84

نوسرباز ایجنٹوں نے سنہرے مستقبل کے سہانے خواب دکھا کر گھر کے واحد سہارے کو موت کے منہ میں دھکیل دیا، والدہ کی ممتاز احمد تارڑ سے رہائی کی اپیل

پھالیہ(تحصیل رپورٹر)نوسرباز ایجنٹوں نے سنہرے مستقبل کے سہانے خواب دکھا کر گھر کے واحد سہارے کو موت کے منہ میں دھکیل دیاسعودی عرب کی جیل میں8سال سے قید غلام مصطفی کی والدہ کی وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ممتازاحمد تارڑ سے اپنے جگر گوشہ کے لئے رہائی کی اپیل، لاچار ماں اپنے بے گناہ جگر کے ٹکڑے کیلئے زندگی کی بھیگ مانگنے کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھا نے پر مجبور،جبکہ مجبور وبے کس بیٹا اپنی زندگی کی بقاء کے لیے موت کی کال کوٹھڑی سے ماں کو پکار رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق موضع گجن کی رہائشی بے بس غریب اور لا چار ماں رضیہ بی بی زوجہ شانہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہمارے گاوں میں چند نوسر باز افراد حاجی اصغر وغیرہ نے بتایا کہ ہمارے پاس سعودی عرب کی ایک کمپنی کے ویزے ہیں۔ لہٰذا آپ غلام مصطفی اور اس کے ماموں محمد اکرم کو سعودی عرب بھجوادیں ہم نے ان کی باتوں میں آ کر اپنے خاندان کے 5افراد کو مختلف زمینداروں کے پاس گروی رکھ کر اڑھائی لاکھ روپے ادھار لیے اور ان 2افراد کی دستاویزات مذکورہ ایجنٹوں کو فراہم کردی اس دوران میری بیٹی کی اچانک موت ہو گئی میرا بیٹا غلام مصطفی ابھی اپنی بہن کی تدفین کی رسومات میں مصروف تھا کہ مذکورہ ایجنٹوں نے اطلاع دی کہ اپنے بیٹے کو فوراً کراچی بھجواؤکراچی سے سعودی عرب کیلئے اس کی فلائٹ فائنل ہے ۔ اس کے سعودی عرب روانگی کے کاغذات مکمل ہوچکے ہیں۔ چنانچہ غلام مصطفی ہمشیرہ کے ختم قل سے قبل ہی گھر سے روانہ ہو گیا اور 22/10/2011 کو ہی غلام مصطفی کاگھر والوں سے پاکستان سے آخری رابطہ ہوا اس کے بعد کوئی خیر خبر نہ آئی پوچھنے پر ایجنٹ انہیں جھوٹی تسلیاں دیتا رہا انتظار کے یہ لمحات ہم پر قیامت بن کر گزرتے رہے۔جبکہ 27/10/2011 کو سعودی عرب سے مجھے کسی نامعلوم شخص کا فون آیا کہ غلام مصطفی نے منت سماجت کرکے مجھے کہا کہ گھر والوں کو بتادیں کہ میرے ساتھ دھوکہ ہوگیا ہے۔ ان ایجنٹوں نے کراچی میں زبردستی ائیر پورٹ حکام کی ملی بھگت سے منشیات کے کیپسول کھلا کر جہاز پر بیٹھا دیا اور سعودی عرب کے ایئرپورٹ پر غلام مصطفی کو گرفتار کرلیا گیا ہے غلام مصطفی کو سزائے موت سنا دی گئی ہے اور اب وہ مدینہ منورہ کی جیل بیر علی بارک نمبر 8میں قید ہے۔ غلام مصطفی کے معذور والد،والدہ اور باپ کی شفقت سے محروم دس سالہ بیٹے جمشید علی نے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ممتازاحمد تارڑ و ارباب اختیار سے غلام مصطفی کی رہائی کے لیے اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں