27

سوشل میڈیا پر 4 ماہ کے دوران ریاست اور فورسز مخالف اکاؤنٹس میں کئی ہزار کا اضافہ ہوگیا

سوشل میڈیا پر پاکستان اور پاک فوج کیخلاف پروپیگینڈا کیا گیا، جو کچھ سوشل میڈیا پر پیش کیا گیا اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، ایسے پروپیگینڈے سے فوج کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ کارروائی کرے، پاکستانی میڈیا کو کبھی اپنی من پسند خبر نشر کرنے سے متعلق کوئی گائیڈ لائن نہیں دی، میڈیا نے ملکی معاملات میں بہت مثبت کردار ادا کیا، ہمیں اپنی فوج پر یقین رکھنا ہے، 4 ماہ کے دوران ریاست اور فورسز مخالف اکاؤنٹس میں کئی ہزار کا اضافہ ہوگیا۔

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اہم ترین پریس کانفرنس میں ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات اور ان سے نمٹنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات سے متعلق قوم کو آگاہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وانا میں فوج کا کسی سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا، مقامی آبادی کا آپسی جھگڑا تھا، جسے فوج اور ایف سی نے ختم کرایا، زخمی افراد کو فوجی ہیلی کاپٹرز میں اسپتال پہنچایا گیا، جس کے باعث لوگوں کی جانیں بچیں، سوشل میڈیا پر فوج کیخلاف پروپیگینڈا کیا جارہا ہے، وانا میں کسی بھی بچی کی موت واقع نہیں ہوئی، ایسے پروپیگینڈے سے فوج کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ کارروائی کرے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر بولے کہ جو بھی پاکستان کی خدمت کرتا ہے یہ وردی اس کی ہے، ملک بھر سے پاک فوج کے جوان اپنی سرحدوں پر چوکیوں میں ڈیوٹی دیتے ہیں، قربانیاں دیتے ہیں، اگر یہ غلط ہے تو ہم بیرکوں میں واپس چلے جاتے ہیں، سوشل میڈیا پر فوج کو گالیاں دینے سے کسی کا قد اونچا ہوتا ہے تو ضرور کرے لیکن اگر اس سے پاکستان کا قد نیچا ہوتا ہے تو ایسا نہ کرینا چاہئے۔

انہوں نے واضح کہا کہ پاکستانی میڈیا سے ہمیشہ رابطے میں رہے ہیں، پاک فوج نے کبھی میڈیا مالکان یا صحافیوں کو اپنی من پسند خبر چلانے اور ناپسندیدہ خبر روکنے سے متعلق کوئی گائیڈ لائن نہیں دی، اگر ایسا ہوا ہے تو اینکر پرسنز اپنے آج کے ٹاک شوز میں ضرور اس پر بات کریں، میڈیا نے ملک کیلئے بہت مثبت کردار ادا کیا، ہمیں اپنی فوج پر یقین رکھنا چاہئے۔

میجر جنرل آصف غفور نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر منظم انداز سے پاکستان مخالف پرویگینڈا کیا گیا، سوشل میڈیا پر کیا چل رہا ہے سب دیکھ رہے ہیں، 4 ماہ میں ریاست اور فورسز مخالف اکاؤنٹ میں کئی ہزار کا اضافہ ہوا، ریاست مخالف بیانات پر متعلقہ اتھارٹی کو آگاہ کیا جاتا ہے، سوشل میڈیا پر جو کچھ پیش کیا جارہا ہے وہ حقیقت نہیں۔

سیز فائر کی بھارتی خلاف ورزیاں
آصف غفور نے بتایا کہ 2017ء میں بھارت نے 1077 بار سیز فائر کی خلاف ورزی کی، بھارت کی جانب سے عام شہریوں کو نشانہ بنایا جارہا تھا، پاکستان کی جانب سے بھارتی یونٹس کو نشانہ بنایا جاتا ہے، گزشتہ ہفتے طے ہوا کہ سیز فائر معاہدے پر عمل کیا جائے گا، اس کے باوجود خلاف ورزیاں جاری ہیں، ہم نے اور ہماری میڈیا نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، بھارتی میڈیا ساری ذمہ داری پاکستان پر ڈال رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج کی چوکیوں پر حملوں کی صورت میں تحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں تاہم عام آبادی کو نشانہ بنایا جائے گا تو جواب دیں گے، ہمیشہ شہری آبادی پر حملے کرنیوالی بھارتی چیک پوسٹوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر بولے کہ گزشتہ دنوں بھارتی صحافیوں کا وفد آیا، جس نے سوال کیا کہ جب بھی امن کی بات چیت آگے بڑھتی ہے بھارت میں کوئی واقعہ ہوجاتا ہے، جس پر ان سے کہا گیا تھا کہ بھارت نے آج تک کسی بھی حملے کے ثبوت پیش نہیں کئے تاہم ہمارے پاس کلبھوشن یادیو کی صورت میں سیکڑوں دہشت گرد کارروائیوں کے ثبوت موجود ہیں جنہیں تسلیم نہیں کیا جاتا۔

افغان تعلقات
ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کا سب سے بڑا حامی ہے، افغان مہاجرین کی باعزت واپسی چاہتے ہیں، ہم ہر وہ کام کریں گے جو پاکستان کے مفاد میں ہو، ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہئے۔

بلوچستان میں کارروائیاں
ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بھی فورسز نے بھرپور کارروائیاں کیں، ایران کے ساتھ سرحد پر حالات قدرے بہتر ہوئے ہیں، بلوچستان میں چند ماہ قبل خوشحال بلوچستان پروگرام شروع کیا گیا، فورسز کی ری ایڈجسٹمٹ کی گئی ہے، ڈیولپمنٹ کے کاموں میں فورسز کی موجودگی بڑھائی گئی، فورسز اور انٹیلی جنس کی سب سے بڑی کامیابی سلمان بادینی کی ہلاکت تھی، جس پر ہزارہ برادری کا بھی خوشگوار رد عمل آیا۔

ضرب عضب کے تحت کامیابیاں
آئی ایس پی آر سربراہ کہتے ہیں کہ پاک فوج نے ضرب عضب کے تحت تمام دہشتگردوں کا صفایا کردیا، حقانی سمیت پاکستان میں کسی دہشت گرد تنظیم کا منظم نیٹ ورک موجود نہیں، بیرونی خطرات کا متحد ہو کر مقابلہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ کے پی میں فاٹا کے انضمام سے شاندار کامیابی حاصل ہوئی، کچھ بزرگ انضمام کے خلاف تھے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں دیرپا امن کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے، سیاست اور دہشت گردی کو الگ کرنا ہوگا، شہروں میں سیکیورٹی کی ذمہ داری پولیس کی ہوتی ہے تاہم سب جانتے ہیں اس میں کافی اصلاحات کی گنجائش ہے۔

اسپائی کرونیکلز
اسد درانی کی کتاب سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اسد درانی اور عام افسر کے کتاب لکھنے میں فرق ہے، سابق فوجی افسر نے کتاب لکھنے سے پہلے این او سی نہیں لیا، اسد درانی کیخلاف انکوائری جلد مکمل اور نتیجہ بھی سامنے آجائے گا، لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے ریٹائرمنٹ کے بعد کے واقعات کا ذکر کیا ہے، سروس کے بعد کے معاملات پر بات کرنا ٹھیک نہیں، فوج کیخلاف الزامات غلط ثابت ہوتے جارہے ہیں۔

الیکشن 2018 اور سیاسی معاملات
پاک فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جمہوری حکومت کی مدت پوری ہونے پر ہمیں سب سے زیادہ خوشی ہے، الیکشن میں سیکیورٹی فورسز کو گھیسٹنا نہیں چاہتے، 2018 الیکشن کا سال ہے، انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں