77

ہم انسان ہیں یا بھیڑیے؟ (تحریر: ملک رئوف زبیر)

ہم انسان ہیں یا بھیڑیے؟

چند دن پہلے منڈی بہاؤالدین شہر میں ایک انتہائی حساس واقعہ پیش آیا. ایک چھوٹی سی معصوم بچی کے ساتھ ایک باریش بزرگ کی نازیبہ حرکات کی ویڈیو سامنے آئی. ملزم تھانہ سٹی منڈی بہاؤالدین کی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا.

میں نے اس واقعہ کی نہ خبر لگائی اور نہ ہی اس پر لکھا. کیونکہ معاملہ بہت ہی حساس تھا. دوسرا اس بچی میں مجھے اپنی بیٹی نظر آئی. بیٹیاں تو بیٹیاں ہوتی ہیں. اور لوگوں کو میں نے یہ کہتے سنا ہے کہ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں. لیکن صد افسوس ہمارے معاشرے میں کتابوں میں کچھ اور لکھا ہے. ہم باتیں کچھ اور کرتے ہیں. لیکن ہمارے اعمال کچھ اور ہی ہیں. میں اس معاملہ پر لکھنا نہیں چاہ رہا تھا لیکن چونکہ بہت سے دوستوں کا اسرار ہے.

یہ بھی پڑھیں: ایم۔بی۔ڈین نیوز کی خبر پر ایکشن۔ رات گئے کمسن بچی سے بازیبا حرکتیں کرنے والا ریڑھی والا پولیس کی گرفت میں۔ اقرار جرم بھی کر لیا۔ ویڈیو دیکھیں

والد نے گھر چلانے کے لیے کچھ نہ کچھ کرنے کے لیے باہر دن گزارنا ہوتا ہے. اس کے بعد زمہ داری والدہ کی ہوتی ہے. والدہ کو چاہیے چاہیے بیٹی ہو یا بیٹا اس پر توجہ دیں. جب ہم والدین بن جاتے ہیں تو ہماری زمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں. بچوں کو خاص طور پر بچیوں کو اکیلا کسی جگہ نہ بھیجیں. حتی کہ کزن وغیرہ کے ساتھ بھی نہ بھیجا جائے. کیونکہ ہمارے معاشرے میں انسانیت کی جگہ درندگی نے لی ہوئی ہے.

میں اب یہ کہہ کر اس بات سے فارغ نہیں ہونا چاہتا کہ آپ لوگ بھی اپنے اردگرد معاشرہ کا خیال رکھیں،ایک زمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں. بلکہ میں اس سے کچھ آگے کی بات کرنا چاہوں گا.
اگر ہم اپنے بچوں کی جوان ہوتے ہی شادیاں کر دیں. ہم بچوں کے میچور ہونے، اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے، مکان بننے اور سونا، جہیز جیسے معاملات کو لے کر بڑی عمر میں شادی کر رہے ہیں. اس سے کیا ہوتا ہے. ہم زناء کو فیزیکلی جنم دیتے ہیں. کوئی ایک آدھ واقعہ منظر عام پر آ جاتا ہے لیکن کتنے ہی واقعات ایسے ہوتے ہیں جن کا کسی کو کان و کان علم نہیں ہوتا. دیر سے شادی سے ہم گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کلچر کو موقع دیتے ہیں.

اس کے بعد جو شادی شدہ حضرات بھی ایسے واقعات کا حصہ بنتے ہیں. ان میں واقعات میں میں ان کی بیویوں کو بھی برابر کا جرم وار سمجھتا ہوں. کیونکہ جب ایک بیوی اپنے شوہر کو پراپر ٹائم نہیں دیتی تو ہی کچھ مزید کہ گنجائش بنتی ہے.

ہمیں بحیثیت قوم اگر ایسے دل دہلا دینے والے واقعات کی روک تھام کرنی ہے تو ہمیں مل بیٹھ کر کچھ ایسے قوانین واضح کرنے ہونگے جن سے ہمارے معاشرے میں بہتری آئے. ہمارے بچے درندگی سے محفوظ رہیں. دعا گو ہوں کہ ہمارے جنسی درندوں کو بھی اللہ پاک ہدایت نصیب فرمائے اور ہمیں اپنے بچوں کے لیے پاک صاف معاشرہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے. آمین.

پلیز منفی کو ترک کر کے مثبت کی طرف سفر شروع کریں. زمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں.

تحریر : ملک روف زبیر
سیکرٹری اطلاعات
ڈسٹرکٹ پریس کلب منڈی بہاؤالدین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں