145

چلڈرن ہسپتال منڈی بہاؤالدین مسائل کی آماجگاہ بن چکا. خواتین کے ساتھ بدتمیزی معمول. لوگ صبح سے شام تک لمبی لمبی لائنوں میں میں پرچی کیلئے ذلیل ہوتے رہتے ہیں. ویڈیو دیکھیں

منڈی بہاؤالدین چلڈرن ہسپتال مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے لوگوں کو حقیر نگاہوں سے دیکھا جانے لگا کروڑوں روپے کی لاگت سے سے چلنے والا ہسپتال کا کوئی والی وارث نہیں ہیں ہیں خواتین کے ساتھ بدتمیزی معمول بن چکا ہے لوگ صبح سے شام تک لمبی لمبی لائنوں میں میں پرچی کیلئے ذلیل ہوتے رہتے ہیں

منڈی بہاؤالدین ( طلعت محمود 23 مئی 2019 ) چلڈرن ہسپتال مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے آملہ بدتمیز ہے خواتین کے ساتھ بدتمیزی معمول بن چکا ہے 22لاکھ آبادی کے لیے صرف ایک چلڈرن ہسپتال ہے وہاں پر بھی سہولیات کا فقدان ہے ایمرجنسی سینٹر ہی موجود نہیں صبح سے شام تک والدین بچوں کو لے کر لائنوں پر لگے ہیں ایک بیڈ پر تین تین بچے، راہداریوں میں فرش پر بچوں کو لٹا دیا گیا ٹیسٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے والدین پرائیویٹ مہنگے ٹیسٹ کروانے پر مجبور.

کچھ میڈیسن ہسپتال سے جبکہ زیادہ میڈیسن باہر سے منگوائی جارہی ہیں والدین کا کہنا ہے ادویات مل رہی ہیں اور نہ مناسب علاج کیا جارہاہے متعدد بچوں کو دیگر ہسپتالوں میں ریفر کیا جارہا ہے منتخب نمائندوں نے کبھی بھی اس ہسپتال کا رخ ہی نہیں کیا سو جس کی لاٹھی اس کی بھینس.

یہ خبر بھی پڑھیں:
گورنمنٹ چلڈرن ہسپتال منڈی بہاوالدین میں روزانہ کی بنیاد پر تقریبا 800 سے 1،100 تک مریض بچوں کو چیک کیا جاتا ہے اور بروقت فرسٹ ایڈ مہیا کی جاتی ہے. ایم ایس ڈاکٹر اظہر بوسال

چلڈرن ہسپتال اٹینڈنٹس کے بیٹھنے کا بندوبست۔ دور دراز سے آئے مریض بچوں کے لواحقین پریشانی میں مبتلا، جبکہ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ جتنے بھی مریض آتے ہیں ان کو چیک کیئے کیا جاتا ہے اگر صبح کی شفٹ پہ نہیں تو شام کی شفٹ میں چیک کر لیا جاتا ہے لواحقین کا ڈپٹی کمشنر اور اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں