108

جذام کے مریضوں کی مسیحا ’رتھ فاؤ‘ کی دوسری برسی آج منائی جا رہی ہے

کراچی:  پاکستان میں جذام کے مریضوں کی مسیحا ڈاکٹر رتھ فاؤ کی دوسری برسی آج 10 اگست کو منائی جارہی ہے۔

ڈاکٹر رتھ فاؤکی کوششوں سے ہی پاکستان ایشیائی ممالک کی اس فہرست میں سب سے پہلے شامل ہوا جن میں جذام کے مرض پر قابو پایا گیا، ڈاکٹر رتھ فاؤ نے اپنی زندگی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کی اور جذام کے مریضوں کا علاج کرکے ان میں جینے کی امنگ پیدا کی۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ 9 ستمبر 1929 کو پیدا تو جرمنی میں ہوئیں لیکن ان کا دل پاکستان کے لیے دھڑکتا تھا یہی وجہ تھی کہ انھوں نے اپنی زندگی کے 57 سال پاکستان میں انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کردیے اور مرتے دم تک خدمت کا سلسلہ جاری رکھا،  ڈاکٹر رتھ فاؤ 8 مارچ 1960 کو جرمنی سے پاکستان آئیں۔

انھوں نے شادی کرنے کے بجائے دکھی انسانیت کی خدمت کی اور پاکستان میں جذام کے مرض کے خاتمے کو زندگی کا مشن بنایا، 1963 میں ریگل چوک کے قریب میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر کی بنیاد رکھی جہاں مریضوں کا مفت علاج آج بھی جاری ہے انھوں نے نہ صرف کراچی بلکہ پورے پاکستان میں سینٹرز کھولے۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ کے قائم کردہ 157 سینٹرز آج بھی جذام ، تپ دق ، آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کا علاج کررہے ہیں، میری ایڈیلیڈ لپروسی سینٹر کا عملہ آج بھی انکی محبت اور خدمات پر انہیں یاد کرتا ہے۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ کی خدمات کو پاکستانی قوم نے بھی کبھی فراموش نہیں کیا، حکومت پاکستان، جرمنی اور متعدد عالمی اداروں نے ڈاکٹر رتھ فاؤ کو ایوارڈ سے نواز ، کراچی کے سول اسپتال کا نام ڈاکٹر رتھ فاؤ اسپتال رکھ دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں