35

یوم دفاع، شہداء وطن کو سلام (تحریر: راجہ منصور علی خان)

یوم دفاع ، شہداءوطن کو سلام

ملک بھر میں یوم دفاع و شہداء6ستمبر کو ملی جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے اس سلسلے میں ملک بھر میں سرکاری اور نجی سطح پر مختلف تقریبات کا اہتمام کیا جاتاہے۔ جبکہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی جانب سے یوم دفاع کے حوالے سے خصوصی اشاعتوں اور نشریاتی پروگراموں کا بھی اہتمام کیا جاتاہے۔ دن کا آغاز مساجد میں نماز فجر کے بعد شہداء6 ستمبر کیلئے قرآن خوانی اور ملک و قوم کی سلامتی و استحکام کیلئے خصوصی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ اس روز دفاع وطن کیلئے جانیں نچھاور کرنے والے پاک فوج کے جوانوں اور افسران کی یادگاروں پر پھول چڑھانے کی تقاریب کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔

اسی طرح یوم دفاع کی دیگر تقاریب میں جری و بہادر عساکرے پاکستان کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کی سلامتی کو درپیش نئے چیلنجز اندرونی و بیرونی خطرات کو اجاگر کرکے قوم کے سیسہ پلائی دیوار بننے کا جذبہ مستحکم بنانے کی فضا بھی استوار کی جاتی ہے۔

کہنے کو تو پاکستان ایک ایسا خطہ ہے جہاں اس وقت 22کروڑ عوام زندگی بسر کررہے ہیں لیکن اگر پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو احساس ہوتا ہے کہ یہ حقیقت میں شہیدوں کی سرزمین ہے۔ شہیدوں کی یہ سرزمین ستمبر 1965یا دیگر ہونے والی جنگوں کی وجہ سے نہیں بنی بلکہ اس خطہ زمین کو مرغزار بنانے کیلئے ہزاروں شہیدوں نے اس کو اپنے لہو سے سینچا ہے۔یہی وجہ ہے کہ 6ستمبر 1965کا دن ہماری تاریخ کا لازوال روشن اور درخشاں باب ہے۔ ہمارا ازلی اور مکار دشمن اپنے ایجنڈے پر کاربند رہتے ہوئے اب بھی گھات لگائے ہوئے ہے اور اس طرح یہ جنگ اب بھی جاری ہے۔ ہمارے شہداءکے لہو سے لکھی جرات و شجاعت کی داستانیں بتا رہی ہیں کہ دو قومی نظریہ اور وطن کی حفاظت کی قیمت چکانے کیلئے ہم اب بھی بیدار اور سینہ سپر ہیں۔

6ستمبر کی 17روزہ تاریخی جنگ کا بنیادی نقطہ کشمیر کی آزادی تھا۔ جنگ عظیم دوم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی پوری دنیا کے چونڈا کے چھوٹے سے قصبے میں دیکھی۔ جنگ میں بنیادی طور پر ہماری بہادر افواج کے تمام شعبوں نے باہم یک جان ہوکر دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔ جبکہ پاک فضائیہ اور بحریہ نے اس جنگ میں دشمن کے پانسے پلٹ کر رکھ دئےے اور ساری دنیا دانتوں تلے انگلیاں چبا کر رہ گئی۔ ہمارے شیر و دلیر جوان اور افسران شوق شہادت میں دشمن پر یوں جھپٹے کہ آج بھی رزمیہ داستان گو جب بیان کرتے ہیں تو خون ابلنے لگتا ہے۔

6ستمبر 1965کی صبح بھارت اچانک پاکستان پر حملہ آور ہوا۔ اس کا ارادہ تھا کہ وہ صبح کا ناشتہ لاہور کے جم خانہ میں کریگا۔جبکہ تاریخی طور پرمسلمانوں کے ہاتھوں بار بار رسوا ہونے کے باوجود ہندو قوم کو کبھی بھی ہوش نہیں آیا کہ جس قوم سے وہ ٹکرا رہے ہیں وہ کٹ تو سکتی ہے جھک نہیں سکتی۔ اس جنگ میں فوج نے نہ صرف اپنا تاریخی کردار ادا کیابلکہ لیکن پاکستانی قوم کا کردار بھی اپنی مثال آپ رہا۔ یہ حقیقت ہے کہ جنگ محض ہتھیاروں سے نہیں جذبوں سے جیتی جاتی ہے اور خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے یہ جذبے اب بھی پاکستانی قوم میں موجود ہیں۔ جب سے دنیا میں جدیدیت آئی ہے قوموں کی آپس میں لڑائیاں کم ہورہی ہیں۔ بالخصوص پچھلی کئی دہائیوں سے اہل یورپ نے آپس میں تعلق بہتر کرکے دفاعی اخراجات کم کر دئےے اور عوام کی بہتری پر پیسہ خرچ کرنا شروع کر دیا۔ اس لئے یہ ترقی یافتہ ملک ہیں۔ جبکہ بھارتی شرانگیزی کی وجہ سے ہمیں پہلے دن سے ہی اپنی دفاعی ضروریات کیلئے جدید ہتھیاروں کی ضرورت رہی ہے۔

پاکستانی قوم آج بھی 1965والی قوم ہے اور ہماری فوج دنیا کی ناقابل شکست فوج ہے۔ جس قوم کو سوئی تک ایجاد نہ کرنے کے طعنے دئےے جاتے تھے جب وہ کچھ کرنے پر آئی تو نا صرف اس نے جدید ایٹم بم بنا لیا بلکہ آج دنیا کا بہترین میزائل سسٹم بھی پاکستان کے پاس ہے۔ پاکستانی ہنرمند بیرون ممالک تندہی سے کام کرتے ہیں اور ہر سال اربوں ڈالر زر مبادلہ اپنے ملک میں بھیجتے ہیں پاکستانی ڈاکٹرز کی صلاحیتوں کو دنیا مانتی ہے۔ پاکستان کا کسان موسموں کی سختیاں جھیل کر پورے ملک کیلئے اناج اور دیگر اجناس پیدا کرتا ہے۔یہی نہیں بلکہ اس ملک کے نوجوانوں نے بیرونی دنیا میں زندگی کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ پچھلی ایک دہائی سے انڈیا سمیت پاکستان دشمن بیرونی طاقتوں نے ملک میں دہشت گردی کا جال پھیلایا ہوا تھا اور اس دہشت گردی کے خاتمے کیلئے جتنی قربانیاں ہماری افواج ،پولیس ،رینجرز، ایف سی ، انٹیلی جنس اداروں طالبعلموں نے دی ہیں دنیا کا کوئی ملک اور کوئی قوم اس کی مثال نہیں پیش کر سکتے۔

اے پی ایس پشاور کے بچوں کا اگر ذکر نہ کیا جائے تو پاکستان کے شہداءکی داستان مکمل نہیں ہوسکتی۔ اے پی ایس کے ان خوبصورت پھولوں کو جس طرح مسلا گیا اس کی شاید تاریخ میں بھی مثال نہیں ملتی۔ یہ حقیقت ہے کہ انہیں قربانیوں کی وجہ سے ہم آج سکھ کا سانس لے رہے ہیں اور ہم بڑے فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے شہداءنے اس ملک کی حفاظت کی خاطر اس کی سنہری تاریخ لکھنے کیلئے اپنا خون سیاہی کی جگہ پیش کیا اور اس کی عزت پر حرف تک نہیں آنے دیا۔اتنا کچھ ہونے کے باوجود یہ ملک خدا کے فضل و کرم سے اگر قائم و دائم ہے تواس کے پیچھے قدرت کی ہی منشاءہے۔

تودنیا کو بھی اس حقیقت کو مان لینا چاہیے کہ 27رمضان المبارک بروز جمعة الوداع کی بابرکت سعاعتوں میں بننے والا یہ ملک رہتی دنیا تک نہ صرف قائم و دائم رہے گا بلکہ آنی والی نسلیں جب بھی چاہیں گی اس کی وسعت اور ترقی میں اپنا کردار ادا کرینگی۔ آخر میں شہداءوطن کو اہل وطن کا سلام اے گمنام شہداءہمارا سلام ہو تم پر اے وطن کے گمنام محافظو ہمارا سلام قبول کرو آج ہمارا مقدس پاک وطن پاکستان خدا کے کرم اور تمہاری شہادتوں کے باعث شاد و آباد ہے اور ہمیشہ شادو آباد رہے گا۔

تحریر:۔راجہ منصور علی خان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں