117

مجّاں مجّاں دیاں پہناں (تحریر: محمد ندیم اختر)

مجّاں مجّاں دیاں پہناں

جولائی کا مہینہ  بے جا حبس کے ساتھ خاتمے کی طرف آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا. چاچا بانی ٹی وی پر  خبریں سن رہا تھا اور ساتھ کبھی کبھار حقے کے کش سے نکلا دھواں اس کے پوتے احمر کی ناک میں گھسا جا رہا تھا اس کھانسی کی شدت تمباکو کی کڑواہٹ کا پتا دے رہی تھی. 

چاچا بانی نے اپنی دونوں ٹانگیں کھینچ کر  پاؤں پلاسٹک کیادھ جڑی کرسی پر رکھ لیں جس پر  بیٹھ کر وہ حقہ بُھڑک رہا تھا۔  چاچے کے پتر مکھن نے نئی نئی کیبل لگوائی تھی بس چاچی اور چاچا سارا سارا دن پوتے کو لئے ٹی وی کے گرد بیٹھے رہتے. 

عمران خان کا  دورہ امریکہ  کی خبریں تھیں تو دوسرے چینل پر مریم نواز شریف  کے رات ہونے والے جلسے  کو کامیاب بنانے کا اعلان کیا جا رہا تھا. چاچی نے ریموٹ کا بٹن گھمایا تو زرداری کا بیٹا بلاول بھٹو  نا اہل حکمرانوں کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی خواہش کر رہا تھا. چاچا  کرسی پر بیٹھا پہلو بدلتا خبریں انہماک سے کان لگائے ٹی وی کی جانب دیکھ رہا تھا.

دو دن پہلے ڈاکٹر نے چاچے بانی کے کانوں میں سماعتی آلہ لگانے کی تجویز دی تھی. ریموٹ سے چاچی چینل گھماتی نمبر آٹھ  پر پہنچی تو ٹھمکے دیکھتے ہی چاچا خبریں  لگانے کی ضد کر بیٹھا بس اسی وقت سے چاچی کچھ خفا سی رہتی ہے. خبروں سے پتا چلا یہ حکومت غریبوں کا خون نچوڑ رہی ہے  ٹیکس پر ٹیکس  اور  تو اور ٹیکسی چلانے والوں پر ٹیکس. 

ٹاک شو سنتے ہوئے چاچے بانی کو پتا چلا اپوزیشن جماعتیں  ساری اکٹھی ہو گئیں ہیں جو پچھلی حکومتوں میں ایک دوسرے کی شدید سیاسی مخالفت میں کافی حد تک بڑھ گئی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے سڑکوں پر گھسیٹنے کی باتیں کرتے تھے.  نا اہلی کے تانے پروگرام میں چاچے نے سنا اب انکل اور شریف مولانا کے  ساتھ مل کر  حکومت کو  گرانے کی میٹنگ کر رہے ہیں.  

چاچا جس کرسی پر بیٹھا حقے سے مستفید  ہو رہا تھا چاچے کے پہلو بدلنے کے ساتھ اس میں سے چیں چراں کی آوازیں آنا زیادہ ہو گئیں تھیں. چاچی نے ج والا چینل لگایا تو چاچے نے دیکھا ہمارا وزیر اعظم  تو امریکہ میں  گل بات ای نا کر سکا کوئی . ن والا بندا بول رہا تھا. پی پی والا  بھی ادھر بیٹھا یہی پیپنی بجا رہا تھا…  چار بندے تھے  جی ادھر جہاں خان نے تقریر کی.

 ایک جگہ پر مولانا صاحب  فرما رہے تھے  یہ تو آئین میں ترمیم کر کے رہے گا. چلو چاچا سن رہا تھا اوپر سولر والا پنکھا چل رہا تھا.  بجلی بڑی جاندی اے نا۔ چاچے کے پتر نے لگوا دیا اپنے بوڑھے ماں  پیو کو. 

سین والے چینل کے پروگرام میں  چاچا بڑا خوش ہوا ملک ترقی کے راستے پر گامزن ہو گیا  اب وہ دن دور نہیں جب ملک خود کفیل ہو جائے گا لوگوں میں محنت کی عادت پنپ رہی ہے  قرضوں سے آزاد دن آنے والے  ہیں.. 

چاچا بانی خوشی کا اظہار اظہار پہلو بدل کر حقے کا لمبا کشا لگا کر  ایک پاؤں  کرسی سے  نیچے لٹکاتا ہوا سیدھا ہوتا ہے.  خبر چلتی  سارا پیسہ لائیں گے نیب کی جانب  گرفتاریاں شروع ہو گئی ہیں  چاچا خوشی میں  اپنی گھر والی کو حقہ پیش کرتے  ہوئے  ٹی وی پر نظریں جمائی رکھتا ہے. سنتا ہے  اب تو سارے جیل میں ہیں  پیسہ بھی آ جائے گا. 

حقے کے دھوئیں سے چاچے کو پوتے احمر کی رونے کی آواز نے خبروں کا مزا کرکرا کر دیا بہو اٹھا لے اس کو رات کے دس بج رہے تھے  ٹی وی پر پرائم شو چل رہا تھا  چاچے بانی کی ڈورے کان کچھ سن نا پا رہے تھے  وہ ادھ ٹوٹی پلاسٹک کی کرسی کو گھسیٹ کر قریب کرتے ہوئے یہ باتیں سنتا ہے جس میں  ن  پی پی اور ف کی پارٹیوں کے  رہنما بیٹھے محبت  سے پروگرام بنا رہے تھے کی ال پارٹیز کانفرنس بلا کراس حکومت سے  نبڑا جائے گا .

چاچے کو یاد آیا کہ الیکشن کے دوران اس کی تو  ن کے بدلے پی پی والوں   سے  بڑی  لڑائیاں ہوئی تھیں  لو جی ایہہ  کی گل ہوئی. اسی بے چینی میں کرسی پر بیٹھے بٹھائے  پہلو بدلنے کی کوشش کرتاہوا دھڑام سے نیچے  جا گرتا ہے  اس کی پلاسٹک کی کرسی کے درمیان  سے دو ٹوٹے ہو گئے اور چاچا تشریف ملتا ہوا اپنے پتر کو آواز لگا کر کہتا ہے

پتر سویرے کیبل کٹوا دے میں سرکاری ٹی وی ویکھنا اے صرف
 ایتھے ساریاں مجّاں مجّاں دیاں پہناں 

تحریر: محمد ندیم اختر 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں