127

تحریک عدم اعتماد کے بعد میونسپل کمیٹی ملکوال کا اصل چیئرمین الحاج قمر خان (تحریر سکندر گوندل)

” تحریک عدم اعتماد کے بعدمیونسپل کمیٹی ملکوال کا اصل چیئرمین الحاج قمر خان،،،،،،
فیصلہ آج ہو گا” 

اڑھائی سال قبل ہونے والے بلدیاتی الیکشن میں میونسپل کمیٹی ملکوال کے چیئرمین کے انتخاب میں واضع اکثریت کے باوجود الحاج قمر خان کوایک سوچی سمجھی سازش اور دھاندلی کے ساتھ شکست دلوائی گئی ،اورمیونسپل کمیٹی کی چیئرمینی اسٹے آرڈرز پر چلتی رہی جبکہ چیئرمین کی کرسی پر بیٹھے موصوف اس عرصہ کے دوران تذبذب اور پریشانی کا ہی شکار رہے۔واضع رہے کہ جب اڑھائی سال قبل ملکوال میں بلدیاتی الیکشن ہوا تو اس الیکشن میں الحاج قمر خان ،انکے دو سگے بھائیوں ظہور خان ،ثمرخان اور کزن معین خان سمیت ملکوال شہر کے 12 وارڈز میں سے کونسلرز کی 8سیٹیں واضع مارجن سے قمرخان گروپ کے حصے میں آئیں جبکہ مخالف گروپ صرف 4 سیٹیں جیت سکا اور یوں ہر خاص و عام کو میونسپل کمیٹی کے چیئرمین کیلئے الحاج قمر خان کی فتح یقینی محسوس ہونے لگی ،لیکن انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت کی انتظامیہ، لیگی ایم پی اے اور دیگر رہنماﺅں نے ملکوال کے ساتھ تاریخ کی بدترین دھاندلی کرتے ہوئے عوام کے مقبول ترین لیڈر اور ملکوال کی ہر دلعزیز اور مخلص شخصیت الحاج قمر خان کو چیئرمین نہ بننے دیا۔

یہ بھی پڑھیں
مسائل سے اکتائے ہوئے عوام نے ایم پی اے کے مقامی امیدوار قمر خان کے حق میں متفقہ فیصلہ کر دیا

میونسپل کمیٹی ملکوال کے چیئرمین کے الیکشن کی تاریخ مقرر کی گئی تو ساتھ ہی الحاج قمر خان اور ملکوال کے عوام کے ساتھ دھوکہ ،فراڈ اور بددیانتی کرنے کی منصوبہ بندی بھی شروع کردی گئی، بعض مسلم لیگی رہنمائوں نے بظاہر تو الحاج قمر خان کی حمایت کے دعوے بھی کیئے مگر چیئرمین شپ کے الیکشن سے ایک دن قبل الیکشن اور پولنگ کروانے والے پریزائڈنگ آفیسر اور دیگر متعلقہ سٹاف نے الحاج قمر خان کے ساتھ دھاندلی کا مکمل پروگرام ترتیب دے لیا تھا۔ادھر مسلم لیگی قیادت نے شہر کے پرانے اور دیرینہ مسلم لیگی رہنما اور ہر دور میں مسلم لیگ(ن)کا ساتھ دینے والے کارکن راﺅ محمد طارق کو الحاج قمر خان کے مقابلہ میں ٹکٹ دینے کی بجائے ایک دوسرے اور عام کونسلر کو اپنا امیدوار نامزد کر دیا جسے ملکوال کی اکثریت جانتی بھی نہ تھی۔

یہ بھی پڑھیں
الحاج قمر خان نے چیئرمین اور راجہ خرم عباس نے وائس چیئرمین ملکوال میونسپل کمیٹی کا حلف اٹھا لیا

خدا خدا کرکے میونسپل کمیٹی ملکوال کے چیئرمین کے منتخب ہونے کا دن آیا تو چونکہ الحاج قمر خان کے پاس اپنے گروپ کے 8 ممبران بھرپور طریقہ سے مکمل تھے لہٰذاہر کسی کی زبان پر یہ ہی بات تھی کہ پولنگ تو محض ایک فرضی کاروائی ہے اور الحاج قمر خان ہی ملکوال میونسپل کمیٹی کے چیئرمین منتخب ہوں گے،لیکن افسوس صد افسوس کہ ملکوال میونسپل کمیٹی سمیت ملکوال کے عوام کے ساتھ ناانصافی کرنے والوں اور شہر کی بربادی کی نئے سرے سے ابتدا کرنے والوں نے نہ تو خدا کا خوف کھایا،نہ دھاندلی کرتے ہوئے اپنے بچوں کو حرام کھلانے کا موجب بننے سے ڈرنے کا سوچا اور نہ ہی ملکوال کے 12 وارڈز میں سے 8 نشستوں پر الحاج قمر خان کی فتح اور بھاری عوامی مینڈیٹ کی قدر کی ۔

یہ بھی دیکھیں
قمر خان کا اپنی شکست کے بعد حلقہ پی پی 68 کی عوام کیلئے ویڈیو پیغام، دیکھیں اس ویڈیو میں

ملکوال کی ترقی اور خوشحالی کے دشمنوں نے ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے ساتھ چیئرمین کے الیکشن کے روز صبح ہی الحاج قمر خان کو یہ کہا کہ آپ ذرا جلدی اپنے کونسلرز کو بلوا لیں تا کہ آپکے ووٹ پہلے کاسٹ کروا لئے جائیں ،اس پر الحاج قمر خان نے اپنے حمایت یافتہ کونسلرز کے پانچ سے چھ ووٹ پہلے کاسٹ کروا لئے ،اس کے بعد پریزائیڈنگ آفیسر اور اسکے ماتحت سٹاف نے اپنی پلان شدہ گیم کا آغاز کرنا تھا ، جب الحاج قمر خان کے حمایت یافتہ 6 کونسلرز اپنے ووٹ قمر خان کے حق میں بغیر کسی ڈبل مہر یا غلطی کے کاسٹ کرچکے تھے کہ عین اس وقت طے شدہ منصوبہ بندی کے مطابق پریزائیڈنگ آفیسر اور دیگر سٹاف نے جان بوجھ کر مخالف امیدوار قدیر الحسن کو ساتھیوں کے ہمراہ پولنگ بوتھ کے اندر اس انداز میں شورو غل کرنے کیلئے بھیجا کہ قمرخان گروپ کے ساتھیوں کو طیش دلا یا جائے اور اس طرح دونوں اطراف سے تھوڑی بہت ہلڑ بازی کروائی جائے ،

یہ بھی پڑھیں
تحریک انصاف کے نومنتخب ایم پی اے گلریز افضل چن کو اغوا کرنے کی کوشش، گاڑیوں کو نقصان پہنچانے پر سابق آزاد امیدوار قمر خان اس کے بھائیوں سمیت 100افراد کیخلاف مقدمہ درج

یوں سازشیوں اور دھاندلی سازوں کی کوشش کو کامیاب بنایا گیا اور اسی اثنا میں تو تو میں میں کابہانہ بنا کر پولنگ روک دی گئی اورساتھ ہی پولنگ بوتھ کے اندر موجود ایک غدار اور بے ضمیر نے چند ٹکوں کے عوض پولنگ باکس کو کھول کر ا لحاج قمر خان کو ڈالے گئے 8 ووٹوں میں سے چار ووٹوں پر ڈبل مہریں لگا دیں اورالحاج قمر خان کے چار ووٹ نتیجہ آنے پر ڈبل مہر کی بنا پرمسترد تصور کئے گئے اور یوں دھاندلی اور سازش کر کے مقابلہ چار چار ووٹوں سے برابر قرار دیا گیا۔اسی پر بس نہیں بلکہ پریزائڈنگ آفیسر نے نئی چال چلتے ہوئے ٹاس پر فتح کا فیصلہ کرنے کا اعلان کیا اور عینی شاہدین کے مطابق سکہ لے کر پہلے ٹاس کی باقاعدہ متعدد بار اس طرح پریکٹس کی گئی کہ اس طریقہ سے سکہ ایک ہی سمت میں گرتا ،اور الحاج قمر خان خان کے مدمقابل کو یہ بات سمجھا دی گئی کہ ٹاس فلاں شخص کرے گا اور تم نے سکے کی فلاں سائیڈ منتخب کرنی ہے۔

اس طرح ڈبل دھاندلی کر کے الحاج قمر خان کے مقابلے میں آدھے ووٹ لینے والے کو میونسپل کمیٹی ملکوال کا چیئرمین بنا دیا گیا جسکے پاس نہ تو کوئی قرارداد منوانے کو اکثریت تھی نہ کوئی منصوبہ منظور کروانے کیلئے ایوان میں اکثریت تھی اور نہ ہی موصوف بجٹ منظور کروانے میں مطلوبہ معیار پر پورا اتر سکتے تھے۔اس صورت حال کے بعد جب کچھ عرصہ گزرا تو ملکوال کے عوام کے پرزور اصرار پر الحاج قمر خان نے مخالف امیدوار کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنا چاہی تو سازش کے تحت منتخب شدہ چیئرمین نے اپنے استادوں کی مدد سے عدالتوں میں اسٹے آرڈر لینے شروع کر دیئے دوسری طرف الحا ج قمر خان کے حمائتی کونسلرز نے بھی ہر پلیٹ فارم پر اپنے قائد کا ساتھ دیا اور بالآخر وہ وقت آگیا جب ہائی کورٹ نے تمام اسٹے ختم کرتے ہوئے میونسپل کمیٹی ملکوال میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کی اجازت دے دی ۔

اب صورت حال یہ ہے کہ لیڈیز،کسان، لیبرکی نشستیں ملا کر میونسپل کمیٹی ملکوال کی 18 میں سے 12 نشستیں الحاج قمر خان گروپ کے پاس ہیں جبکہ چیئرمین کی کرسی پر بیٹھے شخص کے پاس صرف 6 ممبران ہیں۔ آج 4 اپریل بروز جمعرات میونسپل کمیٹی کے اجلاس میں الحاج قمر خان کی طرف سے بھاری اکثریت کے ساتھ موجودہ چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جارہی ہے اور قوی امید ہے کہ یہ تحریک کامیاب ہو گی اور الحاج قمرخان جو چیئرمین کے حقیقی حقدار تھے وہ آج چیئرمین کی نشست کیلئے اہل قرار پائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں
مسلم لیگ ن کے چیئرمین حافظ قدیرالحسن شاہ کیخلاف تحریک عدم اعتماد کیلئے میونسپل کمیٹی ملک وال کا اجلاس 4 اپریل کو طلب، پوزیشن کونسلر قمر خان نے تحریک عدم اعتماد کیلئے درخواست دی تھی

واضع رہے کہ ملکوال کے عوام اور میونسپل کمیٹی دو لحاظ سے بدقسمت سمجھی جارہی ہے ایک تو سادہ اکثریت ہونے کے باوجود حق دار کو حق نہیں دیا گیا اور ناانصافی اور دھاندلی کے ذریعے ایک نااہل شخص کو چیئرمین بنوا دیا گیا جبکہ دوسری بدقسمتی یہ ہے کہ سات سے آٹھ کروڑ کا بجٹ جو ملکوال پر اور ملکوال کے عوام پر استعمال کیا جانا تھا وہ ضائع ہو رہا ہے اور شہر میں کوئی ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں ہو سکا ،شہر کی سڑکوں، گلیوں، راستوں کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں
میونسپل کمیٹی ملک وال کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کیخلاف تحریک عدم اعتماد دو تہائی اکثریت سے منظور. نئے چیئرمین اور وائس چیئرمین کیلئے الیکشن کمیشن نیا شیڈول جاری کرے گا

اڑھائی سال سے ملکوال کے شہریوں کے ساتھ ساتھ میونسپل کمیٹی کی خوبصورت عمارت بھی دھاندلی کرنے والوں اور اپنے ضمیر کے خلاف فیصلے کرنے والوں کی غیرت اورپست اخلاقی پالیسیوں پر نوحہ کناں رہی ہے ۔اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ ضمیر بیچنے اور ڈبل مہریں لگا کر حق دار سے حق چھیننے والوں کو تو اس دنیا میں سکون مل ہی جائے مگر اللہ کا قانون پورا پورا فیصلہ کرے گا اور اس دنیا میں نہ سعی قیامت والے دن میونسپل کمیٹی ملکوال کے الیکشن میں ڈبل مہریں لگانے اور لگوانے والوں پر پکڑ ضرور آئے گی اور انکے گناہوں اور عوام کش فیصلوں پر ایک ہی مہر لگے گی اور وہ خدا کے قہر کی مہر ہوگی۔

تحریر:
سکندر گوندل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں