67

گولی (تحریر: راجہ ذوالفقار علی)

گولی

اس ملک کی سب سے بڑی چیز ہے گولی جو سیاستدان عوام کو دیتے ہیں اور کریڈٹ لینے کے لیئے سرکاری محکمے ایک دوسرے اور سرکار کو دے رہے ھوتے ہیں اُوپر سے لیکر نیچے تک اور نیچے سے لیکر اُوپر تک ہر کوئی ایک دوسرے کو گولی دے رہا ہوتا ہے اور ہر گولی کے مختلف رنگ ہوتے ہیں اور کامیاب لیڈر یا افسر وہ ہوتا ہے جس کے پاس ہر وقت ہر رنگ اور ہر مرض کی گولی ہوتی ہے حالانکہ ہمارے ہاں کوئی بیمار پڑ جاے تو مشکل سے ہی اصلی گولی ملتی ہے اور آج بھی ملک کے اکثر حصوں میں طاقتور لوگ گولی کی سیاست کرتے ہیں

یہاں گولی کسی بھی قسم کی ہو وہ زیادہ تر نقصان دہ ہی ہوتی ہے ہاں گولی دینے والوں اور گولی چلانے والوں کو وقتی فائدہ ضرور دے رہی ہوتی ہے بعد میں اُن کا انجام بھی اُس قسم کی گولی کی نظر ہی ہو جاتا ہے ؟ کاروباری حضرات گاہکوں کو گولی دے رہے ہوتے ہیں تو تاجر مزدوروں کو زمیندار کسانوں کو تو قبیلے کے سردار اپنے قبائلیوں کا اقبال بلند کر رہے ہوتے ہیں پاکستان کی عوام کو سچ بتائیں تو وہ ووٹ نہیں دیتی ھے اس لیئے ان کے لیے بڑی سوچ سمجھ کر گولیاں تیار کی جاتی ہیں اور اُن گولیوں کے استعمال سے جب اقتدار ملتا ہے تو بعد میں آہستہ آہستہ عوام اُس گولی کے نشے سے پوری طرح باہر آ ہی نہیں پاتی تو کسی اور پارٹی کی نئی گولی کا شکار ہو جاتی ہے

دراصل ہم گولیوں کے نشے پر لگی ہجوم نما قوم ہیں جسے نہ کبھی پوری طرح ہوش آتا ہے اور نہ ہی گولیوں کی فیکٹریوں کی کمی ہے اب تو دوست رشتے دار بھی ایک دوسرے کو گولی پر گولی ہی دے رہے ہوتے ہیں ؟ گولیاں بھی تبدیل ہوتی رہتی ہیں اور مریض بھی مگر ڈاکٹر بڑے سائنسدان ہیں وہ تبدیل نہیں ہوتے تبدیلی کی قسم ! کیا کبھی کسی رنگ برنگی گولی سے کسی غریب کی قسمت بھی تبدیل ھو گی اور اْس کے بچے بھی باعزت ترقی کر پائیں گئے گولی کی قسم ؟

تحریر:
راجہ ذوالفقار علی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں