61

ای گورننس اور ای سروس ڈلیوری وقت کی ضرورت ہے (تحریر: راجہ منصور علی خان)

 ای گورننس اور ای سروس ڈلیوری وقت کی ضرورت ہے تحریر:۔راجہ منصور علی خان

اگلے روز وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر شعبہ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے زیادہ سے زیادہ فروغ سے عوام الناس کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا ہوں گی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے فرسودہ نظام کو جدت اور وسعت دی جائیگی۔

انہوں نے کہا کہ ای گورننس اور ای سروس ڈلیوری وقت کی ضرورت ہے۔ ای گورننس اور ای سروس ڈلیوری کے ذریعے نظام کوآسان ترین بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ جس سے عوام کو سہولت میسر آئیگی۔ دوران اجلاس انہوں نے کہا کہ ارفع کریم ٹیکنالوجی پارک کے ساتھ ایک اور انفارمیشن ٹیکنالوجی پارک قائم کیا جائے گا اور اس کا سنگ بنیاد رواں برس کے آخر میں رکھا جائےگا۔

اجلاس میںٹورزم ایپ بھی متعارف کروانے کا فیصلہ کیا گیا جس کے ذریعے سیاحوں کو سیاحتی مقامات کی تفصیلات اور دیگر معلومات بھی دستیاب ہونگی۔انہوں نے کہا کہ خدمت مراکز میں 12مزید خدمات کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔پنجاب کے 10مراکز میں عوام کو 31سروسز مہیا کی جارہی ہیں۔ جبکہ 27اضلاع میں مزید نئے خدمت مراکز بھی کھولے جائیں گے۔وزیر اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں مندرجہ بالا اقدامات اٹھائے جانے سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت پنجاب فرسودہ نظام کی جگہ عصری تقاضوں کے عین مطابق انفارمیشن ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کو وسعت دینے میں ناصرف گہری دلچسپی رکھتی ہے بلکہ اس کیلئے عملی اقدامات بھی اٹھائے جارہے ہیں۔ تاکہ عوام الناس کی زندگیوں میں زیادہ سے زیادہ آسانیاں فراہم کی جاسکیں اور اس عمل سے صوبہ پنجاب ترقی کے نئے دور میں داخل ہو جائیگا۔

آج کل دنیا بھر میں ہر شعبہ زندگی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جارہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت بھی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے نظام کی بہتری کیلئے کوشاں ہے۔آئی ٹی کو اطلاعاتی ٹیکنالوجی کہتے ہیں۔ اس سے مراد وہ تمام ماہرانہ طریقہ کار اور ذرائع ہیں جنہیں بروئے کار لا کر احسن طریقے سے ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے۔ ان ذرائع میں ڈاک، تار، ٹیلیفون، ٹیلی ویژن اور کمپیوٹر وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن ان تمام ذرائع میں سب سے اہم تیز اور موثر ترین ذریعہ کمپیوٹر ہے۔آج جب ہم انفارمیشن ٹیکنالوجی کالفظ استعمال کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں فوراََ ہی کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کا خیال آتا ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی ایک وسیع تاریخی پس منظر رکھتی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی روایتی تعریف کچھ یوں کی جاتی ہے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی اصطلاح سے مراد وہ ٹیکنالوجی جو کمپیوٹر ٹیکنالوجی جس میں سافٹ وئیر اور ہارڈ وئیر دونوں شامل ہیں اور ٹیلی ٹیکنالوجی ڈیٹا، تصاویر اور آواز وغیرہ کو نیٹ ورکنگ کی مختلف اقسام کے ذریعے آپس میں مربوط کرنے والی ٹیکنالوجی کے ملاپ سے وجود میں آئی ہے سادہ لفظوں میں اطلاعات کو محفوظ کرنے ، بھیجنے وصول کرنے اور ان کی عمل کاری کرنے اور انہیں پیش کرنے کیلئے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کہا جاتا ہے۔

کمپیوٹر نے بین الاقوامی تجارت ، روزگار کی نوعیت، صنعتی پیداوار، گھریلو زندگی، تفریح کے ذرائع، فضائی تحقیق و تجسس، صحت سے متعلق احتیاط، تعلیم، مواصلاتی نظام اور سائنسی تحقیق پر گہرے نقوش مرتب کئے ہیں۔ انسانوں نے کمپیوٹر اپنی ضرورت کے تحت ایجاد کیا ہے مگر دوسری ایجادوں کے برعکس یہ بہت ہی مختصر عرصے میں ساری دنیا پر چھاگیا۔ کمپیوٹر ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ اس دور میں تقریباََ ہر کام کمپیوٹر پر ہی کیا جاتا ہے ۔کمپیوٹر سے نہ صرف سماجی رویوں میں تبدیلی آتی ہے بلکہ امیر، غریب اور ہر طبقے کے بچوں کو تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے۔

دنیا میں کئی ایسی مثالیں ہیں کہ نوجوانوں نے کمپیوٹر کا استعمال شروع کیا اور اس کے بعد ان پر ترقی کی راہیں کھلتی چلی گئیں۔ کمپیوٹر کی مدد سے بے شمار نوجوانوں کو دولت بھی ملی اور شہرت بھی۔ آج کل کے دور میں کمپیوٹر ہر فرد کی ضرورت بن چکا ہے خصوصاََ طالبعلموں کیلئے۔ کمپیوٹر کی مدد سے ہم انٹر نیٹ کا استعمال بھی کر سکتے ہیں جس کی مدد سے ہم بہت سی کامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں۔ کمپیوٹر نے پوری دنیا کو گلوبل ویلیج بنا دیا ہے۔ اس کے ذریعے ہم دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھے آدمی سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ دفتری نظام سے لے کر بڑے بڑے دفاعی اور انتظامی معاملات بھی کمپیوٹر ہی کے مرحون منت ہیں ۔

کمپیوٹر نے ہماری زندگی پر بہت گہرے نقوش مرتب کر دئےے ہیں۔ کمپیوٹر کی مدد سے ہم دولت اور شہرت حاصل کررہے ہیں جس کی وجہ سے ہم دنیا میں ترقی کی طرف گامزن ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام میں کمپیوٹر کے نصاب کو بہت اہمیت دی جاتی ہے تاکہ طلباءکمپیوٹر کی تعلیم حاصل کریں اور اس پر عمل کرکے ترقی کریں۔ کمپیوٹر نے دنیا میں آکربہت سے مشکل مسائل کا حل آسان کر دیا ہے۔ کمپیوٹر نے گھنٹوں کا کام منٹوں اور سیکنڈوں میں کرکے دکھادیا ہے۔ انسان کہیں بھی غلطی کر سکتا ہے مگر کمپیوٹر کہیں بھی غلطی نہیں کرتا کمپیوٹر انسان کی رفتار سے کئی گنا زیادہ تیزی سے کام کرتا ہے کمپیوٹر ہمارے لئے ایک بہت مدد گار مشین اور ہم اس سے بہت سے فوائد حاصل کرتے ہیں کمپیوٹر بیک وقت کئی کاموں کو کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں