44

منڈی بہائوالدین میں تجاوزات کے خلاف آپریشن (تحریر: حامد مختار)

تجاوزات کے خلاف آپریشن

حکومت پنجاب نے صوبہ بھر میں تجاوزات، سرکاری زمینوں پر قبضے اور پختہ تعمیرات کے خلاف بلا تفریق آپریشن کا آغاز کیا ہے جس کیلئے ہر میونسپل کمیٹی، میونسپل کارپوریشن، میٹروپولیٹن کارپوریشن، تمام اضلاع کی تحصیل و ضلعی انتظامیہ سے سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضوں اور پختہ تعمیرات کے متعلق رپورٹ مانگی گئی تھی۔ ہر ضلع سے جو جو رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب کو لاہور بھجوائی گئی صوبائی کابینہ نے اس کے خلاف آپریشن کی منظوری دے دی لیکن مبینہ طور پر میونسپل کمیٹی منڈی بہاؤالدین کے ذمہ داروں نے ناجائز قبضوں اور پختہ تعمیرات کی رپورٹ دینے کی بجائے بازاروں کی ریڑھیوں اور دکانوں کے شیڈز کے متعلق رپورٹ بنا کر بھجوا دی جن کو گزشتہ روز ریموو کر دیا گیا لیکن سرکاری املاک پر غیر قانونی قبضوں اور شاہراہوں پر پختہ تعمیرات کرنے والوں کو دانستہ بچا لیا گیا ہے۔ منشی محلہ چوک سے جیل روڈ العصر مال ساجی شاہ چوک پھالیہ روڈ تک سڑک کی جنوبی سائیڈ 20 سے 30 فٹ تک تجاوز ہے وہاں آپریشن نہیں کیا گیا۔ اس روڈ پر تین بڑے شاپنگ مالز ہیں جوکہ سڑک سے کافی پیچھے ہٹا کر بنائے گئے تاکہ اگر کبھی آپریشن ہو تو انھیں نقصان نہ پہنچے۔اسی طرح کچہری روڈ، عثمانیہ محلہ، ریلوے روڈ، کشمیر کالونی، دھکا کالونی جیل روڈ، لاری اڈہ، ڈاکخانہ روڈ سب حکومت پنجاب کی ملکیتی زمین پر ناجائز قبضہ کرکے تعمیر کئے گئے ہیں۔ لنڈا بازار تجاوزات کی غلاظت سے اٹا ہوا ہے۔ اگلے ماہ پورا وارڈ نمبر پانچ لنڈا بازار کابل مارکیٹ میں تبدیل ہو جائیگا۔ پوری گوشت مارکیٹ پر ناجائز قبضہ ہے، الاٹیز نے دکانیں سب لیٹ کردی ہیں۔ اسی طرح ارشد ٹاؤن میں مسجد اقصٰی کے عقب میں کروڑوں روپے کی سرکاری زمین کو پلاٹوں کی صورت میں کوڑیوں کے مول فروخت کیا جارہا ہے۔ اوپر سے میونسپل کمیٹی منڈی بہاؤالدین نے قبضہ مافیا کے ساتھ ساز باز کرکے گلیوں میں ٹف ٹائلز لگا کر سہولت کاری کا کام انجام دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیر اعلٰی پنجاب بوگس رپورٹ بھجوانے پر متعلقہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لا کر مقدمات درج اور ارشد ٹاؤن سمیت دیگر جگہوں پر اربوں روپے کی سرکاری اراضی قبضہ مافیا سے واگزار کروائیں۔

دوسری جانب منڈی بہاؤالدین شہر کے صدر بازار میں تجاوزات ہٹاؤ آپریشن کیا گیا جس میں دکانوں کے شیڈ گرا دئیے گئے۔ انتظامیہ نے ہیوی مشینری سے بازاروں میں افراتفری مچادی، شٹرلگنے سے ایک خاتون شدید زخمی ہوگئیں۔ جنھیں ریسکیو1122نے ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ تجاوزات کی آڑ میں دکانوں کے شیڈ گرانے پر دکانداروں نے احتجاجی مظاہرہ کیا، دکانیں بند کرکے ٹائرجلاکرروڈ بلاک کردیا۔ دکانداروں کا کہنا تھا کہ انتظامیہ سرکاری اراضی پر پختہ تعمیرات ہٹانے کی بجائے غریب دکانداروں اور ریڑھی بانوں کو تنگ کررہی ہے۔شہر میں شیڈ گرانے کے بعد بازاروں میں ویرانی پیدا ہوگئی ہے جس سے بازاروں کی رونقیں ختم ہو گئی ہیں۔تجاوزات ہٹانے کی آڑ میں غریبوں کے چولہے ٹھنڈے کیے جارہے ہیں۔ وزیراعلٰی پنجاب بازاروں میں دکانوں کے شیڈ گرانے پر پابندی لگائیں جبکہ ہمیں پختہ تجاوزات ہٹانے پر اعتراض نہیں۔
یہ خبر بھی پڑھیں
کلین اینڈ گرین پنجاب مہم کے تحت تجاوزات کے خلاف بلاتفریق آپریشن جاری رکھا جائے۔سرکاری ملکیتی ایک انچ زمین پر بھی کسی کو قبضہ نہیں کرنے دیا جائیگا، ڈپٹی کمشنر

اس ساری صورتحال پر شہریوں کا ملا جلا ردعمل رہا، کسی نے اسے حکومت کی اچھی کارروائی اور کسی نے غریبوں پر ظلم سے تعبیر کیا۔ گزشتہ دور حکومت میں سرکاری سطح پر تجاوزات مافیا کی سرپرستی کی جاتی رہی۔ دو سو ریڑھی بانوں نے اٹھارہ لاکھ کی آبادی کو یرغمال بنا کے رکھا ہے اور سیاسی رہنما بھی ان دوسو ریڑھی بانوں کے ہاتھوں بلیک میل ہوتے ہیں۔ دکاندار خود تجاوزات کرواتے ہیں اور اپنی دکان کے سامنے ریڑھی لگوا کر بیس سے پچیس ہزار ماہانہ بھتہ/اڈہ جبکہ میونسپل کمیٹی والے اپنا حصہ وصول کرتے ہیں جبکہ عام شہریوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔

تجاوزات کے خلاف آپریشن پر تاجر تنظیموں نے بوجوہ خاموشی اختیار کی جس پر انجمن تاجران کے دونوں دھڑوں سے نالاں سونے کے کچھ تاجروں اور دکانداروں نے آج ہڑتال اور احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ ادھر مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما و ٹکٹ ہولڈر حلقہ این اے 85 چوہدری مشاہد رضا چیلیانوالہ کا کہنا ہے کہ تجاوزات ہٹانے کی آڑ میں انتقامی کاروائیاں ناقابل برداشت ہیں۔ پرامن احتجاج اور ہڑتال کی ہر کال پر اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہوں۔ غریب آدمی سے جینے کا حق چھینا جارہا ہے، غریب ریڑھی بان کو متبادل جگہ دئیے بغیر اس کا چولہا بجھا دیا گیا ہے۔ موجودہ حکومت منڈی بہاؤالدین کے عوام سے انتقام لے رہی ہے کیونکہ یہ میاں نواز شریف کے چاہنے والوں کا ضلع ہے۔ ن لیگ کو ووٹ دینے کے جرم میں تاجروں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ چوہدری مشاہد رضا نے مزید کہنا تھا کہ موجودہ پنجاب حکومت دماغی طور پر مکمل فارغ ہے قبضہ مافیا سے اربوں روپوں کی سرکاری زمینیں واگزار کروانے کی بجائے دکانوں کے سائبان اور شیڈ توڑ اور بورڈ اکھاڑ دئیے گئے ہیں۔ غریب ریڑھی بانوں کو دربدر کرنے اور دکانوں کے شٹر گرانے سے ملک میں کونسی تبدیلی لائی جارہی ہے۔ ملک کی اکانومی ٹھیک کرنے کی بجائے ریڑھیاں اور چھابڑے الٹا کر نیا پاکستان بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں نے مجھے جب بھی بلایا میں انکے لئے حاضر ہوں۔ ہڑتال یا احتجاج کی ہر کال پر انکے شانہ بشانہ کھڑا ہونگا۔ ہم وہ آپریشن تسلیم کریں گے جو غریب کی بجائے بااثر قبضہ مافیا کے خلاف ہو۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ منڈی بہاؤالدین کے بازار سو سال قبل موجودہ ڈی ایچ اے اور بحریہ ٹاؤن سے کشادہ اور خوبصورت بنائے گئے تھے لیکن دکانداروں اور میونسپل کمیٹی کی مبینہ ملی بھگت سے غلاظت، تعفن اور بدانتظامی کا نمونہ بن چکے تھے۔ ہر ذمہ دار باشعور شہری حکومت پنجاب کے اس اقدام کی بھرپور تائید کرتا نظر آتا ہے لیکن بازاروں سے ریڑھیوں کو ہٹائے جانے کے ساتھ ساتھ سرکاری زمینوں کو ناجائز قبضوں سے چھڑانے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں امید ہے کہ نئے پاکستان میں یہ عملی طور پر ہوکر رہے گا۔

تحریر:

حامد مختار

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں