49

سیکنڈ ہینڈ اسموکنگ سے پاکستان میں ہزاروں بچے مردہ پیدا ہورہے ہیں

لندن: پاکستان میں حاملہ خواتین میں تمباکو نوشی کی شرح بہت کم ہے لیکن گھروں میں شوہر اور دیگر افراد کی تمباکو نوشی کے دوران اُگلا گیا دھواں انہیں شدید متاثر کرکے ان کے بچوں کی جان لے رہا ہے۔

یارک یونیورسٹی، برطانیہ کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی گھروں میں بالراست تمباکو نوشی (سیکنڈ ہینڈ اسموکنگ) کا دھواں سالانہ 17000 بچوں کی مردہ پیدائش کی وجہ بن رہا ہے۔ یعنی سگریٹ نوشی نہ کرنے والی حاملہ خواتین کے جسم میں جانے والا (دیگر افراد کا اُگلا گیا) سگریٹ کا دھواں، بچوں کو شدید متاثر کرکے بچوں کو ماؤں کے پیٹ میں یا پیدائشی عمل کےدوران ہلاک کررہا ہے۔

یونیورسٹی آف یارک کے ماہرین نے حال ہی میں طبّی تحقیقی جریدے ’’بی ایم جے ٹوبیکو کنٹرول‘‘ میں ایک سروے پیش کیا ہے۔ سروے میں شامل ماہرین کی ٹیم نے 30 ترقی پذیر ممالک میں خواتین اور گھرانوں سے 2008 سے 2013 تک مختلف سوالات کرکے نتائج مرتب کیے ہیں۔

اگر خواتین دورانِ حمل سگریٹ نہ بھی پئیں تب بھی سگریٹ کا دھواں ان کے اور ان کے بچے کےلیے انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔ زہریلے دھویں کی مسلسل موجودگی سے کم وزن بچے جنم لیتے ہیں، مردہ ہوتے ہیں یا پھر ان میں کوئی پیدائشی نقص واقع ہوسکتا ہے۔

اس ضمن میں سیکنڈ ہینڈ اسموک سے متعلق ڈیٹا کی کمی تھی اور اسی لیے اپنی نوعیت کا یہ پہلا سروے کیا گیا ہے۔ سروے میں مصر، آرمینیا، پاکستان، نیپال، موزمبیق، گیبون، نائجیریا، روانڈا، مالی اور اردن وغیرہ شامل تھے۔

پانچ سالہ سروے میں 37,427 حاملہ خواتین سے سوالنامے بھروائے گئے جو ان کے بچوں کی پیدائش کی کیفیت اور گھر میں شوہر کے سگریٹ پینے کے متعلق تھے۔ ان سوالات کو مختلف ماڈلز پر تیار کیا گیا تھا۔ سب سے کم شرح کانگو میں دیکھی گئی جو 17 فیصد تھی جبکہ پاکستانی گھروں میں خواتین میں سیکنڈ ہینڈ اسموک کا سامنا کرنے کی شرح 91.6 فیصد نوٹ کی گئی۔

اس طرح جب ڈیٹا سامنے آیا تو معلوم ہوا کہ پاکستان میں یہ شرح خطرناک حد تک زیادہ ہے اور سالانہ صرف سیکنڈ ہینڈ اسموکنگ کی وجہ سے یہاں 17000 بچے مردہ پیدا ہورہے ہیں۔ اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر کامران صدیقی یارک یونیورسٹی کے شعبہ صحت سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں 40 فیصد خواتین کو سگریٹ کے دھویں کا سامنا ہے۔

سروے کرنے والے ماہرین نے کہا ہے کہ مرد اپنے گھر میں حاملہ خواتین کو سگریٹ کے دھویں سےبچانے کی ہرممکن کوشش کریں تو اس خوفناک کیفیت سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں