71

ممتاز ادیب، دانشور،افسانہ نگار اشفاق احمد 15 ویں کی برسی

اردو ادب، صدا کاری اور ڈرامہ نگاری میں اشفاق احمد مرحوم کو منفرد مقام حاصل ہے۔ زندگی کو انتہائی قریب سے دیکھنے کے بعد لوگوں کو جینے کے ڈھنگ سکھانا ان کی ایک ایسی خوبی تھی جو کسی اور ادیب کے حصے میں نہیں آئی۔ اشفاق احمد کی 15 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔

اپنی ہمہ جہت شخصیت کی بدولت وہ جہانی فانی سے رخصت ہونے کے باوجود کروڑوں دلوں میں زندہ ہیں۔ نثر نگاري ہو يا ڈرامے کي کہانی، ريڈيو کی صدا کاری ہو يا ٹيلی ويژن کا پروگرام اشفاق احمد نے جس ميدان ميں بھی طبع آزمائی کی کاميابی نے ان کے قدم چومے۔

اشفاق احمد کا شمار ان اديبوں ميں ہوتا ہے جو قيام پاکستان کے فورا بعد ادب کے افق پر چھا گئے۔ انيس سو اٹھاون ميں تلقين شاہ کے نام سے ان کی آواز پہلی بار ريڈيو پاکستان سے ہوا کے دوش پر گئی اور اس پروگرام کو ايسی پذيرائی حاصل ہوئی کہ يہ سلسلہ چھيالس برس تک چلتا رہا۔ اپنے طويل کيرئير ميں اشفاق احمد نے ٹيلی ويژن کے لئے ڈرامے لکھے، جن کو بے حد سراہا گيا۔

گڈريا، توتا کہانی، اور ايک محبت سو افسانہ لکھنے والے اس ہمہ جہت شخصيت نے اپنے طويل کيرئير ميں دھوپ اور سائے کے نام سے ايک فيچر فلم بھی بنائی۔ عمر کے آخری حصے ميں اشفاق احمد صوفی ازم کي جانب مائل ہوگئے ليکن ان کے اندر کے داستان گو نے اس ميدان ميں بھی جدت تلاش کرلی۔

سات ستمبر دو ہزار چار کو داستان سرائے کا يہ مسافر اپنی ابدی منزل کو روانہ ہوگيا ليکن ان کی ياديں اور باتيں آج بھی لوگوں کو دوسروں کے لئے آسانياں پيدا کرنے کی تلقين کر رہی ہيں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں