94

محرم الحرام ، قابل تحسین اقدامات ( تحریر :راجہ منصور علی خان)

محرم الحرام ، قابل تحسین اقدامات

مذہبی لحاظ سے محرم الحرام ایک مقدس مہینہ ہے۔ اسے سوگ کا مہینہ بھی کہتے ہیں۔ اسی مہینے میں واقع کربلا کے حوالے سے امام عالی مقام کی شہادت بھی ہوئی تھی۔ امام عالی مقام کی شہادت حرمت رسولﷺ کے لئے ہی تھی آپ نے چند جان نثار ساتھیوں کے ہمراہ جو قربانی دی وہ رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔ حضر ت امام حسین ؓ اپنے پیارے نانا نور مجسم سرور کائنات حضور اکرم ﷺ کے دین کا علم بلند کرنے کے لئے اپنی قیمتی جان کا نظرانہ پیش کیا اور باطل قوتوں کے سامنے کلمہ حق کہہ کر دین اسلام کی بہترین انداز میں آبیاری کی ۔آپ ؓ کی شہادت ہمیں طاغوتی و لادینی قوتوں کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتی ہے۔

امام حسین ؓ نے اسلام کی سر بلندی کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا اور ہمیں یہ درس دیا کہ اللہ تعالی کی خوشنودی ہی میں دین و دنیا کی فلاح ہے۔ اس واقع سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا بھی جہاد ہے اور یہ عملی جہاد ہے۔ اسلامی تعلیمات اور حضرت امام حسین ؓ کی شہادت والے جذبے کے فروغ سے ہی نبی نوح انسان کو اخلاقی اور روحانی طور پر بھی بدلا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ہمارے جسم کے کسی حصے میں معمولی سا درد بھی ہو تو ہم تڑپ کر رہ جاتے ہیں مگر کمال حوصلہ دیکھیے حضرت امام حسین ؓ نے سب کچھ محض اللہ تعالی کی خوشنودی کی خاطر صبر، ہمت اور استقامت دیکھائی اور ایسی قربانی پیش کی جس کی مثال تا قیامت نہیں مل سکے گی ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس لازوال قربانی سے حاصل ہونے والے سبق کو ہم یاد کریں اور اس کی روشنی میں اپنی زندگیوں کو اس طرح ڈھالیں جس سے دینوی اور اخروی کامیابی کا حصول ممکن ہو سکے۔

طاغوتی قوتوں کی ریشہ دوراینوں کے بارے میں جانے گے تو پاکستان گزشتہ چند سالوں سے غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کا شکار ہا ہے اور ملک میں جب بھی کوئی مذہبی تہوار یا کوئی موقع آتا ہے تو حکومت وقت کو فول پروف حفاظتی اقدامات کرنے پڑتے ہیں تاکہ امن و امان کو برقرار رکھا جا سکے۔ اس دفعہ بھی یوم عاشورہ کے موقع پر پاکستان بھر کے تمام صوبوں اور شہروں میں کامیاب حفاظتی اقدامات اس طرح ترتیب دیئے گئے ہیں کہ مختلف جگہوں پر برآمد ہونے والے جلوسوں مجالس ہائے اعزاءاور دیگر ماتمی تقریبات محفوظ اور کسی بھی ممکنہ خطرے کے بغیر ہی منعقد ہو سکیں۔ اس مرحلے پر وفاقی اور صوبائی حکومتیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے پر عزم ہیں کہ وہ اپنی فعال کارکردگی کے ذریعے اس مقدس ماہ کے اہم دنوں کی حرمت اور امن و امان پر کوئی آنچ نہیں آنے دینگے۔ ماضی میں دہشت گردی کے واقعات کے پیش نظر قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے شعوری طور پر اس حقیقت سے آگاہ تھے ان کی کامل ذمہ داری اور احسن طریقے سے فرض کی تکمیل سے ہی وطن کے کے باسیوں کو سکون میسر ہو گا۔

اس موقع پر صوبائی اکائیوں نے اپنے مرکزی دفاتر میں امن و امان کے نفاذ کے ضمن میں اپنے قائم کردہ کنٹرول روم کے ذریعے ان مقدس دنوں کے تقدس کو ممکن بنانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے گئے ہیں۔یوم عاشور کے موقع پر کامل امن و امان اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے نہ ہونے کا مطلب یہی ہو گا کہ متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داری کی ادائیگی میں مکمل طور پر چوکس ہیں اور یہی ان کی اصل ذمہ داری ہے ۔ان اداروں نے جس طرح گزشتہ سال یوم عاشور کے موقع پر قابل تحسین حفاظی اقدمات کئے تھے اور عوام الناس کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا تھا وہ اپنی مثال آپ ہیں۔یہی سکیورٹی ادارے اندرونی اور بیرونی چوکسی پر معمور رہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ صوبہ پنجاب میں سکیورٹی اداروں، افواج پاکستان اور پنجاب پولیس کی بہترین حکمت عملی کی وجہ سے صوبے بھر میں امن و امان کی صورت حال تسلی بخش رہی ہے۔

امسال بھی سکیوررٹی اداروں کی دن رات محنت کے نتیجے میں یوم عاشور کے موقع پر ہر جگہ صورت حال پرامن رکھنے کیلئے کاوشیں جاری ہیں ۔ سکیورٹی اداروں اور پولیس افسران کی جانب سے ہر مسلک کے پیروکاروں کو یہ بات باور کروائی گئی کہ وہ فرقہ وارانہ کشیدگی یا نفرتوں کے پرچار سے مکمل طور پر اجتناب کریں ۔ ہمیں دشمن کو ایساموقع نہیں دینا چاہیئے کہ وہ ہمارے باہمی چھوٹے موٹے اختلافات سے بڑا فائدہ اٹھاتے ہوئے اور ہمارے ہی ہاتھوں ہمارے اپنے پیاروں کا نقصان کروانے میں کامیاب ہو جائے۔ ایسے سب ادارے اور افراد تحسین کے مستحق ہیں جن کی اجتماعی، باہمی یگانگت ،کوششوںسے امن و امان کو قائم رکھنے میں تقویت مل رہی ہے ۔ یہ بات بھی اپنی جگہ واضح ہے کہ گذشتہ چند سالوں سے جیسے ہی محرم کے مہینے کا آغاز ہوتا ہے تو ملک کے بیشتر علاوقوں میں کرفیو جیسی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔ حکومت اور سکیورٹی ادارے عوام کے ساتھ مل کر ممکنہ دہشت گردی اور بدامنی کو روکنے کے لئے اپنے تمام وسائل اور صلاحیتیں بروکار لانی پڑتی ہیں۔

محرم کے دوران امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لئے ہر شہر اور صوبے سے لے کر ملکی سطح تک تمام مکاتب فکر کے علماءکے ساتھ امن کمیٹیوں کے خصوصی اجلاسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے تا کہ اجتماعی کاوشوں سے اس موقع پر فرقہ ورانہ فسادات سرنہ اٹھا سکیں۔ اگر اس سال حکومتی سطح پر محرم الحرام کے انتظامات کا جائزہ لیا جائے تو مجموعی طور پر امن و امان کی صورت حال بڑی حوصلہ افزاءجا رہی ہے۔ جس میں سکیورٹی اداروں کی کاوشیں اور علماءکرام کا مثبت رویہ اور کلیدی کردار بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ضلع منڈی بہاﺅالدین ایک پر امن ضلع ہے یہاں کے لوگ پر امن ہیں جس کی وجہ سے کبھی بھی کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ ضلع منڈی بہاﺅالدین میں 300کے لگ بھگ مجالس اور جلوسوں کا اہتمام کیا جا تا ہے ۔ ضلعی انتظامیہ ، سکیورٹی ادارے ، پولیس اور مختلف مکاتب فکر کے علماءکرام اپنی باہمی رفاقت سے امسال بھی محرم الحرام کو ماضی کی طرح پر امن بنانے کا عزم کئے ہوئے ہیںاور وہ بلا شبہ اس میں یقینا کامیاب اور سرخرو ہوں گے ۔

تحریر :راجہ منصور علی خان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں