21

الیکشن ضابطہ اخلاق کی وجہ سے انتخابی سرگرمیاں روایتی انداز اختیار نہ کر سکیں، کارکن اور امیدوار خوف کا شکار، پہلی مرتبہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر بلاامتیاز مقدمات درج کئے جا رہے

الیکشن ضابطہ اخلاق کی وجہ سے انتخابی سرگرمیاں روایتی انداز اختیار نہ کر سکیں ، کارکن اور امیدوار خوف کا شکار ہیں ، پہلی مرتبہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر بلاامتیاز مقدمات درج کئے جا رہے

ملک وال(نامہ نگار) الیکشن کمیشن کی طرف سے ضابطہ اخلاق کے قوانین پر عملدرآمد کیلئے سختی سے عمل کیا جا رہا ہے جس میں میں بڑے بینرز، پینا فلیکسز، بغیر اجازت ریلی ، جلسہ منعقد نہیں کیا جا سکتا امیدوار پانچ سے زائد گاڑیوں کا قافلہ لے کر نہیں چل سکتا ، اسلحہ کی نمائش نہیں ہو سکتی جبکہ بلدیاتی نمائندوں پر کسی بھی امیدوار کیلئے انتخابی مہم چلانے پر بھی پابندی کے قانون پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے
یہ خبر بھی پڑھیں
ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر نے قومی و صوبائی اسمبلی کے انتخاب لڑنے والے 8 نامزد امید واروں کو الیکشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر شو کاز نوٹسز جاری کر دئیے

پولیس کی جانب سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر امیدواروں ، بلدیاتی نمائندوں سمیت کارکنوں پر درجنوں مقدمات درج کئے چکے ہیں انتخابی ضابہ اخلاق کے قوانین پر عملدرآمد کیلئے قانون نافذ والے اداروں کی جانب سے سختی کے باعث انتخابی سرگرمیاں اپنا روایتی رنگ نہیں دکھا پا رہیں ، قبل ازیں الیکشن ایام میں الیکشن کیمپ ، بینرز ، ریلیاں ، ڈھول کی تھاپ پر کارکنوں کے بھنگڑے، جلسے ، پر جوش تقریریں ہوا کرتی ہیں کھابے شربت چائے سے ضیافتیں ہوا کرتی تھیں لیکن اس الیکشن میں وہ انتخابی رونقیں نظر نہیں آ رہیں

تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے پہلی مرتبہ ضابطہ اخلاق پر پابندی کیلئے بلاامتیاز کاروائیاں قابل تحسین ہیں ۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں