342

جانے دونا، سونے دو (تحریر: محمد ندیم )

جانے دونا،سونے دو (تحریر: محمد ندیم )

اجی سنتے ہو منّے ک ابا منّا تین سال کا ہو گیا ہے.  بہت شرارتی ہو گیا ہے۔ سارا سارا دن چین ہی نہیں لینے دیتا میں کہتی ہوں  اس کو سکول ہی داخل کروا دیں.. خیر سے دوسرا جی بھی آنے والا ہے  تھک جاتی ہوں منّے کو سنبھال سنبھال کر۔ منَے کے ابا نیند ہی نیند میں  یہ سن کر بڑ بڑا رہے تھے. کیا مصیبت ہے  اچھا کرتا ہوں کچھ. 

منّے کے ابا منّے کوگود میں اٹھائے سڑک کنارے پرائیویٹ سکول کا انتخاب کرنے کیلئے  سکول پہنچتے ہیں. وہاں پر موجود کافی تعداد میں منَے کے ابا اور منّے موجود تھے سال کا آغاز تھا. موٹر سائیکلیں کافی تعداد میں  سکول کے گیٹ کے سامنے پوری سڑک کو بلاک کیے کھڑی تھیں. 

پورے علاقے کے منّے اور منّیاں مختلف سکولوں میں  قائم نرسری میں اضافہ کا باعث بننے جا رہے تھے..  یہ سکول اچھا ہے  دوسرے پنڈوں سے کافی داخلے آگئے۔ سال شروع میں منّے کے ابا موٹر سائیکل پر چھوڑ دیا کرتے تھے مگر اب وین لگوا دی ہے.  پڑوسیوں کے بچے تو رکشوں میں جاتے ہیں. بڑے بھائی بھی موٹر سائیکل پر ایک آدھ کو چھوڑ دیا کرتے ہیں.. 

صورتحال تبدیل ہوتی ہے تشویش ناک حالت میں تبدیلیاں آتی ہیں  جب سکول سے چھٹی ہونے والی ہوتی ہے.. موٹر سائیکلیں  سکول وین اور رکشہ  سڑک بیچ و بیچ لائن بنا کر چھٹی ہونے کے انتظار میں ٹیں ٹیں. پوں پوں وجاتے اپنی موجودگی کا انکشاف کرتے ہیں. 

اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے  جب چھٹی ہوتی ہے تو ان تین تین سال کے بچوں کا کوئی  وارث نظر نہیں آتا. سکول والے ان بچوں کو گیٹ سے نکال کر فارغ ہو جاتے ہیں پھر یہی بچے بے ہنگم ہجوم کی طرح موٹر سائیکل اور وینز کی طرف  دوڑتے ہیں. گاؤں کی سطح پربھی سڑکیں بلاک ہو جاتی ہیں.. 

سکول گیٹ سے لے کر گاڑی  تک اتنے چھوٹے بچوں کو بحفاظت پہنچانا کس کی ذمہ داری ہے۔ بچے جب گاڑیوں میں سوار ہو جائیں  تو کس کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوبارہ گاڑی سے  نا اتریں۔ کیا وین ڈرائیور اس کا ذمہ دار ہے. 

ہمارے ملک میں  سب سے زیادہ نظم و ضبط کا فقدان ان تعلیمی اداروں کے سامنے ہی دیکھنے کو ملتا ہے. جہاں پر ہم قوم کا مستقبل تاریکی سے روشنی کی طرف لا رہے ہیں . جہاں پر قوم کو زندگی جینے کے ڈھنگ کا درس دے رہے ہیں.   میں  یہاں زیادہ تر پرائیویٹ اداروں کی  بات کر رہا ہوں  جن کا نام سن کر والدین اپنے تین سالہ بچے ان کے حوالے کر دیتے ہیں… گورنمنٹ سکول اس حوالے سے قدرے بہتر ہیں. کوئی بھی اس کا موازنہ کر سکتا ہے.. 

سب سے پہلے سکول کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کی بچوں کو بحفاظت  ان کی سواری تک پہنچائے  پھر  اس وین ڈرائیور کو ذمہ دیا جائے.. یہ سکول کا ہی کام ہے کہ بچوں کو لینے آنے والے والدین  اور گاڑیوں کے لئے  مناسب جگہ کا انتخاب اور انتظام کرے. اس معاملے کے انتظامی امور پر بھی  آخری بچہ نکلنے تک خیال رکھے  .یہاں پر چھٹی کے ٹائم پر  بچوں کا سکول سے نکلنے کا انداز اور سکول کے باہر بےہنگم پارکنگ کسی بھی تعلیمی ادارے کو زیب نہیں دیتا… بلکہ یہی بے ترتیبی  انہونے حادثات کا سبب بنتی ہے. 

خدارا والدین اپنے پھولوں کو وین ڈرائیور  کی ذمہ داری پر ہی نا چھوڑیں اور سکول بھی  اپنی ذمہ داریاں نبھائیں جہاں سے بچے سیکھ کر نکلتے ہیں.  

قلم کار کہنا چاہتا ہے کہ  سکول انتظامیہ  صرف  دو دن چھٹی کے وقت باہر نظارہ کرے  سب سمجھ آ جائے گی. 

نہیں تو جانے دو نا، سونے دو

محمد ندیم اختر 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں