97

تیرا کھیت.. میرا کھیت (تحریر: محمد ندیم اختر)

تیرا کھیت.. میرا کھیت

بقول ٹیپو سلطان

شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے.
ابھی پرسوں ہی کی بات ہے. ماہ بدولت ڈھوک کاسب سے ڈھوک مراد کی جانب بذریعہ پیدل کھڈوں سے بھرپور سڑک پر چل رہے تھے. سیم نالے کے اس پاربکریوں کا ریوڑ کھیت میں چرتا دکھائی پڑا.
ایک انسان اور دو شیر نما جانور ان کی نگرانی پر مامور تھے.
کیا دیکھتا ہوں بکریاں ان سے نظر بچا کر دوسرے کھیت میں گھستی جا رہی تھیں. کبھی کبھی دائیں کبھی بائیں. ان شیر نما جانوروں کو کیا پتا بکریاں کہاں سے داؤلگا کر نکل جائیں.. بکریوں کی عادت بکریاں جانیں ہمارے سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے والے دانشور آج کل یہ مثالیں دیتے نہیں تھکتے.
سو شیروں کا لیڈر ایک بکرا ہو تو ان سے کام نہیں لے سکتا.. اگر سو بکروں کی ٹیم کا لیڈر ایک شیر ہو تو وہ اپنی ٹیم سے بھر پور انداز سے کام لے سکتا ہے..
شیر والی بات صاحب آپ ٹیپو سلطان سے لے کر دیکھ لیں. وہ بلاشبہ شیر تھے. مگر اپنی ٹیم کی وجہ سے میچ ہار گئے..
ان کی ٹیم میں ایسے لوگ شامل تھے جو میچ تو آپ کی طرف سے کھیلتے مگر اپنی ٹیم کی کمزوریاں مخالف ٹیم کو گوش گزار کرتے جاتے. میر صادق ،میر جعفر بھی تو ٹیپو سلطان کی ٹیم کے کھلاڑی تھے بھئی ٹیم وہی معنی رکھتی جو آپ نے خود محنت و لگن سے تیار کی ہو آپ کو اپنے ہر کھلاڑی کی خوبی و خامی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے.
پھر آپ ان سے اپنی مرضی کا کام لے سکتے ہیں. پلی پلائی ٹیم آپ کو کیا رزلٹ دے گی جو دوسروں کے کھیتوں سے کھانے کی عادت رکھتی ہو. پاکستانی سیاسی دور بھی کچھ اس طرح کے حالات سے دو چار ہے ہر سیاسی جماعت اپنی ٹیم بنانے میں مصروف ہے.. کھلاڑیوں کے انتخاب میں ہر لیڈر نے اپنے کھیت کی باڑ ہٹا کر عام بکریوں کے لئے راستہ کھلا چھوڑ دیا ہے. اب سے جو ٹیم بنے گی وہ ٹیم کیا خاک کھیلے گی.

تیرے کھیت سے میرے کھیت میں آنے والی بکریاں نقصان ہی کریں گی نا.

تحرہر: محمد ندیم اختر
nadvad@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں