40

پنجاب فوڈ اتھارٹی کا جہاد اکبر، تحریر راجہ منصور علی خان

پنجاب فوڈ اتھارٹی کا جہاد اکبر

پنجاب فوڈ اتھارٹی پاکستان میں اپنی نوعیت کاپہلا صوبائی ادارہ ہے جو صوبے میں خوراک کے تحفظ اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق غذا کے معیار اور کوالٹی کا نفاذ کرتا ہے ۔اسے حکومت پنجاب نے ایکٹ2011کے تحت تشکیل دیاہے۔یہ ادارہ اشیاء خورد و نوش کے کاروبار سے وابسطہ افراد کی مانیٹرنگ کرنے اور اس سے متعلقہ قوانین کو نافذ کرنے کسانوں ‘تیارکنندگان‘ تقسیم کنندگان برآمد کنندگان اور دیگر سٹیک ہولڈر سے ان قوانین پر عملدارآمد کو یقینی بنانے ایسے فرائض بھی اس کے دائرہ کار میں شامل ہیں۔ یہ ادارہ غذا کے کسی بھی پہلو سے متعلق معیار ‘طریقہ کار پراسس کیلئے راہنمائی مہیا کر تاہے۔ علاوہ ازیں فوڈ لیبارٹیریز کے قیام اور ان کی اپ گریڈیشن کا طریقہ کار بھی وضع کرتا ہے ۔یہ فوڈ سیفٹی سے متعلقہ معاملات پر حکومت کو سائنٹفک مشاورت اور تکنیکی معاونت بھی فراہم کرتا ہے۔ موجودہ دور میں عام آدمی کو محدود آمدنی اور لامحدود مہنگائی کی وجہ سے مناسب اور متوازن غذا میسر نہیں اورغذائیت سے عاری اشیاء خودونوش کی سرعام فروخت عام سی بات ہے اور اس ناقص غذا کی وجہ سے ایک محتاط اندازے کے مطابق پنجاب میں44فیصد بچے مناسب جسمانی نشونما سے محروم پائے گئے ہیں جبکہ 62فیصد بچوں میں فولاد 39فیصد بچوں میں زنک کی کمی پائی جاتی ہے۔ اسی طرح خواتین میں زنک آئرن اور فولک ایسڈ کی کمی کا تناسب 39فیصد سے 51فیصد ہے جب کہ مجموعی آبادی 64سے59فیصد وٹامن اے اور ڈی کی کمی کا شکار ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ غذا میں ایسے اجزاء کی غیر موجودگی سے قوت مدافعت میں کمی، بڑھوتری میں سست روی، بھوک کے خاتمے، سانس کی بے قاعدگی، پیلاہٹ، زرد جلد، سستی، تھکاوٹ، رویوں میں بگاڑ اور زہنی تناؤ ایسی بیماریاں لا حق ہوتی ہیں ۔ عوام کے لئے فکری احساس رکھتے ہوئے موجودہ حکومت نے غذامیں ملاوٹ کی بیماری کا مستقل حل نکالا ہے اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کے نام سے ایک ادارہ قائم کر دیا۔ یہ ادارہ اپنے قیام سے لیکر آج تک جہاد اکبر میں مصروف عمل ہے۔اس کا بنیادی مقصد ہوس زر میں مبتلا ناقص غذائی اشیا فروخت کرنے والے دشمنوں کے نرغے سے عوام کو نکالنا ہے اور اپنی آئندہ نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے۔ 2017میں پنجاب فوڈ اتھارٹی نے مارچ، اگست اور دسمبر میں تمام کمپنیوں میں تیار کئے جانے والے دودھ کے نمونے جات حاصل کئے اورسرٹیفائیڈ لیبارٹریز SGS.PCSIRاور Intertakeسے ان کے نمونہ جات کے کیمیائی ‘حیاتیاتی اور فزیکل پیرامیٹرز کروائے گئے اورمعیاری اور صحت کے لئے موزوں دودھ تیار کر نے والی کمپنیوں کی فہرست جاری کر دی جس کا عوام کو انتہائی بے صبری سے انتظار تھا۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی 2018میں بھی ضرورت پڑنے پر دودھ کے نمونے جات کی ISO-17025سرٹیفائید لیبارٹریز سے تجزیہ کروانے کا عزم رکھتی ہے تاکہ عوام کو معیاری صحت بخش دودھ کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اپنے ایک پیغام میں پنجاب فوڈ اتھارٹی نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ و ہ کھلے دودھ کی بجائے پاسچرائزڈ ددودھ یو ایچ ٹی کو استعمال کریں ۔


ڈی جی فوڈ اتھارٹی نور الامین مینگل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہر شخص سالانہ اٹھارہ کلو کے لگ بھگ گھی اورکوکنگ آئل استعمال کرتا ہے جب کہ یورپ میں یہ مقدار 3کلو فی شخص سالانہ ہے اس ضمن میں پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ایسے تمام گھی جو انسا نی صحت کے لئے انتہائی مضرہیں ان پر پابندی لگانے کا اور ٹرانس فیٹس کی مقدار 0.5فیصد تک لانے کافیصلہ بھی کیا ہے۔گزشتہ دنوں پنجاب فوڈ اتھارٹی نے لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کے ساتھ مل کر ایک آگاہی برائے صحت مند غذا اور ملاوٹ کا خاتمہ کے عنوان سے سیمینار منعقد کیا تقریب کے مہمان خصوصی ڈی جی پی اے ایف تھے انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی غذائی قوانین کے مطابق غذا کے تحفظ کو یقینی بنا رہی ہے اس ادارے نے سائنٹفک پینل اورتفصیلی تحقیق کی بنیاد پرسال2017میں 17قوانین پاس کر کے بڑا اہم کارنامہ سرانجام دیا ہے اس ادارہ نے فوڈ سیفٹی آفیسرز کی فوڈ انڈسٹری میں موجودگی کو بھی یقینی بنایا ہے اور فوڈ ورکروں کے لئے صوبے بھر میں 36 تربیتی مراکز قائم کر کے تربیتی پروگرام بھی شروع کر رکھا ہے جس میں ماہرین ان کو سکھاتے ہیں کہ غذا کو کیسے ڈیل کرنا ہے اور دوران ڈیوٹی کونسی چیزیں اپنانی ہیں ۔ جس کا بنیادی مقصد فوڈ ورکر زیاہینڈلرز کو فوڈ پراسیسنگ کے دوران حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق غذا کی تیاری میں تربیت فراہم کرنا ہے ۔انہوں نے بتایاکہ ابھی اس ادارہ نے ابھی 5فیصد تک کا م مکمل کیا ہے اور نئے پروگرام اور اقدامات کے ذریعے اس کو مذید 100فیصد تک مکمل کیا جائے گا۔ یہ ادارہ سیمینارز، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے بھی عوام الناس کو آگاہی فراہم کر رہا ہے۔ یہ ادارہ کھیت سے ہاتھوں کی انگلیوں تک اپنے ایک ویژنری نعرے’’ صحت مند پنجاب‘‘ کے ذریعے آگاہی مہم بھی چلا رہا ہے۔ یہ ہر شخص جانتا ہے کہ بچوں کی نشوو نما کے معاملے میں عورت اور ماں کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اس سلسلے میں عوام الناس کو غذائی اشیاء سے متعلق آگاہی فراہم کی جاتی ہے کہ کونسی کھانے پینے کی اشیاء بچوں کی نشوونما کے لئے موزوں ہیں اورکونسی موزوں نہیں ہیں۔ ادارہ کے اعداد و شمار کے مطابق ناقص غذا کی وجہ سے تقریبا44فیصد بچے 66فیصد حاملہ اور دودھ پلانے والی مائیں غذائی وٹامنز اور منرلز کی کمی کا شکار ہیں۔غذا میں پائی جانے والی ان خامیوں کو دور کرنے کے لئے یہ ادارہ اگلے چند سالوں میں فوڈ انڈسٹری کا قیام بھی عمل میں لا رہا ہے جو غذائی قوانین پر عمل درآد کو یقینی بنائے گا۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی ناممکن چیزوں کو ممکن بنا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ سائنٹفک اور تکنیکی وتجزیوں کی روشنی میں وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کی ہدایت پر کاربونیٹڈ ڈرنکس پر پابندی لگا دی گئی ہے بتایا گیا ہے کہ کاربونیٹڈ ڈرنکس پر تقریبا پچاس بلین روپے خرچ ہونے والی رقم کو بچا لیا گیا ہے۔ جس سے واضح ہو تا ہے کہ اس ادارہ نے بیماریوں کے بوجھ کو کم کرکے عوام الناس اور محکمہ صحت کے بجٹ کو بچایا ہے۔ یہ ادارہ پاکستان کے دیگر صوبوں کے پی کے اور کراچی میں فوڈ آرگنائزیشن کی استعداد کار میں اضافہ کے لئے معاونت فراہم کر رہا ہے۔ یہ ادارہ صوبہ پنجاب کے تمام شہروں میں غذائی کلینکس کے قیام کے لئے بھی اپنے پروگرام کو بھی وسعت دے رہا ہے ۔مندرجہ بالا اقدامات کی روشنی میں بلا شبہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی حقیقی معنوں میں جہاد اکبر کر رہی ہے اور عوام کی خدمت کر رہی ہے اورحکومت پنجاب کی جانب سے ایسے ادارے کے قیام اور اب تک کی کارکردگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ معاشرے میں اجتماعی کوششوں سے زندگی کے تمام شعبوں میں مثبت تبدیلی لاکر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے ۔

تحریر:

راجہ منصور علی خان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں