102

امریکا، برطانیہ، فرانس نے شام پر حملہ کردیا

دمشسق / دمشق: امریکا اور اس کے اتحادی ممالک نے شام پر حملے کردیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شامی حکومت کی جانب سے اپنے عوام پر ہونے والے کیمیائی حملوں کے جواب میں امریکا، برطانیہ اور فرانس نے شام پر فضائی حملے شروع کردیے ہیں۔ اتحادی ممالک کے جنگی طیاروں نے شامی حکومت کی کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق دمشق میں متعدد دھماکے سنے گئے ہیں اور کئی مقامات سے دھواں اٹھتے دیکھا گیا ہے۔

امریکا کے چیئرمین جوائنٹس چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ نے بتایا کہ شام میں تین اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے جن میں دمشق میں واقع کیمیائی و حیاتیاتی ہتھیار بنانے والا سائنسی تحقیقی مرکز، حمص شہر کے جنوب میں واقع کیمیائی ہتھیاروں کا گودام اور حمص کے قریب ہی واقع ایک اور کیمیائی آلات کا گودام اور اہم کمانڈ مرکز شامل ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے دفتر سے ٹوئٹر پر ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں شام پر حملے کے لیے فرانسیسی جنگی طیاروں کو اڑان بھرتے دکھایا گیا ہے۔
شامی حکومت نے گزشتہ ہفتے شام کے علاقے دوما پر کیمیائی حملہ کیا تھا جس میں 70 سے زائد افراد جاں بحق اور 500 متاثر ہوئے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں حملے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’ امریکا، برطانیہ اور فرانس کا مشترکہ آپریشن کیا جارہا ہے، ہم یہ کارروائی اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک شامی حکومت ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہیں روکتی۔ ٹرمپ نے شام کے صدر بشار الاسد کے کیمیائی حملوں کے بارے میں کہا کہ ‘یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے بلکہ شیطان کے جرائم ہیں۔

شام ردعمل
شام کے صدر بشار الاسد نے حملے کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ شام کے سرکاری ٹی وی پر جاری کردہ بیان کے مطابق شامی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے دشمن کے ایک درجن سے زائد میزائلز کو مارگرایا ہے۔
روس
روس نے ردعمل میں کہا ہے کہ امریکا عالمی قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے، شام پر حملہ کھلی جارحیت ہے، ان اقدامات کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ روسی حکام نے ٹرمپ کو ہٹلر سے تشبیہ بھی دی ہے۔

امریکی وزیر دفاع
امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے بتایا ہے کہ شام کی خانہ جنگی کے خاتمے کیلیے مہذب قوموں کے متحد ہونے کا وقت آگیا ہے، شام پر صرف ایک بار حملہ کیا گیا ہے اور مزید حملوں کا منصوبہ نہیں، اس اقدام کا مقصد شامی صدر بشارالاسد کو واضح پیغام دینا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے اس سے پہلے بھی کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے جواب میں 7 اپریل 2017 کو شام پر حملہ کیا تھا اور امریکی بحری جہازوں سے شام کے فوجی اڈے پر 59 ٹاک ہاک کروز میزائل داغے گئے تھے۔ اس سے تین روز قبل 4 اپریل کو بشارالاسد حکومت نے شام کے علاقے خان شیخون پر کیمیائی حملہ کیا تھا جس میں درجنوں افراد جاں بحق اور سیکڑوں متاثر ہوئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں