171

مریم نواز کا منڈی بہاوالدین میں جلسہ (تحریر ملک رئوف زبیر(

مریم نواز کا منڈی بہاوالدین میں جلسہ
رپورٹ:ملک روف زبیر

کیپٹن محمد صفدر اعوان ، میاں جاوید لطیف اور محمد طلال چوہدری تینوں اکٹھے منڈی بہاوالدین کے علاقہ چیلیانوالہ چوہدری مشاہد رضا کے گھر پہنچے۔ الکریم ہاؤس چیلیانوالہ میں ان کے درمیان مشاورت ہوئی۔ اور طے پایا کہ مریم نواز حکومت کے خلاف اپنا پہلا جلسہ منڈی بہاوالدین میں کر کے شروعات کریں گی۔

یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ ن کے مرکزی راہنما کیپٹن (ر) محمد صفدر کا چیلیانوالہ میں چوہدری مشاہد رضا کی رہائشگاہ پر اہم اجلاس. حکومت مخالفت تحریک کے سلسلہ میں مریم نواز 7 جولائی کو منڈی بہاوالدین آئیں گی

اس کے بعد جلسہ کو کامیاب بنانے کے لیے یہ ن لیگ کے تینوں لیڈر آج کے جلسہ کے دن تک منڈی بہاوالدین ہی رہے۔ انہوں نے شب و روز محنت کی ، منڈی بہاوالدین کی ن لیگ کی قیادت اور عوام سے رابطہ مہم چلائی ، سب کو اعتماد میں لے کر ساتھ ملایا۔ طے یہ پایا کہ جلسہ قائداعظم گروانڈ منڈی بہاوالدین شہر کے عین وسط میں کیا جائے گا۔ لیکن انتظامیہ نے جلسہ کرنے کی اجازت نہ دی ، تھانہ سٹی کے ایس ایچ او رائے منیر نے قائداعظم گروانڈ میں ٹینٹ کا سامان ،کرسیاں وغیرہ لانے والے 6 افراد کو بھاری نفری کے ہمراہ گرفتار کر لیا اور سارا لایا گیا سامان واپس لوڈ کروا کر بھیج دیا اور سینما گراونڈ کو سیل کر کے نفری تعینات کر دی۔

یہ بھی پڑھیں: منڈی بہاوالدین میں 7 جولائی کو ہونے والا مریم نواز کا جلسہ پولیس کی نذر، جلسہ گراونڈ کے مین گیٹ بند۔ کرسیاں لگانے والے کارکنان بھی گرفتار

پولیس نے ن لیگ کے عہدہ داران کی گرفتاری شروع کر دی ۔اور ساتھ یہ بھی بیان سامنے آیا کہ انتظامیہ نے اجازت ہی نہیں دی ہے جلسہ کی۔ بارش آنے کی وجہ سے جلسہ گاہ والی جگہ گراونڈ میں پانی کھڑا ہو گیا۔جبکہ لوگوں کا کہنا ہے کہ پانی والا کام انتظامیہ نے کیا ہے۔

پھر جلسہ والے دن منڈی بہاوالدین کے ڈی پی او ناصر سیال کا بیان سامنے آیا کہ سینما گراونڈ کے 300 گز کے فاصلے پر سٹیڈیم میں جلسہ کی اجازت دی گئی ہے۔ سینما گراونڈ کے اردگرد آبادی اور ڈسٹرکٹ ہسپتال کی وجہ سے ادھر اجازت نہیں دی ،کیونکہ سیکورٹی رسک ہے اور سڑکیں بند ہونے کیوجہ سے ہسپتال کے ایمرجنسی مریض/ایمبولینس متاثر ہو گی۔ لیکن ن لیگ کی ضلعی قیادت بضد رہی کہ جلسہ قائداعظم گروانڈ میں ہی ہو گا۔ لیکن گروانڈ میں تو پانی کھڑا تھا۔ جلسہ کے لیے شام 6 بجے کا ٹائم دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: لیگی قیادت کا منڈی بہاؤالدین میں جلسہ کرنے پر اصرار، انتظامیہ کا اجازت دینے سے انکار

مریم نواز تقریبا 3 بجے رائے ونڈ سے منڈی بہاوالدین کے لیے روانہ ہوئیں۔ شام 6 بجے تک جیل چوک میں کچھ لوگ تھے صرف اور جلسہ گاہ پر لوگ موجود نہیں تھے۔ مریم نواز رستہ میں مختلف مقامات پر رک کر استقبال کے لیے اکٹھے ہوئے لوگوں سے خطاب کرتے آئیں۔


رات کے وقت سینما گراونڈ کے باہر سڑک پر کدھر مال کے سامنے کرسیاں لگا کر ایک گاڈی میں سٹیج بنا کر نغمے چلائے گئے اور افضال بھٹی نے اپنی تقریروں سے عوام کو خوب گرمایہ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ کورہج کے لیے میڈیا کی گاڑیاں صبح سے ہی منڈی بہاوالدین آ چکی تھیں۔ تقریبا رات 12 بجے کے قریب جلسہ کی کارروائی شروع ہوئی ناصر اقبال بوسال، محمد بلال چوہدری ، میاں جاوید لطیف اور حمیدہ وحید الدین نے خطاب کیا۔


تقریبا رات ایک بجے کے قریب مریم نواز جلسہ گاہ تشریف لائیں۔ مریم نواز نے اپنا مختصر خطاب کیا اور جلسہ ختم ہو گیا۔
سارا دن چیمہ چوک اور ست سرا پر پولیس کی بڑی گاڑیاں ، چھوٹی گاڑیاں اور بھاری نفری موجود رہی، جن کے پاس سوٹیاں اور انسو گیس شیلنگ کی گنز موجود تھیں۔ لگتا ایسے تھا کہ مریم کی ریلی کو شہر میں پہنچنے نہیں دے گی انتظامیہ اور کنگ روڈ سے ہی واپس کر دے گی۔ لیکن عوام کسی بھی چیز کی پرواہ کیے بغیر جلسہ میں پہنچے۔


جلسہ چونکہ اب سڑک پر ہو رہا تھا چند کرسیاں لگائی گئیں تھیں جوکہ بہت ہی کم تھیں۔ جلسہ گاہ میں شدید گرمی تھی۔ پانی کا بھی بندوبست موجود نہ تھا ،بریانی تو دور کی بات ہے، نہ ہی کوئی پنکھوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ سٹیج کے معاملہ پر بھی اختلاف سامنے آیا کبھی آگے لگایا گیا کبھی پیچھے لگایا گیا۔ کچھ دیر کے لیے ترانوں اور تقریروں کا سلسلہ بند بھی کر دیا گیا۔


صحافیوں کو کوریج کے لیے مناسب جگہ نہ فراہم کی گئی۔ سیکورٹی کا بلکل بھی بندوبست موجود نہ تھا۔ یہ جلسہ عوام اور ن لیگ کی قیادت کے لیے ملکی حالات کے پیش نظر بہت بڑا رسک تھا۔ چند ایک لڑکوں کی لڑائی بھی دیکھنے میں آئے جلسہ شروع ہونے سے پہلے۔ 6 بجے کا کہہ کر مریم نواز 7 گھنٹے لیٹ تقریبا رات 1 بجے پہنچیں۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود لوگوں کا جم غفیر تھا۔ شدید گرمی، پانی موجود نہیں تھا اور صبح کے بھوکے لوگ اتنی بڑی تعداد میں اپنی لیڈر مریم نواز کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے اور اپنی لیڈر کی تقریر سننے کے لیے بے تاب تھے۔ خواتین بھی جلسہ گاہ میں موجود تھیں۔

ن لیگ کی قیادت مبارک باد کی حقدار ہے کہ اتنا کچھ ہونے کے باوجود انہوں نے اتنا بڑا اور کامیاب جلسہ کیا ۔ مریم نواز کی گاڈی کو جلسہ گاہ سے نکلنے میں کافی وقت لگا کیونکہ لڑکوں کی بڑی تعداد نے موبائل لے کر ان کے ساتھ سیلفی لینے کے لیے ان کی گاڈی کو گھیرے رکھا۔ جلسہ میں بھی لوگ دیوانوں کی طرح ایک دوسرے کو دھکم پیل کر کے مریم نواز کو دیکھتے اور سنتے رہے۔

میں نے لوگوں کی اتنی بڑی تعداد اور اس طرح دیوانہ وار پہلے کبھی نہیں دیکھا ۔ مجھے مریم نواز میں بے نظیر کی جھلک نظر آئی۔ اور میں واپسی پر پیاس ، بھوک ، گرمی اور تھکاوٹ سے نڈھال واپس آتے ہوئے، لوگوں کی بڑی تعداد پیدل جلسہ سے گھر جاتے دیکھ کر ساتھ خواتین بھی ، یہ سوچ رہا تھا کہ مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہیں ۔

تحریر:
ملک رئوف زبیر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

مریم نواز کا منڈی بہاوالدین میں جلسہ (تحریر ملک رئوف زبیر(” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں