69

چک سیدا گاؤں مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے گلیوں کی حالت نہائت ناگفتہ بہ ہو چکی ہے لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں. پانی گلیوں میں کھڑا ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا

ملک وال (نامہ نگار) چک سیدا گاؤں مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے گلیوں کی حالت نہائت ناگفتہ بہ ہو چکی ہے لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں جبکہ گندے پانی کی نکاسی کا بھی کوئی بندوبست نہیں ہے پانی گلیوں میں کھڑا ہونے سے لوگوں کو مشکلات پیش آرہی ہیں

ان خیالات کا اظہار سیاسی و سماجی رہنما منور نذیر گوندل نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ بچیوں کے ہائی سکول کے قیام کے لئے ایک ایکڑ قیمتی زمین وقف کر چکے ہیں مگر اس پر ابھی تک حکومت کی طرف سے تعمیر کا کام شروع نہیں ہو سکا ہے انہوں نے کہا کہ بنیادی مرکز صحت جس میں زچہ بچہ سنٹر کی سہولت حاصل ہے مگر اس تک جانے والے رستے کا براحال ہے اس کے لئے مین سڑک سے ہسپتال تک کارپٹ سڑک تعمیر ہونی چاہئے تاکہ مریضوں کو آمد ورفت میں مشکلات پیش نہ آئیں

اس کے علاوہ گاؤں کی دیگر گلیوں کی تعمیرومرمت بھی فوری ہونی چاہئے منور نذیر گوندل نے کہا کہ ٹوبھل کالونی سمیت کئی آبادیوں میں سوئی گیس کی سہولت بھی نہیں مل پارہی اور سیوریج کے گندے پانی کی نکاسی کے لئے سڑک کے دونوں اطراف میں نالوں کی تعمیر کی بھی اشد ضرورت ہے صاف پانی کی فراہمی نہ ہونے سے لوگ ہیپاٹیٹس،معدہ سمیت پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں جبکہ حکومت پنجاب نے ضلعی اور یونین کونسل کے فنڈز کے استعمال پر پابندی بھی عائد کر رکھی ہے،

منور نذیر گوندل نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزادر کی فوری توجہ مبذول کراتے ہوئے اصلاح احوال کا مطالبہ بھی کیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں