68

اُچھلُو سے اچھلوں فیئر مرسوں (تحریر: محمد ندیم اختر)

اُچھلُو سے اچھلوں فیئر مرسوں

 کہتے تھے کہیں ایک اندھا اور تھتھا (توتلا) ایک سائیکل پر سوار کہیں جا رہے تھے راستہ کچا ہونے کی وجہ سے ٹوئے (کھڈے) ٹبے جگہ جگہ موجود تھے.. اندھے نے تھتھے کو بولا کی میں سائیکل چلاتا ہوں تم آگے بیٹھو جب کوئی ٹویا آیا تو بتانا.  سفر بخیر آدھے کے قریب پہنچتاہے تو تھتھے کو آگے ٹویا نظر آتا ہے  ٹو  ٹو ٹو ٹو سائیکل کھڈے میں جا گرتا ہے اور تھتھے کے منہ نکلتا ہے ٹویا. 

یہ لطیفہ بچپن میں سنا کرتے تھے  اور ہنس دیتے مگر یہ اس وقت کے المیے تھے لوگ بچوں کو سائیکل لے کر دیتے اور انکے گوڈے گٹے چھیلے رہتے تھے.. 

اطوار نا  بدلے زمانے کے
سائیکل اس وقت تھی مگر
اب تو موٹر بھی ساتھ ہے سائیکل کے.

گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران یہ بیماری کم ہے  نوعمر ڈرائیور گھروں میں ہیں ذرا. سکول کے دنوں  والدین اپنے بچوں کو موٹر سائیکلیں اپنے ہاتھوں سے خرید کر دیتے ہیں تا کہ ان کے سکول جانے میں آسانی ہو مگر کیا وہ اس حقیقت سے  نا آشنا ہوتے ہیں کہ وہ ان ننھے ڈرائیوروں پر ظلم ڈھا رہے ہیں. کبھی چھٹی کے وقت ان بچوں کے حالات پر غور کیجئے گا. جوں جوں انسان اپنی آسانی کے لیے وسائل میں اضافہ کررہا ہے ویسے ہی اس کے لئے موت سستی ہو رہی ہے. 

تیز رفتار گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں نے سڑکوں پر غیر قانونی سپیڈ بریکرز کی ایجاد کرنے میں مدد دی. آپ جس آبادی سے گزریں، گاؤں کے بیچ چوراہے پر!، شہروں کی دوکانوں کے  سامنے ہور تے ہور جہاں پر نیا مسجد یا مدرسہ بن رہا ہو وہاں یہ ثواب کا کام سمجھ کر بنائے جا رہے ہیں. 

اجنبی شخص ! انجان آدمی  اور نوعمر ڈرائیور ان راستوں سے ہوتا ہوا کہیں گزرتا ہے  تو اچانک نمودار ہونے والا اچھلو (سپیڈ بریکر ) ایک لمبی سی آہ  اور اُل لے  نکالنے پر مجبور کرتی ہے.  بریک لگاتے لگاتے اچھلو  سے اچھلنا لازم و ملزوم قرار پاتا ہے.  

آئے روز حادثات کا سبب بننے والے یہ سپیڈ بریکر  کا ادراک  بہت سی معلومات سے کیا جا سکتا ہے  جب ایک ٹرک سپیڈ بریکر سے کنٹرول نا ہو اور سیدھا پولیس چوکی میں جا گھسا. 

یہ خبر بھی پڑھیں: پھالیہ: تیز رفتار موٹر سائیکل درخت سے ٹکرا گئی۔ ایک ہی گھر کے 3 ننھے پھول جاں بحق

حال ہی میں میں  پیش آنے والا دلخراش واقعہ  جس میں  تین نا بالغ  نو جوان  جو موضع کھیاں سے تعلق  رکھتے تھے  سپیڈ بریکر کی بھینٹ چڑھ گئے ادر گرد نظر دوڑائیں تو اس طرح کے واقعات عام مل رہے ہیں.  کہ سیپڈ بریکر سے گزرتے ہوئے  گاڑی درخت سے جا ٹکرائی ، موٹر سائیکل  کھڑی  ٹرالی سے جا ٹکرائی… 

کئی جانوں کا ضیاع 

اس میں بہت سے محرکات سامنے آتے ہیں. انجان راستے ، تیز رفتاری  ،کمسن ڈرائیورز  اور سب سے بڑھ کر وہ لوگ ذمہ دار ہیں جنہوں نے یہ غیر قانونی سپیڈ بریکر اپنے گھروں ،دکانوں یا مختلف مقامات پر بنا رکھے ہیں. ان سپیڈ بریکرز کا کردار سپیڈ کم کرنے کے علاوہ جانو مارنے کا سبب بھی  ثابت ہو رہا ہے. 

 سوئی ہوئی حکومتیں ان کی ذمہ دار ہیں ہی مگر سب سے زیادہ قصور وار  ہم خود ہیں ہمارا معاشرہ ہے جو بے حسی کی منازل تیزی سے طے کر رہا ہے. 

پیسے کی زیادتی بھی ایک وبا ہے جو اس طرح کے کام اور واقعات بڑھانے میں معاون ثابت ہو رہا ہے. پیسہ ہے  آٹھ فٹ بجری۔ چار فٹ ریت تے ایک بوری سیمنٹ ایک غیر قانونی بے ڈھنگا سپیڈ بریکر تیار. نئے نئے جوان ہونے والے پتر کو نیا نیا موٹر سائیکل لے کر دیا.  چڑھا دیا سپیڈ بریکر پر.

بحیثیت قوم ہم  اپنی کتنی ذمہ داریاں نبھانے کی کوشش کر رہے ہیں. مجموعی طور پر نتائج خاطر خواہ سامنے نہیں آتے. کیوں کہ انہی چھوٹی چھوٹی باتوں اور کاموں سے ہی قوموں کی پہچان  شروع ہوتی ہے.  غیر قانونی سپیڈ بریکرز کو پہلے مکایا جائے تو یہ حادثات مُک سکتے ہیں. 

نئیں تے 
اُچھلُو سے اچھلوں فیئر مرسوں 

محمد ندیم اختر 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں