79

توکھدی اگ (تحریر: محمد ندیم اختر ڈھوک کاسب)

توکھدی اگ

کل بڑے لوک کی گلی سے گزرتے ہوئے کسی اونچے گھر کی بیرونی دیوار سے دھوئیں کے بگولے ابھرتے دیکھے جو فلک کی بلندیوں میں کہیں گم ہو رہے تھے دھوئیں کے خدوخال بتا رہے تھے آگ کافی دنوں سے بجھنے کا نام نہیں لے رہی تھی ایسے لگ رہا تھا جیسے گاؤں کے اس گھر میں کوڑا کرکٹ کوڑے دان میں پھینکنےکا رواج نہیں تھا بس گھر کے اندر ہی اندر ڈھیروں ڈھیر ، ڈھیر لگانے کا رواج پا رہا تھا جیسے جیسے امارت کے خدوخال بڑھنا شروع ہوگئے ویسے ویسے گھروں میں کوڑا کرکٹ کے ڈھیر بڑھنا شروع ہوگئے. غور طلب بات یہ ہے کہ اس ڈھیر میں سب جل جاتا سوکھا گیلا بس اسکو ماچس کی تیلی لگانے کی دیر ہوتی ہے .ایک دفعہ آگ لگ گئی پھر یہ آگ توکھدی رہے گی چاہے ایک ہفتہ گزر جائے. یہ ڈھیر موجود رہے گا مگر نکلتا دھواں اندر سے سب کچھ جلا کر راکھ کر دے گا. توکھدی اگ خطرناک حد تک لا محدود ہو جاتی ہے جب آپ اپنے اندر جلا لیتے ہیں. جب آپ اپنے گھروں میں جلا لیتے ہیں،جب آپ اپنے دلوں جلا لیتے ہیں ،جب آپ اپنے بھائی بہنوں کے درمیان جلا لیتے ہو.. یہ آگ جب جلتی ہے رشتے بھی بے معنی ہو جاتے ہیں اندر ہی اندر توکھدی اگ آپ کو اکیلا کرنے میں دیر نہیں لگاتی.

آج کے انسان کی عادات میں شا مل ہو رہا ہے کہ وہ کسی میٹھے بول میں بھی جلنے کا تڑکا لگائے بغیر بات مکمل نہیں کر پاتے..
توکھدی اگ نے انسان کی اقدار کو بدل کر رکھ دیا ہے. انسانی سوچ بس میرا گھر صاف تیرا گھر گندا. میرا واش روم صاف تیرے پیر گندے..

ہم کو یہاں لا کھڑا کیا ہے کہ ہم کسی دوسرے گھر جانے سے ڈرتے ہیں.. ہماری سوچ کا دائرہ کار وسیع ہونے کی بجائے ایک محدود دائرے میں گردش میں محو ہو رہاہے. اورہم آنے والی نسل کو اس محدود پیمانے پر پابند کر رہے. …

خدارا یہ توکھدی اگ کو محبت کی ٹھنڈک سے بجھایا بھی جا سکتا ہے.. ہم ایک گھر ،ایک محلہ اور گاؤں میں رہتے ایک دوسرے کو برداشت کر سکتے ہیں توکھدی اگ کا ساڑ ختم کیا جا سکتا ہے بس ضرورت ہے دلوں سے حسد بغض، کینہ اور عناد کو خیرباد کہنے کی.. توکھدی اگ کو ایک ہی دفعہ جلا کر ختم بھی کیا جا سکتا ہے یا اپنے من میں ایسا ڈھیر لگنے ہی نا دیں.

محمد ندیم اختر ڈھوک کاسب
Nadvad@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں