127

کلین اینڈ گرین پنجاب مہم کے تحت تجاوزات کے خلاف بلاتفریق آپریشن جاری رکھا جائے۔سرکاری ملکیتی ایک انچ زمین پر بھی کسی کو قبضہ نہیں کرنے دیا جائیگا، ڈپٹی کمشنر

منڈی بہاؤالدین ( ایم بی ڈین نیوز ) ڈپٹی کمشنر مہتاب وسیم اظہرنے کہا ہے کہ کلین اینڈ گرین پنجاب مہم کے تحت تجاوزات کے خلاف بلاتفریق آپریشن جاری رکھا جائے۔سرکاری ملکیتی ایک انچ زمین پر بھی کسی کو قبضہ نہیں کرنے دیا جائیگا۔ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر اور اے سی صاحبان روزانہ کی بنیاد پر تجاوزات گرانے کے حوالے سے اپ ڈیٹ رپورٹ پیش کریں۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے آج یہاں ڈی سی آفس میں انسداد تجاوزات کے خلاف حوالے سے منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو طارق خان نیازی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل نیلم سلطانہ خٹک،اسسٹنٹ کمشنرز،ڈی ایم اوز،سی اوز میونسپل کمیٹیز،ریونیو ،گیپکو ،پولیس اور دیگر اداروں کے افسران بھی موجود تھے۔

ڈپٹی کمشنر نے کہاکہ تجاوزات کو جلد ہٹانے کیلئے متعلقہ ادارے تمام وسائل بروئے کار لائیں تاکہ انسداد تجاوزات آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے۔انہوں نے افسران کو باور کرایا کہ تجاوزات اور قبضہ مافیا نے ہمارے گلی محلوں ،شاہراوں کی خوبصورتی کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے مگر اب ایسا نہیں ہونے دیا جائیگا۔انہوں نے واضح کیا کہ حکومت پنجاب کی گائیڈ لائن کے تحت ناجائز تجاوزات کے خاتمے اور قبضہ مافیا سے سرکاری زمین واگزار کروانے پر 100%عملدرآمد کو یقینی بنایا جائیگا۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر نے بتایا کہ ضلع منڈی بہاؤالدین میں 116750سکوائر فٹ پر مشتمل ایریا پر عارضی تجاوزات جبکہ 420480سکوائر فٹ پر مشتمل ایریا پر مستقل تجاوزات کے زمرے میں آتے ہیں۔جس کو کلئیر کرنے کیلئے ضلعی انتظامیہ ،پولیس اور تمام متعلقہ ادارے آپریشن کو کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے افسران سے کہا کہ سڑکوں،بازاروں،گلیوں کے دونوں اطراف ناجائز تجاوزات کو فل فور ختم کیا جائے۔ انہوں نے محکمہ پولیس کو ہدایت کی کہ تجاوزات کو گرانے کے عمل میں متعلقہ اداروں کو فل پروف سیکورٹی مہیا کی جائے۔

انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ تحصیل سطح پر اسسٹنٹ کمشنر انسداد تجاوزات کے حوالے سے فوکل پرسن مقرر کیے گئے ہیں۔ انہوں نے ڈی ایم او اور اسسٹنٹ کمشنر صاحبان کو واضح ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر تجاوزات کے گرانے ،جرمانے کرنے اور ایف آئی آر درج کرانے کے حوالے سے مصدقہ اپ ڈیٹ رپورٹ انہیں پیش کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں