء مسائل کا حل ہوتا تو ضیاءالحق اور مشرف کے دور میں حل ہو چکے ہوتے تقریب کے آخری الفاظ پر انہوں نے کہا چین پاکستان کا دوست ہے آپ کی پالیسیوں کی وجہ سے ناراض ہو گیا ۔ تہذیبوں کے درمیان مفاہمت بات کرنے والو بی بی شہید اس کتاب لکھ چکی ہیں ۔ خان صاحب نے اقوام متحدہ میں پوری تقریر میں فلسطین کا نام تک نہیں لیا ۔صحافیوں کے اک۔سوال کے جواب میں انہوں نے کہا بی بی شہید نے میثاق جمہوریت کیا جس کیوجہ سے آج جمہوریت موجود ہے ۔

آصف زردای کیخلاف صرف ڈیڑھ کروڑ روپے کا ریفرنس ہے ۔ عمران خان آپ کی خواہش پر اپوزیشن جیلوں میں رہے تو یہ احتساب نہیں انتقام ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کا مارچ کا فیصلہ ذاتی ہے بلاول بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی بھی سندھ سے مارچ کا اعلان کریگی خان صاحب آپ اپوزیشن کو کنٹینر دینے کا وعدہ کیا تھا اب یو ٹرن نہ لینا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

پاکستان پیپلز پارٹی کے راہنما قمر زمان کائرہ کا پھالیہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب۔ سخت تنقید کرتے ہوئے حکومت کو ناکام ترین حکومت قرار دے دیا” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں