46

ہماری سماجی ذمہ داریاں اور اسلام (تحریر:راجہ منصور علی خان )

ہماری سماجی ذمہ داریاں اور اسلام

انسان فطری طور پر اجتماعی زندگی پسند کرتا ہے۔ جب لوگ ایک جگہ اکٹھے رہیں اور ان کے زندگی گزارنے کا طریقہ بھی تقریباً ایک جیسا ہو تو ایک معاشرہ وجود میں آتاہے۔انسان کو باقی تخلیقات پر اس لیے بھی فضیلت حاصل ہے کہ اسکے پاس علم ہے اور یہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ معاشرہ بہت ساری چیزوں کا منبہ ہوتاہے ۔ اس میں اچھے لوگ اور برے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک صحت مند معاشرے کی تعریف یوں بھی کی جا سکتی ہے کہ © © © ©ایسا معاشرہ جہاں لوگوں کو اپنی ذمہ داریوںکا احساس ہو صحت مند معاشرہ کہلاتا ہے۔اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو بہت سارے معاشرتی طبقات اپنے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ، ایسا کیوں ہے؟

ایسا اس لیے ہے کہ کچھ لوگ اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہے ہوتے جسکی وجہ سے کچھ طبقات کو اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ اصل میں ذمہ داری سے مراد ہی یہ ہے کہ دوسرے لوگوں کے آپ پر حقوق ہیں۔اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو نا صرف لوگوں کے حقوق اداد کرنے کی تعلیم دیتا ہے بلکہ لوگوں کو انکی ذمہ د اریوں کا بھی احساس دلاتا ہے۔ معاشرہ کے صحت مندانہ قیام کے لیے اسلام نے حریت، مساوات ، نفع رسانی اور رواداری کے اصول پیش کیے۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق جماعت میں خیر ہے جبکہ تفرقہ میں عذاب ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے شروع سے ہی اجتماعیت کو فروغ دیا اگر ہم اسلام کے معاشرتی اصولوں اور عبادات کا جائزہ لیں تو ہمیں ہر طرف اجتماعیت کی جھلک نظر آئے گی چونکہ افراد کے مابین تعاون، ہمدردی اور باہمی محبت اور خیر خواہی کا جذبہ معاشرہ میں سیاسی استحکام ، امن و سکون اور معاشرتی ترقی کے لیے ازحد ضروری ہے لہذا اسلام نے اسے اعلٰی انسانی اوصاف کا حصہ بنا دیا۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو اور گناہ و سر کشی میں ایک دوسرے کا ساتھ نہ دو۔لہذا سلام نے اپنے پیر وکاروں پر پہلی ذمہ داری یہ عائد کی کہ وہ معاشرے میںبھلائی کے کامو ں کو فروغ دیں اور برائی کو روکیں۔ اسلام حقوق اللہ اور حقوق العبا د کا حسین امتزاج ہے۔دین اسلام نے اپنے ماننے والوںکو بہت ساری ذمہ داریاں تفویض کی ہیں ان ذمہ داریوں میں نہ صرف انسانوں کے حقوق کی ادائیگی کی بات ہے بلکہ جانوروں اور ارد گرد کے ماحول کی بھی بات کی گئی ہے۔ قرآن نے ایسے نمازیو ں کے لیے ہلاکت کی وعید سنائی ہے جو نماز کو رکوع و سجود تک محدود رکھتے ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ایسے نمازیو ں کے لیے ہلاکت ہے جو اپنی نماز سے بے خبر ہیں اور جو ریا کاری کرتے ہیں اور اشیاءضرورت کو روکتے ہیں۔اس آیت قرآنی سے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اسلام میں سماجی ذمہ داریو ں کی ادائیگی کس حد تک لازم قرار دی گئی ہے۔ اسلام نے اپنے مال کو رفاعی کاموں پر خرچ کرنے کی تاکید کی ہے چنانچہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۷۷ میں ارشاد ہوا ہے کہ نیکی یہ نہیںکہ تم مشرق ومغر ب کی طرف اپنا منہ کر لو بلکہ نیکی تو یہ ہے کہ لوگ اللہ پر، یوم آخرت پر ، فرشتوں پر ، کتابو ںاور پیغمبر وں پر ایما ن لائیں اور اس کی محبت پر اپنا مال عزیزوں ، یتیمو ں ، مسکینوں ، مسافروں اور سائلوں کو دیں © © ©۔

یہ ہماری سماجی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنا مال ناداروں ، یتیموں اور مسکینوں پر خرچ کریں۔انسانی حقوق کے حوالے سے اسلام کا تصور بنیادی طور پر بنی نوع انسان کے احترام، وقار اور سادات پر مبنی ہے۔ حضور اکرم ﷺنے خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایااے لوگو آگاہ ہو جاﺅ کہ تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ (آدم) ایک ہے اور کسی عربی کو کسی غیرالعرب پر اور کسی غیر العرب کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں۔اسلام نے تمام قسم کے امتیازات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکاہے۔

اسلام نے بنیادی طور پر انسان کو دوسرے انسانوں کے حوالے سے 6 ذمہ داریاں تفویض کی ہیں
1. آپکے ہاتھوں دوسروں کی جان کا تحفظ
2. .۔آپکے ہاتھوں دوسروں کی عزت کا تحفظ
3. .دوسروں کے ما ل کا تحفظ
4. .۔ اولاد کا تحفظ
5. .۔ روزگار کا تحفظ
6. .۔ عقیدہ/مذہب کا تحفظ


قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ جس شخص نے کسی ایک انسان کو قتل کیا ماسوائے اس کے کہ اس سے کسی جان کا بدلہ لینا ہو ، یا وہ زمین میں فساد برپا کرنے کا مجرم ہو، اس نے گو یا تمام انسانوں کو قتل کیا ©۔ یہ ہماری بنیادی ذمہ داری ہے کہ دوسروں سے جینے کا حق نہ چھینے۔ اگر ہم اس بنیادی ذمہ داری کو سمجھ لیںتو اس سے ملک میں دہشت گردی کو ختم کیا جا سکتا ہے اور تمام عالم کو امن کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔ اسلام نے اپنے پیروکاروں پر ایک ذمہ داری یہ بھی ڈالی ہے کہ وہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں اور برائی کا ساتھ نہ دیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔:اللہ کو برائی کے ساتھ آواز اٹھانا پسند نہیں سوائے اس شخص کے جس پر ظلم کیا گیا ہو۔ (نساء148-4)اگر ہم انسانی حقوق کے چارٹر کی بات کریں جو کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد تخلیق ہوا۔ اس میں وہی انسانی حقوق بیان کیے گئے ہیں جو اسلام نے چودہ صدیا ں پہلے بیان کر دیے تھے۔

اسلام نے اپنے پیروکاروں پر جو ذمہ داریاں انسانی حقوق کے حوالے سے ڈالی ہیں ان میں سے چند اہم ذمہ داریاں مندرجہ ذیل ہیں۔
1 معاشرے میں اچھے کامو ں کا فروغ۔
برائی کو روکنا۔2
بچوں سے پیار کرنا۔3
بڑوں کا احترام کرنا۔4
عورتوں کی عزت کرنا ۔5
کسی کا مال نا حق کھانے سے ممانعت ۔6
کمزور طبقات کا تحفظ۔7
ناحق قتل سے ممانعت۔8
9 قانون کا احترا م کرنا ۔

لیکن ایک طرف ہم دیکھتے ہیں کہ آج کل معاشرے میں نفسا نفسی بہت بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سے لوگ تفرقے میں پڑ گئے ہیںاور لاتعداد مسائل کا شکار ہو گئے ہیں۔ان مشکلات سے بچنے کیلئے اسلامی تعلیمات کے مطابق ہم اجتماعیت کو فروغ دے کر معاشرے کو ترقی کی جانب گامزن کر سکتے ہیں۔ اگر ہم بحیثیت مسلما ن اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں تو نا صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو امن کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔

تحریر:راجہ منصور علی خان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں