57

حکومت کے 50 روز: کامیابیاں اور ناکامیاں

50 روزہ حکومت کا احتساب اور تجزیہ پاکستانی سیاست کی روایت نہیں رہا مگر چونکہ پی ٹی آئی نے خود ہی 100 روزہ پلان کے ذریعے اس روایت کی بنیاد ڈالی ہے، اس لیے مجھ سمیت بہت سے پاکستانیوں کےلیے یہ خاصی دلچسپی کا امر ہے کہ 100 روزہ پلان کا مڈ ٹرم تجزیہ کیا جائے۔

کامیابیاں

1۔ 50 لاکھ گھروں کی ابتدائی منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے۔ 10 اکتوبر کو پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ہاؤسنگ منصوبے کا باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے۔

2۔ پنجاب میں ایسے بلدیاتی نظام کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے جس سے اختیارت کی نچلی اور مقامی سطح پر منتقلی کا خواب ممکن ہو سکے گا۔ اس نطام کے تحت اگلے 3 ماہ میں بلدیاتی انتخابات متوقع ہیں۔

4۔ گرین اور کلین پنجاب پراجیکٹ کا آغاز 8 اکتوبر سے ہو رہا ہے جس کے تحت پورے پنجاب میں صفائی مہم چلائی جائے گی۔

5۔ پانی اور بجلی کے بحران کے طویل مدتی منصوبے کے تحت ڈیم فنڈ کا قیام۔

6۔ ٹیکس اسٹرکچر میں تبدیلیاں کی گئیں جس سے کم آمدن والے لوگوں پر ٹیکس کی شرح میں کمی جبکہ زیادہ آمدن والے لوگوں پر ٹیکس شرح میں اضافہ کیا گیا ہے۔

7۔ صنعتوں خاص طور سے ٹیکسٹائل سیکٹر کو مراعات جس سے فیصل آباد اور لاہور کی ٹیکسٹائل انڈسٹری پھر سے زندہ ہونے لگی ہے۔ سینکڑوں کارخانوں نے تین چار سال کے وقفے کے بعد پھر سے کام شروع کر دیا ہے۔

8۔ سادگی مہم کے ذریعے کروڑوں روپے کی بچت جبکہ غیرضروروی گاڑیوں کی فروخت سے قومی خزانے میں کروڑوں روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ وزرا اور اراکین اسمبلی پر بیرون ملک دوروں اور علاج کی سہولت پر پابندی کے ذریعے قومی خزانے کے بہترین استعمال کا مثبت پیغام دیا گیا ہے۔

9۔ بڑی سطح پر اینٹی کرپشن مہم کا تیز رفتار آغاز جس میں بابر اعوان کا استعفی اور شہباز شریف کی گرفتاری نمایاں ہیں۔ اس سلسلے میں لوٹی ہوئی جائیداد واپس لانے کےلیے برطانوی حکومت سے معاہدہ بھی اہم پیش رفت ہے۔

10۔ پنجاب میں قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن سے ہزاروں ایکڑ اور اربوں روپے مالیت کی زمین واپس لی گئی ہے۔

11۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار گورنر ہاؤسز تک عوام کی رسائی ممکن ہوئی۔ وزیر اعظم ہاؤس کو ریسرچ یونیورسٹی بنانے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ گورنر اور وزرائے اعلی ہاؤسز کو کمرشل مقامات میں تبدیل کرنے پر کام جاری ہے جس سے یہ عمارات حکومتی خزانے پر بوجھ کی بجائے آمدن کا ذریعہ بن جائیں گی۔

12۔ خارجہ امور میں بھارت کو واضح اور دوٹوک جواب کے ساتھ ساتھ گستاخانہ خاکوں کے خلاف ہر انٹرنیشنل فورم پر مؤثر احتجاج۔

ناکامیاں

1۔ کسانوں کےلیے جامع حکمت عملی کا فقدان نظر آتا ہے۔ ابھی تک زرعی پالیسی یا زرعی پیکج کی طرز پر کوئی حکمت عملی سامنے نہیں آ سکی۔ الٹا یوریا پر سبسڈی کے خاتمے اور بجلی کی قیمت میں اضافے سے کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

2۔ حکومت نے منی بجٹ میں قیمتوں میں بہت معمولی اضافہ کیا مگر مہنگائی کے شور میں دکانداروں، سی این جی پمپ مالکان، ایل پی جی ڈیلرز اور دوسرے تمام مارکیٹ ڈیلرز نے قیمتوں میں اعلان کردہ شرح سے کہیں زیادہ اضافہ کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں پرائس کنٹرول اتھارٹی مکمل طور پر غیر متحرک ہے۔

3۔ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بھی فی الحال کوئی ماسٹر پلان پیش نہیں کیا گیا۔

4۔ پولیس اور بیوروکریٹک ریفارمز پر کام انتہائی سست رفتار سے چل رہا ہے۔

5۔ اداروں میں چھوٹے اور درمیانے لیول پر کرپشن روکنے کےلیے نیب اور اینٹی کرپشن مکمل طور پر غیر متحرک ہیں۔

6۔ پنجاب کی وزارت اطلاعات نے اب تک انتہائی ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

7۔ پنجاب اور وفاقی سطح پر طویل کابینہ کی تشکیل پی ٹی آئی کے منشور اور ایجنڈے سے متصادم ہے، مگر اسے نمبر گیم کے لحاظ سے ایک کمزور حکومت کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

دنیا میں کوئی بھی چیز کبھی بھی پرفیکٹ نہیں ہو سکتی۔ بہتری کی گنجائش ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ پہاڑ جیسے مسائل کی موجودگی میں قلیل وقت میں تمام شعبوں پر بیک وقت فوکس کرنا بھی ممکن نہیں۔ حکومتی کارکرگی پر فائنل رائے تو کچھ سال بعد ہی دی جا سکے گی مگر میرے سیاسی شعور میں یہ چوتھی حکومت ہے، اور میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ صرف 50 دن کے وقت میں جتنی تیزی سے یہ حکومت کام کر رہی ہے اس سے پہلے کسی حکومت نے نہیں کیا۔

تحریر:
شاہد خان بلوچ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں