56

دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے ریسکیو 1122ہمہ دم تیار (تحریر: عاطف رفیق)

دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے ریسکیو 1122ہمہ دم تیار

پنجاب ایمرجنسی سروس کی داستان حیات دلچسپی سے تعلق رکھتی ہے۔ ہر کامیابی و کامرانی کی ضمانت، محنت، مشقت ہے۔ یہ ایسی صلاحیت ہے جس کا ثمر شیریں ہوتا ہے۔ روز اول سے لے کر آج تک انسان نے ترقی کی جو منزلیں طے کی ہیں ان میں محنت کو سب سے زیادہ دخل حاصل ہے۔ اسی کی بدولت انسان نے اپنے مسائل حل کئے۔ محنت سے ہی انسان نے اپنی معاشرتی گھتیاں سلجھائیں اور اپنی ضروریات زندگی کے سامان پیدا کئے۔ رات دن کی کوششوں سے ہی انسان نے ایجادات کیں،

پنجاب ایمرجنسی سروس کا آغاز بلا شبہ ڈاکٹر رضوان نصیر(ستارہ امتیاز) کی شبانہ روز کاوشوں کی بدولت 2004 میں لاہور سے شروع ہوا۔ صوبہ پنجاب کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ آج سارک ممالک میں ایمرجنسی سروسز کا بہترین ماڈل موجود ہے۔ آغاز میں ڈاکٹر رضوان نصیر (ستارہ امتیاز) کے دل و دماغ پر جدید ایمرجنسی سروسز کا تصوراتی ماڈل چھایا ہوا تھا اور وہ اپنے اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے اپنا سب کچھ قربان کر چکے تھے۔ بقول ڈاکٹر صاحب جب بھی کسی سے بین الاقوامی طرز کی ایمرجنسی سروس کے قیام کی بات کی جاتی جواب یہ ملتا کہ یہ پاکستان ہے ایسی سروسز بنانا بیرون ملک ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ لیکن

ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو،
تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے

ڈاکٹر رضوان نصیر ( ستارہ امتیاز ) نے اپنے خواب کی تکمیل محکم سے 2004میں 14 ایمبولینسز اور 200 ریسکیورز کے ساتھ ایک پائلٹ پروجیکٹ ریسکیو1122کے نام سے لاہور سے شروع کیا گیا۔ ڈاکٹر رضوان نصیر کی شب روز محنت، موثر مینجمنٹ ، بین الاقوامی سطح پر تربیت اور ان کی ٹیم کی پیشہ ورانہ کارکردگی کی بدولت، یہ سروس زبان زدعام ہونے لگی۔ جب 2006 میں پنجاب حکومت چوہدری پرویز الہیٰ کی زیر نگرانی تھی تو ریسکیو 1122 کو عوام دوست ہونے کی وجہ سے حکومتی تحویل میں بطور ادارہ پنجاب کے بڑے شہروں میں متعارف کروایا گیا۔

ریسکیو 1122 کو پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 کے نام سے پکارا جانے لگا۔ چند سالوں میں دیگر سرکاری اداروں کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی شخص وثوق سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ ادارہ خدمت کی تاریخ رقم کرتے ہوئے بے پناہ کامیابیاں حاصل کرکے عوام کا اس قدر اعتماد حاصل کرے گا۔ اس وقت کے وزیراعلیٰ،موجودہ اسپیکر صوبائی اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ نے ڈاکٹر رضوان نصیر(ستارہ امتیاز) کے ساتھ مل کر جو پودا لگایاآج شجرسایہ دار بن چکا ہے جو دکھی انسانیت کے ساتھ ساتھ سکھ کا باعث بنتے ہوئے انہیں آسانیاں فراہم کررہا ہے اس کی خدمت معاشرے کے تمام طبقات کیلئے بلا امتیاز ہیں اس ادارے نے عوام کی خدمت کا صحیح معنوں اسی وقت ادا کرنا شروع کر دیا۔حکومت پنجاب نے پنجاب کے تمام اضلاع تک اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔

دسمبر 2009میں ریسکیو 1122منڈی بہاؤالدین کا قیام عمل میں لایا گیا ابتدائی طور پرڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر عمران خان کی قیادت میں ریسکیو 1122منڈی بہاؤالدین کیلئے چار ایمبولینسز اور 56 ریسکیورز کے ساتھ سروس کا آغاز کیا گیا۔ جہاں روڈ پر کسی بھی حادثے کی صورت میں ریسکیو خدمت کے جذبے سے سرشار ہوکر دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے 7منٹ کے اوسط ٹائم کو برقرار رکھتے ہوئے سبز یونیفارم میں جائے وقوعہ پر پہنچ کر متاثرین کے لواحقین کے آنے سے پہلے ہی نہایت ایمانداری اور لگن سے طبی امداد دے کر متاثرین کو سول ہسپتال منڈی بہاؤالدین میں منتقل کر دیتے ہیں۔ ڈسٹرکٹ منڈی بہاؤالدین کے عوام نے خود تسلیم کیا ہے کہ ایک تصوراتی ادارہ جو بین الاقوامی طرز کا ہوسکتا ہے ان کی آنکھوں کے سامنے حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔ ایسے کئی واقعات ہیں جن کا عوام نے ذاتی طور پر مشاہدہ کرکے فیڈ بیک دیا ہے کہ حادثہ کی صورت میں ریسکیو 1122 فری ہیلپ لائن 1122 پر کال کرنے کی دیر ہوتی ہے کہ بہت ہی کم وقت میں ریسکیو ٹیم بروقت جائے حادثہ پر پہنچ آتی ہے تب متاثرین حادثہ کو اخوت و بھائی چارے کا درس ملتا ہے اور تحفظ کا احساس محسوس ہوتا ہے۔ صوبہ پنجاب کے سرسبز شاداب ڈسٹرکٹ منڈی بہاؤالدین کے ایک شخص نے ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 کے پاس اپنا فیڈ بیک ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ جب مجھے دل کا دورہ پڑا تو ریسکیو 1122 کی ٹیم بروقت میری مدد کو پہنچی ۔ انہوں نے کہا کہ میں سوچتا ہوں کہ ریسکیو 1122 کی ٹیم اگر آج میری مدد کو نہ پہنچتی تو شاید میں مرچکا ہوتا۔ اہلیان منڈی بہاؤالدین اﷲ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکرادا کرتے ہیں۔

13مئی 2010 سے لیکر جون 2019 تک 1،571،919 کالز موصول ہوئیں جن میں 57،243 ایمرجنسی کالز تھیں۔ غیر ضروری کالز کی تعداد 7،726 ہے۔ انفارمیشن کالز 143،598 تھیں۔ غلطی سے ملائی جانیوالی کالز 7726جبکہ جھوٹی کالز 681 تھیں۔ریسکیو 1122 منڈی بہاؤالدین نے ان سالوں میں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر عمران خان کی قیادت میں 57،243 ایمرجنسیز پر رسپانس کیا جن میں روڈ ٹریفک حادثات کی تعداد 23052،میڈیکل ایمرجنسیز23،192 ،آگ لگنے کے حوالے سے 1،441 واقعات،کرائم کالز 2،265 ،ڈوبنے کے 344، بلڈنگ گرنے کے 111 ،مختلف نوعیت کے دھماکوں کے حوالے سے 10 جبکہ 6،828 افراد کو ابتدائی طبی امداد دے کر ہسپتال منتقل کیا گیا۔مزید برآں ڈسٹرکٹ منڈی بہاؤالدین میں مریضوں کی بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں منتقلی کے عمل کیلئے Patient Transfer Service”ـ”کا آغاز فروری 2017 سے کیا گیا جو ابھی تک جاری و ساری ہے اور اب تک تقریبا 8،394ََ افراد کو چھوٹے ہسپتالوں سے بڑے اور جدید ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ ریسکیو1122 جیسی سروس ، کارکردگی، پیشہ ورانہ طرز عمل، موثر مینجمنٹ سمیت دیگر اداروں میں بھی عوام الناس کی فلاح کیلئے دیگر زندگی کے شعبوں میں بنائے جائیں تاکہ ملک پاکستان کے عوام کو جدید دنیا کے طرز کی بنیادی سہولتیں فراہم ہوسکیں۔ محفوظ پنجاب ، محفوظ ڈسٹرکٹ منڈی بہاؤالدین کے ریسکیو 1122کا کردار ہمیشہ ناقابل فراموش رہے گا۔

تحریر:
میڈیا کوآرڈنیٹر ریسکیو 1122 منڈی بہاؤالدین،
عاطف رفیق

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں