67

ڈھوک کاسب کا سیاسی منظر نامہ، تحریر محمد ندیم اختر

ڈھوک کاسب کا سیاسی منظر نامہ

گل گلزار ہیں سارے موسم بہار میں
پتیاں نچھاور کرتے ہیں گل.
خوشبو لگا کے
جلتا ہے زمانہ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے سے
افراد تو پسینے سے ٹھنڈک اٹھاتے ہیں
منڈی جانے بھرتا نہیں پیٹ
نالی پہ بک جاتی ہے یہ قوم
چاول! بر فی بریانی سے تو پھر بھر تا ہے پیٹ

پیوستہ رہ الیکشن سے امید ترقی رکھ

ڈھوک کاسب کی سیاسی
صورتحال پر منظر کشی کرنے سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ
اس گاؤں میں مختلف ذات برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد رہائش پذیر ہیں.
جن میں ساہی برادران کی اکثریت ہے اس کے بعد گوندل ،گجر اور ارائیں خاندان قابل ذکر ہیں..

ان کے علاوہ چیدہ چیدہ برادریاں بھی موجود ہیں.
ڈھوک کاسب کے سیاسی منظر نامے کو بالکل. غیر معمولی صورتحال کا سامنا رہا ہے
طارق محمود ساہی جب تک ٹکٹ کی دوڑ میں شامل تھے اس وقت گاؤں کے افراد کا رجحان ساہی برادران کی جانب واضح طور پر مجود تھا.. پی ٹی آئی کے نظریاتی ووٹ پانچ فیصد سے بھی کم ہیں. ان کو ٹکٹ جاری نہیں ہو سکا ہے. اب گاؤں کی سطح پر مقامی امیدوار کی مجبوری ختم ہو چکی. جس سے ڈھوک کاسب کا سیاسی منظر نامہ مکمل طور پر تبدیل ہو چکا.

اب محترم حمیدہ وحید الدین کی پوزیشن واضح نظر آ رہی ہے. یاد رہے میں مسلم لیگ ن کا ذکر نہیں کر رہا ہوں. ایم ایم اے کا امیدوار ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے.پی پی پی پی منفی میں جا رہی ہے. ساہی برادران حلقہ پی پی 65 میں کس کروٹ جاتے ہیں. ابھی تک واضح نہیں ہے.. لیکن گوندل، زیادہ تر گجر برادری اور ارائیں خاندان کا زیادہ تر جھکاؤ محترمہ حمیدہ وحید الدین کی جانب یے. چند ایک خاندان ارشد محمود ککو صاحب سے ذاتی تعلقات رکھتے ہیں.

نیشنل اسمبلی میں ڈھوک کاسب میں محترم ریاض فاروق ساہی صاحب کی برتری نظر آ رہی ہے. جس کی دو وجوہات ہیں. پہلی وجہ مقامی ہونا. اور دوسری وجہ جماعت اسلامی ہے. ان کو ڈھوک کاسب سے ہر برادری سے ووٹ ڈالے جائیں گے..

اس کے جناب حاجی امتیاز احمد ہیں جن کو ساہی برادران کی مکمل حمایت حاصل ہے.جن کا اثر ورسوخ اس گاؤں سے بلے کو ووٹ ڈالوانے کے کام آئے گا.. مسلم لیگ ن کے مشاہد حسین کو گوندل برادران یا چند گھر ساہی فیملی کا ساتھ ہو گا..

آصف بشیر بھاگٹ صاحب کا حصہ ایک فیصد تک نظر آ رہا ہے. ڈھوک کاسب کی خاص بات ہے یہاں کی سیاست پارٹی کی بنیاد پر نہیں بلکہ ذاتی اثرو رسوخ،مفادات اور برادری کو بنیاد بنایا جاتا ہے. نظزیاتی ووٹ بھی حالات کے پیشِ نظر اپنی پارٹی بدلتے رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اجتماعی کاموں کو پس پشت ڈالا جاتا ہے اور انفراسٹرکچر پر توجہ مرکوز نہیں کی جاتی. .

MUHAMMAD NADEEM AKHTAR
nadvad@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں