78

ریلوے انتظامیہ اور کشتی ٹھیکیدار کی مبینہ ملی بھگت، چک نظام کے مقام پر دریائے جہلم پر وکٹوریہ ریلوے پل کے اطراف کے پل پر لوہے کی چادریں بچھانے کا منصوبہ مکمل ہونے کے باوجود موٹرسائیکل سواروں کیلئے نہیں کھولا گیا

ملک وال(نامہ نگار) ریلوے انتظامیہ اور کشتی ٹھیکیدار کی مبینہ ملی بھگت ، چک نظام کے مقام پر دریائے جہلم پر وکٹوریہ ریلوے پل کے اطراف کے پل پر لوہے کی چادریں بچھانے کا منصوبہ مکمل ہونے کے باوجود موٹرسائیکل سواروں کیلئے نہیں کھولا گیا ، ملکوال سے پنڈادنخان سفر کرنے والے سینکڑوں موٹرسائیکل سوار مسافر سراپا احتجاج بن گئے ۔

تفصیلات کیمطابق محکمہ ریلوے نے قریباٌ 8ماہ قبل چک نظام کے مقام پر دریائے جہلم پر بنے ریلوے وکٹوریہ برج کے اطراف میں بنے لکڑی کے پل کو موٹرسائیکل سواروں کیلئے بند کر دیا تھا جس پر سابق ایم این اے ناصر اقبال بوسال کی کوشش سے وفاقی حکومت نے قریباٌ 80لاکھ روپے کی لاگت سے لکڑی کے تختے ہٹا کر لوہے کی پلیٹیں لگا دیں ،

پل بند ہونے سے دریا عبور کروانے کیلئے ایک ٹھیکیدار کو کشتی کا ٹھیکہ دیدیا گیا اور روزانہ ہزاروں مسافر فی موٹرسائیکل و سواری 70روپے دے کر دریا پار کرانے لگے یاد رہے کہ ملکوال اور پنڈدادنخان کے درمیان یہ واحد زمینی راستہ ہے کیونکہ ٹرینیں بند ہونے سے لوگ موٹرسائیکل اور رکشہ کے ذریعے سفر کرتے ہیں اور یہاں سے روزانہ چار ہزار سے زائد مسافر سفر کرتے ہیں ،
یہ خبر بھی پڑھیں
چک نظام وکٹوریہ ریلوے پل پر لوہے کی چاریں بچھانے کے منصوبہ کے تعطل کی خبریں شائع ہونے پر وزیر ریلوے شیخ رشید نے نوٹس لیتے ہوئے کام 15روز میں مکمل کرنے کا حکم دیدیا

مسافروں کے احتجاج پر مقامی ایم این اے ناصر اقبال بوسال نے ان کی سہولتکہ ملکوال اور پنڈدادنخان کے درمیان یہ واحد زمینی راستہ ہے کیونکہ ٹرینیں بند ہونے سے لوگ موٹرسائیکل اور رکشہ کے ذریعے سفر کرتے ہیں اور یہاں سے روزانہ چار ہزار سے زائد مسافر سفر کرتے ہیں ، مسافروں کے احتجاج پر مقامی ایم این اے ناصر اقبال بوسال نے ان کی سہولت کیلئے لوہے کی پلیٹیں لگانے کا منصوبہ منظور کرایا جو اب مکمل ہو چکا ہے تاہم ریلوے انتظامیہ نے پل صرف پیدل مسافروں کیلئے کھول دیا ہے جبکہ موٹرسائیکل سواروں کو جانے کی اجازت نہیں اور وہ مجبوراٌ کشتی کے ذریعے پل عبور کر رہے ہیں

انجمن تحفظ حقوق مسافراں ، انجمن کیلئے لوہے کی پلیٹیں لگانے کا منصوبہ منظور کرایا جو اب مکمل ہو چکا ہے تاہم ریلوے انتظامیہ نے پل صرف پیدل مسافروں کیلئے کھول دیا ہے جبکہ موٹرسائیکل سواروں کو جانے کی اجازت نہیں اور وہ مجبوراٌ کشتی کے ذریعے پل عبور کر رہے ہیں انجمن تحفظ حقوق مسافراں ، انجمن تاجران ، انجمن تحفظ حقوق شہریاں کے رہنماؤں سکندر حیات گوندل، نسیم اکمل خان اور دیگر نے الزام عائد کیا کہ ریلوے انتظامیہ ، کشتی ٹھیکیدار سے ملی ہوئی ہے اور جان بوجھ کر موٹرسائیکل کیلئے پل کو نہیں کھولا گیا کیونکہ کشتی ٹھیکیدار ماہانہ لاکھوں روپے کما رہا ہے اور پل نہ کھولنے کیلئے ریلوے حکام کو مبینہ طور پر نذرانہ دے رہا ہے ، انہوں نے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید اور پنڈدادنخان کے حلقہ سے منتخب ہونے والے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے مطالبہ کیا کہ پل کو موٹرسائیکل سواروں کیلئے بھی فوری طور پر کھولا جائے ۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں