109

آبادی پر کنٹرول وقت کی اہم ضرورت (تحریر: راجہ منصور علی خان(

آبادی پر کنٹرول وقت کی اہم ضرورت

بڑھتی ہوئی آبادی پاکستان کے بیشتر مسائل میں سے ایک اہم مسلہ ہے اگر غربت میں اضافے کی وجہ آبادی میں بے مہار اضافے کو قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ پانی کے بعد بڑھتی ہوئی آبادی بھی ایک اہم ترین قومی مسلہ ہے۔اس قومی مسلئے پر گزشتہ سال حکومت نے مزیدپیش رفت کرتے ہوئے آبادی پر کنٹرول کرنے کیلئے ٹاسک فورس بھی قائم کر دی ہے تاکہ ٹھوس اقدامات کے ذریعے بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول کیا جاسکے۔

وطن عزیز میں خاندانی منصوبہ بندی کا محکمہ صدر ایوب خان کے دور حکومت میں قائم کیا گیا تھا۔ ابتداءمیں اس محکمے کو ٹرانسپورٹ اور عملے کی بہترین خدمات حاصل تھیں اور نچلی سطح تک اس محکمے کی موجودگی واضح تھی۔ اس کے باوجود خاندانی منصوبہ بندی معاشرے میں ایک کمزور تصور ہی رہا اس سرد مہری کی دو پہلو ہیں ایک اقتصادی اور سماجی ،دوسرا دینی۔

دونوں ہی پہلوﺅں کے ساتھ ہم معاملہ کرنے میں ناکام رہے اور حالیہ مردم شماری کے انکشاف سے یہ صورتحال پیداہو گئی ہے کہ وطن عزیز چین، بھارت ، امریکہ اور انڈونیشیا کے بعد آبادی کے لحاظ سے دنیا کا 5واں بڑا ملک بن گیا ہے۔ مردم شماری کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان کی آبادی 20کروڑ 80لاکھ تھی اس تناظر میں ملک میں دستیاب ملکی وسائل اور آبادی میں ایک وسیع فرق نظر آتا ہے۔ دیہی اور شہری علاقوں میں ترقی کے واضح فرق نے بھی شہروں کی طرف انتہائی غیر منظم انداز کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ جس نے شہروں کو قدر پھیلا دیا ہے کہ وہ ایک دوسرے میں مدغم ہو گئے ہیں۔

1951میں شہری آبادی ملک کی کل آبادی کا 17فیصد تھی جو 2018میں بڑھ کر 40فیصد ہو گئی ہے اور اس دوران شہری آبادی میں 14فیصد اضافہ ہوچکا ہے اگر یہی رفتار رہی تو 2025تک شہری آبادی ملک کی آبادی کا 50فیصد ہو جائیگی اور آبادی کی اس نقل مکانی سے چھوٹے شہروں اور قصبے بھی محفوظ نہیں رہینگے۔ صوبہ پنجاب کے 191شہر اور قصبے ہیں ۔ صوبے کی 80فیصد آبادی 50بڑے شہروں میں رہائش پذیر ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صوبے کے صرف 6بڑے شہروں میں شہری آبادی کا 60فیصد حصہ رہائش پذیر ہے۔

دیہی علاقوں میں وسائل ،آمدنی میں کمی، صحت تعلیم و دیگر سہولیات کے فقدان کے باعث شہروں میں آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آبادی میں اضافے کی ایک وجہ عوام میں دو طرح کے طبقات پروان چڑھے ہیں۔ ایک وہ جو غریب تھے اور اپنی آمدنی اور وسائل میں اضافے کیلئے افرادی قوت میں اضافہ کرنے پر لگ گئے جبکہ دوسری طرف دولت مند خاص طور پر بڑا زمیندار طبقہ اپنی دولت کے ورثاءمیں اضافے کرنے پر لگ گیا اور اس طرح کی دیگر کئی ایسی وجوہات بھی ہیں جو آبادی میں اضافے کا سبب بنی جس سے خاندانی منصوبہ بندی کے اقدامات سے پوری طرح فائدہ نہ اٹھایا جاسکا۔

اگر خاندانی منصوبہ بندی کے دینی پہلووں کو سامنے رکھا جائے تو بلا شبہ دین اسلام عین فطرت کے مطابق اس مسلے کا ٹھوس حل پیش کرتا ہے۔ جیسے کے قرآن و حدیث میں یہ بات وضاحت کے ساتھ بیان کر دی گئی ہے کہ ہر پیدا ہونے والے بچے کو دو سال تک ماں کا دودھ لازماََ پلایا جائے۔ جدید سائنس اور طب سے بھی یہ بات 100فیصد ثابت ہو چکی ہے۔ اس پہلو پر عمل کا مقصد ایک خاندان بالخصوص بچہ بھرپور نشوونما حاصل کر لے۔

ہر مسلمان اس بات پر کامل یقین رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کو پیدا کیا ہے اس کا رازق بھی وہی ہے۔ مگر اس بات سے کون انکار کرسکتاہے کہ عقل ، دلیل ،معاملہ فہمی بھی انسان کو اللہ کی طرف سے عطا کردہ ہے اور جسے روئے کار لانے کی ہدایت بھی اللہ نے فرمائی ہے۔ایک دوسری حقیقت یہ ہے کہ اگر ایک فیملی کے پاس دو بچوں کوصحیح خوراک ،لباس ،تعلیم ،صحت کی سہولیات مہیا کرنے کے وسائل میسر ہیں تو 3-4بچے زیادہ ہونے کی صورت میں یہ وسائل تقسیم ہونگے اور سہولیات ہر ایک کو کم ملیں گی اورایک لحاظ سے یہ ہر ایک کے ساتھ نا انصافی بھی ہوگی وجہ یہ ہے کہ جب استعمال کرنے والے زیادہ ہونگے تو وسائل کی کمی کی وجہ سے ان کا معیار زندگی پستی کی طرف جائیگا۔

ہمارے ملک میں یہی ہو رہا ہے ۔ نہ ہم اپنے دین اسلام کی پوری طرح پروی کر پائے نہ ہی دنیاوی اقدار کو پوری طرح اپنایا جس کی وجہ سے ہماری مشکلات میں اضافہ ہوا اور ہمارے وسائل جیسا کہ جنگلات سکڑ رہے ہیں، پانی کم ہورہا ہے۔ آبادیاں گنجان آبادہورہی ہیں، شہر پھیلتے جارہے ہیں۔ سڑکوں رش بڑھ رہا ہے، خوراک ،سکول ،ہسپتال ، سڑکیں پانی حتیٰ کہ زمین بھی نہ کافی ہوکر رہ گئی ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں جاپان ، روس ،اٹلی ، جرمنی ،یونان، بنگلہ دیش میں خاندانی منصوبہ کا پلان دنیا بھر میں کامیاب پروگراموں میں سے ایک ہیں، ان کے ہاں بھی وسائل ایسے ہی تھے جیسے ہم جیسے ملک میں پائے جاتے ہیں لیکن ریاست کا غیر متزلزل عزم ان تمام چیلنجز پر غالب آیا۔ ہمیں بھی اسی طرح کے غیر متزلزل عزم اور معاملہ فہمی کی ضرورت ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان اور حکومت کی طرف سے آبادی کی شرح کو روکنے کیلئے اقدامات قابل ستائش ہیں۔حکومت نے آبادی کی شرح کو کنٹرول کرنے کیلئے ٹاسک فورس قائم کر دی ہے۔ سول سوسائٹی، میڈیا، اساتذہ ،علماءکرام ،بالخصوص عوام الناس کو اس ضمن میں حکومت کے اہداف کو یقینی بنانے میں اپنا بنیادی کر دار ادا کرنا ہوگا۔ تاکہ ہماری آنے والی نسلیں بد ترین حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور نہ ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔راجہ منصور علی خان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں