27

کشیدگی کے باوجود پاکستان بھارتی فلموں کی ‘دلکش’ مارکیٹ

کراچی — پاکستان اور بھارتی سرحدوں پر کشیدگی ہو، وہاں جھڑپیں جاری ہوں یا تعلقات پیچیدگی کا شکار ہوں۔۔ تمام غیر موافق حالات اور اونچ نیچ کے باوجود پاکستان، بھارتی فلموں اور ڈراموں کی دلکش مارکیٹ ہے۔

ملک بھر میں بھارتی فلموں کا بزنس کامیابی سے جاری ہے اور کوئی مہینہ یا ہفتہ ایسا نہیں جاتا جب کوئی نہ کوئی بھارتی فلم اچھا بزنس نہ کرتی ہو۔ اس کی ایک تازہ مثال گزشتہ ہفتے ریلیز ہونے والی فلم ’سوئی دھاگہ‘ ہے۔

بھارتی فلم ’سوئی دھاگہ‘ کے ایک منظر میں ورون دھون اور انوشکا شرما

’سوئی دھاگہ‘ بھارت کی کامیاب ترین فلم ساز کمپنیز میں سے ایک ’یش راج فلمز‘ کی نئی پیشکش ہے جو بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی ریلیز ہوئی اور گزشتہ ہفتے اچھا بزنس کرنے والی فلموں میں سرِ فہرست رہی۔

پاکستانی کمپنی ’ڈسٹری بیوشن کلب‘ کی عہدیدار سدرا احمد نے وی او کو بتایا ہے کہ فلم نے ریلیز کے پہلے روز آٹھ کروڑ، دوسرے روز 12 کروڑ جب کہ تیسرے روز پانچ کروڑ روپے سے زیادہ کا بزنس کیا۔ یہ رقم مجموعی طور پر 36 کروڑ روپے سے زیادہ بنتی ہے۔

فلم کی کاسٹ میں ورون دھون اور انوشکا شرما سرِ فہرست ہیں جب کہ باقی کاسٹ میں زیادہ تر غیر معروف فنکار ہیں۔ فلم کے پروڈیوسر ادتیہ چوپڑا ہیں۔

سدرا کا کہنا تھا نان کمرشل موضوع ہونے کے باوجود فلم نے پہلے ویک اینڈ پر شاندار بزنس کرکے سب کو حیران کر دیا ہے۔ فلم نے پاکستان اور بھارت سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں انتہائی شاندار اوپننگ لی ہے۔

فلم لاہور، کراچی اور اسلام آباد سمیت پاکستان کے تمام بڑے شہروں کے 60 سے زائد سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔

ادھر پاکستان میں حالیہ برسوں میں بننے والی ایک درجن سے زائد فلمیں ایسی ہیں جو تیار ہونے کے باوجود ریلیز نہیں ہوسکی ہیں۔ ان میں سید نور کی تین فلمیں جب کہ دانش تیمور، احسن خان، معمر رانا اور سنگیتا کی کئی فلمیں شامل ہیں۔

ان فلموں کی ریلیز میں تاخیر کی وجہ بھارت کی مصالحہ فلموں کے سامنے مقامی فلموں کے ناکام ہوجانے یا خاطر خواہ بزنس نہ کر پانے کا خوف ہے۔

سید نور کی پچھلے سال ناکام ہونے والی فلم ’چین آئے نہ‘ کے بعد سے سید نور کو ان دیکھے خدشات لاحق ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ تین فلمیں تیار ہونے کے باوجود انہیں ریلیز نہیں کر رہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہیں کسی مناسب وقت کا انتظار ہو۔

ہدایت کار امین اقبال کی فلم ’رہبرا‘ کی ریلیز کو بھی یہی مسئلہ درپیش ہے۔

شعیب منصور پاکستانی فلم انڈسٹری اور ڈراموں کا بڑا نام ہیں لیکن پچھلے سال ریلیز ہونے والی ان کی فلم ’وجود‘ کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ بھی فلم یونٹ والوں کے حوصلے پست کردینے کے لیے کافی ہے۔

دانش تیمور اور ہدایت کارہ سنگیتا بیگم کی فلم ’تم ہی ہو‘ بھی تاحال ڈبوں میں بند پڑی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے شو بزنس کے سینئر صحافی اختر علی اختر کا کہنا تھا کہ ایک فلم کی ناکامی اور دوسری فلم کی ریلیز میں تعطل سے بڑی بڑی فلمی شخصیات کے مستقبل پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

ان کے بقول معمر رانا فلم انڈسٹری کا پرانا اور کامیاب نام ہے لیکن ان کی بھی ایک فلم ’بھائی وانٹڈ‘ تکمیل کے باوجود تاخیر کا شکار ہے۔

یہی حال ہدایت کار بلال لاشاری کی ’مولا جٹ‘ کا ہے جس کی شوٹنگ مکمل ہوچکی ہے لیکن ریلیز کی تاریخ کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔


جوانی پھر نہیں آنی جس کا حال ہی میں سیکوئل ریلیز ہوا ہے

اس دوران کچھ فلمیں انتہائی کامیاب بھی رہیں جیسے نامعلوم افراد، پنجاب نہیں جاؤں گی، ایکٹر ان لا اور جوانی پھر نہیں آنی وغیرہ۔

کچھ فلموں نے اوسط درجے کا بزنس بھی کیا جس کی بنیاد پر انہیں فلاپ نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن ان فلموں کی کامیابی کے درمیان کئی کئی برسوں کا فرق ہے۔

مقامی فلم انڈسٹری کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے اور بھارتی فلموں پر انحصار کو کم کرنے کے لیے مقامی فلموں کی مسلسل کامیابی لازمی ہے۔

فلمی حلقوں کے مطابق پاکستان فلم انڈسٹری کو اس منزل تک پہنچنے میں ابھی بھی کئی سال یا ممکن ہے عشرے درکار ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں