101

پٹھے حلال، بکرا قربان (تحریر: محمد ندیم اختر)

پٹھے حلال،بکرا قربان

عید قربان کی آمد آمد ہے اور ممکنہ طور پر بیوپاری حضرات ٹرک بھر بھر کر بھرپور طریقے ملک کے کونے کونے میں جانا شروع ہوچکے ہیں ..چھوٹے بڑے شہروں میں  چھوٹے بڑے  جانوروں کی منڈیاں سجائی جاتی ہیں تا کی خریدار کو اپنی پسند کا جانور تلاش کرنے میں کوئی مسئلہ درپیش ناہو. منڈیوں میں ویٹرنری ڈاکٹر کی موجودگی بھی یقینی ہوتی ہے تا کہ جانور کو برقت ابتدائی طبی سہولیات کی فراہمی ممکن ہوسکے.  راقم الحروف کے ذاتی تجربات کے مطابق جانوروں کی حالت ،نسل اور عمر کو انہی منڈیوں میں گاہک کی ڈیمانڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے موثر تبدیلی کی جاتی ہے. آٹھ ماہ کے جانور ایک سال، ٹوٹے سینگ کو الفی سے جوڑنا اور پلاس کی مدد سے  جانور کو دو دانت کرنا  روزانہ کی بنیاد پر مشق کی جاتی ہے . سُچے جانور بھی میسر ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں. 

زیادہ تر شہری آبادیوں سے خریدار عید کے قریبی دنوں میں ان منڈیوں کا رخ کرتے ہیں ان کو چارے اور جگہ کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے. اس کے برعکس دیہاتی علاقوں کے خریداروں کا رش  عید کے کئی دنوں پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے تاکہ ان کی خدمت کا سلسلہ شروع کیا جائے. 

اصل موضوع پر بحث یہاں سے شروع ہوتی ہے. ایک جانور بیس سے تیس ہزار روپے  تک کا خرید کر گھروں میں نمائش کیلئے پیش کر دیا جاتا ہے یا گھر کے پلے بڑھے  جانور کا بڑے فخر سے  بیان جاتا ہے. 

اللہ تعالٰی کی رضا کے لئے  قربانی رائیگاں نہیں جاتی بے شک اللہ قبول کرنے والا ہے. 

لکھاری اپنی آنکھوں دیکھا حال بیان کرتا ہے.  قربانی کے جانور لوگ خرید تو لاتے ہیں مگر ان کے چارے کا بندوبست کرنا اپنی ذمہ داری میں شمار نہیں کرتے. دیہاتوں میں اکثر دیکھا گیا ہے ان جانوروں کو دوسروں کے کھیتوں میں بغیر اجازت چرائی کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے.  راستہ چلتے چلتے  کسی کے درخت سے ٹہنیاں کاٹ لیں. 

قربانی کے جانور کی کی خدمت کا سلسلہ بدستور جاری وساری رہتا ہے. اس کے لئے  لوگ  کسی بھی کھیت سے  چوری چارہ کاٹنے کے لئے دوپہر کے وقت کا تعین کرنا بھی نہیں بھولتے کیوں کہ اس وقت فصل کا مالک اپنے کھیتوں کی جانب کم ہی رخ کرتا ہے. 

لوگ یہ مشق روزانہ کی بنیاد پر دہرانا شاید  باعث ثواب سمجھتے ہیں. اور اسی قربانی کے جانور کے بدلے اکثر  انسان قربان ہو جاتے ہیں  جن کی چوری شدہ چارے کے بدلے تو تکار ہو جاتی ہے. 

ہم دال دلیا تو خرید لاتے ہیں  مگر ان بکروں کے لئے حلال و حرام کی تمیز کیے بغیر چارہ ڈالتے جاتے ہیں ان کے لئے  مناسب انتظام نہیں کر سکتے. شہری آبادیوں میں یہ معاملہ نہیں ہوتا بلکہ یہ دیہاتی علاقوں میں زیادہ تر  وقوع پذیر ہوتا ہے جہاں پر چارے کی قلت بھی نہیں  ہوتی. 

لوگ اس چھوٹے سے معاملے کو سنجیدگی کے ساتھ سمجھیں گے یا نہیں.. پتہ نہیں۔ عید کے دن تکبیر کے ساتھ  قصائی اس چوری کے چارے پلے جانور کی گردن پر چھری چلا رہا ہوتا ہے پاس کھڑا مالک دل میں بول رہا تھا  اللہ قبول فرمائے. 

نوٹ..  موصوف کے کھیت سے گزشتہ روایت کے مطابق  کئی گھروں کے جانور قربانی کے لئے تیار ہو رہے ہیں.. 

محمد ندیم اختر  ڈھوک کاسب 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں