250

سوشل میڈیا پر وائرل صدرعارف علوی کی تصویر کی حقیقت کیا؟

گزشتہ دنوں صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی کی ائرپورٹ پر سوتے ہوئے ایک تصویر سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی، جہاں حامیوں نے ان کی سادگی کو سراہا وہیں مخالفین نے تصویر کو تفریح طبع کا ذریعہ سمجھتے ہوئے ایسی ایسی میمز بنائیں کہ کیا کہنے ۔

کہتے ہیں کہ نیند تو سولی پر بھی آجاتی ہے، شاید ایسا ہی کچھ عارف علوی کے ساتھ ہوا لیکن یہ تصویر ان کے دور صدارت کی نہیں ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صدر عارف علوی کے صاحبزادے اواب علوی نے والد محترم کی پرانی ٹویٹ کو ری تویٹ کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ تصویر پرانی ہے جب عارف علوی ایم این اے ہوا کرتے تھے

عارف علوی نےیہ ٹویٹ 3 جنوری 2018 کو کی تھی، اسطرح سونے کی وجہ یہ تھی کہ ان کی لاہور سے کراچی کیلئے رات 10 بجے روانہ ہونے والی پرواز دھند کے باعث تاخیر کا شکار تھی، اور وہ کئی گھنٹوں سے اس انتطار میں تھے کہ پی آئی کی جانب سے انہیں اگلی پرواز کے بارے میں بتایا جائے

ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد یہ تصویر ایک دم سے وائرل ہوئی تو جانے بغیر کہ یہ پرانی تصویر ہے، کسی نے صدر مملکت کے عوامی انداز کی تعریف کی تو کسی نے تصویر ایڈٹ کرکے بیک گراؤنڈ تبدیل کیا اور حسب منشاء تبصرہ کر ڈالا۔

ایڈٹ کی گئی تصاویر میں کہیں صدر صاحب طیارے کی چھت پر دنیا کی سیر کو نکلے ہیں تو کہیں اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شریک ہیں



کسی منچلے نے اپنی تخلیقی صلاحیتیں استعمال کرتے ہوئے انہیں مسجد میں سلا ڈالا تو کسی نے مشہور زمانہ ہالی ووڈ فلم ’’ٹائی ٹینک ‘‘ کی یاد تازہ کراڈالی



اور تو اور انہیں اہرام مصر تک کی سیر کروا دی گئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں