44

شام میں لقمہ اجل بننے والے 99 ہزار افراد کا تصویری مجموعہ وائرل

دمشق: شام میں جاری خانہ جنگی اور فساد اس سال مارچ میں آٹھویں سال میں داخل ہوگیا ہے اور اس موقع پر ایک شامی فوٹو گرافر نے اس افسوس ناک سانحے میں ہلاک ہونے والے 99 ہزار افراد کی تصاویر کو جمع کرکے 13 عدد تصویری کولاج ( منظر) بنائے ہیں۔

یکم اپریل کو ٹوئٹر پر پوسٹ کیے جانے والے اس تصویری مجموعے میں شامی تنازع میں جاں بحق ہونے والے 15 ہزار بچے اور 8 ہزار خواتین بھی شامل ہیں۔ 13 تصویری کولاج کا معیار بہت بلند ہے اور انہیں زوم کرکے دیکھا جائے تو تمام تصاویر میں مقتولین کی انفرادی تصاویر واضح طور پر سامنے آجاتی ہے جن کی اکثریت عام شہریوں پر مشتمل ہے۔

تامر ترکمانی نے تصاویر میں موجود متعدد خواتین و حضرات کے تفصیلی نام اور دیگر معلومات بھی فراہم کی ہیں۔ شام میں جاری ہولناک جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کا درست تخمینہ کوئی نہیں جانتا تاہم بعض سرکاری تنظیموں اور ذرائع کے مطابق اب تک وہاں 5 لاکھ سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

تامر کے اس غیرمعمولی کام کو اگرچہ بہت پذیرائی نہیں مل رہی تاہم عرب دنیا کے بعض ٹی وی چینلز نے ان سے رابطہ کرکے ہزاروں افراد کی تصاویر پر ان کے کام کی تفصیلات کو خبروں میں نمایاں طور پر پیش کیا ہے۔

دوسری جانب لاکھوں افراد جنگ زدہ علاقوں سے نقل مکانی کرکے دربدر بھٹکنے پر مجبور ہیں۔ شامی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد اس وقت اردن، ترکی، جرمنی اور دیگر ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں