73

رمضان بازار، عام آدمی کیلئے ریلیف کا بھرپور ذریعہ ( راجہ منصور علی خان )

رمضان بازار، عام آدمی کیلئے ریلیف کا بھرپور ذریعہ

رمضان المبارک اپنی تمام تر برکتوں اور فضیلتوں کے ساتھ اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بلاشبہ اتنی سخت گرمی میں اﷲ کی رضا کے لئے بھوک پیاس برداشت کرنا تزکیہ نفس کا افضل ترین مقام ہے۔ خدا تعالیٰ بھی مسلمانوں کی بندگی کا صلہ توقع سے بڑھ کر دیتا ہے۔گزشتہ کئی برسوں کی طرح پنجاب حکومت نے اس مرتبہ بھی رمضان بازاروں کے ذریعے عام آدمی کو روزمرہ کے استعمال کی اشیا پر بھاری بھر کم سبسڈی دینے کا عوام دوست پیکیج دیا۔ جناب وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا ویژن یہ ہے کہ سبسڈی براہ راست طور پر صرف ایسے افراد تک پہنچے جو معاشی طور پر زیادہ مستحکم نہیں۔ اربوں روپے کا رمضان پیکیج صوبے کے طول وعرض میں ایک نئے کلچر کا استعارہ بن گیا۔ بڑے شہروں سے لے کر چھوٹے چھوٹے قصبوں میں رمضان بازار پوری آب وتاب کے ساتھ خدمت کے جذبے کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ عام مارکیٹ کی بہ نسبت رمضان بازاروں میں تازہ اور معیاری پھل،سبزیاں، گوشت سستے داموں فراہم کئے جارہے ہیں۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ وزیراعلیٰ جناب عثمان بزدار کے ویژن کے تحت رمضان بازاروں کا قیام ایک کامیاب منصوبہ ثابت ہوا ہے۔ ضلع منڈی بہاؤالدین میں اس وقت 4رمضان بازار کام کررہے ہیں۔ تحصیل منڈی بہاؤالدین میں ایک رمضان بازار کمیٹی روڈ اور دوسرا کنگ چوک پر کام کررہا ہے۔ ملکوال میں ایک رمضان بازار تھانہ روڈ پر صارفین کو بہترین خدمات فراہم کررہا ہے۔

حکومت کی جانب سے اربوں روپے کے پیکج کے تحت کم آمدنی والے افراد کو اشیائے خوردونوش کی ارزاں داموں فراہمی کیلئے صوبے بھر میں 309رمضان بازار اور نادار افراد کیلئے 2،000 مدنی دستر خوان قائم کئے گئے ہیں۔ جہاں سے روزانہ ہزاروں کی تعداد میں عوام الناس استفادہ حاصل کررہے ہیں۔ڈپٹی کمشنرمنڈی بہاؤالدین مہتاب وسیم اظہر نے رمضان المبارک شروع ہونے سے 03 یوم پہلے ہی تمام رمضان بازاروں کو فعال کرادیا۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرریونیو ملک غضنفر علی اعوان،تینوں تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز نے ذاتی طور پر نگرانی کرکے رمضان بازاروں کا قیام عمل میں لائے۔ ڈی او (انڈسٹری) نے بھی اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جناب ڈپٹی کمشنر نے تقریباً ہر روز رمضان بازاروں کے دورے کئے۔ یہ محض روایتی دورے نہیں تھے بلکہ انہوں نے ہر سٹال کا تفصیلی معائنہ کرکے مزید بہتری کی ہدایات جاری کیں۔

یہ بھی پڑھیں:
سیکرٹری ٹرانسپورٹ پنجاب سید جاوید بخاری کا ڈپٹی کمشنر کے ہمراہ منڈی بہاوالدین کے گندم خریداری مراکز اور رمضان بازار کا دورہ. ہدایات جاری

پنجاب حکومت کی طرف سے سیکرٹری ٹرانسپورٹ سید جاوید بخاری بھی باقاعدگی کے ساتھ ضلع منڈی بہاؤالدین کے دورے کررہے ہیں۔ انہوں نے رمضان بازاروں کے انتظامات پراپنی مسرت کا اظہار کیااورگندم خریداری مراکز کے دورے کرکے وہاں نہ صرف کسانوں کی سہولیات کے حوالے سے نہ صرف انتظامات کا جائزہ لیا بلکہ متعلقہ افسران کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے گندم کے ٹارگٹ کو ہر صورت پورا کرنے کا حکم بھی دیا۔ یہ ضلعی انتظامیہ کے لئے ایک اعزاز ہے کہ صوبائی سطح پر اس قسم کے اقدامات کو پذیرائی بخشی گئی۔ رمضان میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں مستحکم رکھنے کیلئے بلاتعطل ڈپٹی کمشنراور اسسٹنٹ کمشنرزنے رمضان بازاروں کے دورے کئے اور بولی کے عمل کی نگرانی کی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ رمضان بازاروں کیلئے ایسی جگہوں کا انتخاب عمل میں لایا گیا ہے جہاں عام آدمی کی رسائی آسان ہو۔ اس کے علاوہ پنکھوں، جنریٹراور ڈسپنسری کا بھی انتظام ہے۔ سبزیاں، پھل اور دیگر ضروری اشیا کی وافر مقدار میں فراہمی عمل میں لائی جارہی ہے۔ یہ تو وہ اقدامات ہیں جو سرکاری سطح پر اٹھائے گئے جبکہ سحر اور افطار کے اوقات میں مستحق افراد کیلئے مخیر افراد کے تعاون سے ’’دسترخوان‘‘ بھی لگائے گئے۔ خوش قسمتی سے منڈی بہاؤالدین کی تاجر برادری نے ہمیشہ عوام دوست کاموں میں انتظامیہ کا ہاتھ بٹایا ہے۔اس مرتبہ بھی صاحب ثروت افراد پیچھے نہیں رہے۔ اہم مقامات پر مدنی رمضان بازاروں کے ذریعے مسافروں اور مستحق افراد کو افطاری کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔

اﷲ کا کرم ہے کہ اس بار گزشتہ برس کی بہ نسبت زیادہ مدنی دسترخوان لگائے گئے۔ اس کا سہرا ڈپٹی کمشنر کے سر جاتا ہے جنہوں نے رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے ممتاز شہریوں کے ساتھ ملاقات کرکے نیکی کے کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب دی۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان اشتراک عمل کی بہترین مثال ہے۔ رمضان بازاروں کے ذریعے حکومت نے عوام کی خدمت کا بیڑہ اٹھایا جبکہ مدنی دسترخوانوں کے ذریعے نجی شعبے نے خدمت خلق کا کام انجام دیا۔ سخت گرمی کے دوران رمضان بازاروں میں سٹال لگانے والے دکاندار، ڈیوٹی دینے والے سرکاری ملازمین بالخصوص پولیس اہلکار ستائش کے مستحق ہیں۔ سب اپنے فرائض دیانتداری سے ادا کررہے ہیں۔ یہ بھی ایک عبادت ہے اور اﷲ ہی اس کا اجر دے گا۔

تحریر:
راجہ منصور علی خان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں