50

تحفظ حقوق صارف تحریر: راجہ منصور علی خان

تحفظ حقوق صارف

ہر سال 15مارچ کو صارفین کے حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ عالمی یوم حقوق صارفین کی بنیاد امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے ایک پیغام سے متاثر ہو کررکھی گئی جب 15مارچ 1962کو امریکی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے صارفین کے حقوق کی اہمیت پر زور دیا تھا اور یوں سب سے پہلا عالمی یوم حقوق صارفین 15مارچ 1983کو منایا گیا۔تب سے ہر سال 15مارچ کو حقوق صارف کا دن منایا جاتا ہے۔اس دن کے منانے کا بنیادی مقصد دنیا بھر کے صارفین کو ان کے حقوق و ضروریات کے علاوہ مارکیٹ کے ناجائز استعمال اور سماجی نا انصافیوں سے متعلق نہ صرف آگاہی فراہم کرنا ہے بلکہ با عزت طریقے سے ان کے حقوق کا تحفظ بھی کرنا ہے۔ اسی طرح اقوام متحدہ کا چارٹر بھی تمام ممبر ممالک کے صارفین کے حقوق سے متعلق خرابیوں کو ختم کرنے میں معاونت کرتا ہے۔ جہاں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کاروباری اداروں کے ناجائز طریقے کار کی وجہ سے صارفین کے حقوق متاثر ہوتے ہیں اور صارفین کو گائیڈ لائن بھی فراہم کی جاتی ہے تا کہ وہ بہتر طور پر اپنے حقوق کا تحفظ کر سکیں۔ صارفین کے حقوق کا تعین سب سے پہلے اسلام نے کیا جس پر اب جا کر اقوام متحدہ میں عمل درآمد ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھرکی طرح پاکستان میں بھی ہر سال 15مارچ کو صارف کے حقوق کے تحفظ کا دن منایا جاتا ہے۔ زمینی حقائق کی روشنی میں ہم پاکستانیوں کیلئے یہ دن انتہائی اہمیت کا حامل ہونا چاہیئے۔ جہاں عام حالات مالعموم رمضان المبارک، عیدین اور اہم تہواروں کے مواقع پر بالخصوص صارفین بڑی حد تک نہ صرف اپنے حقوق سے لا علم ہوتے ہیں بلکہ محروم بھی رکھے جاتے ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں غیر معیاری اور زائد المیعاد مصنوعات کی فراہمی سے گریز کیا جاتا ہے۔ اشیاء کی پیکنگ پر اجزائے ترکیبی کے علاوہ تیاری اور اختتام کی تاریخوں کا اندراج کیا جاتا ہے۔ خریداری کی صورت میں رسید کی فراہمی اور اس پر خریداری کی تاریخ، تفصیل، اشیاء کی مقدار ، قیمت دکاندار یا تجارتی ادارے کا نام لکھا جاتا ہے۔ان ممالک میں غلط اور گمراہ کن اشتہار بازی کے ذریعے مصنوعات کی فروخت اور خدمات کی فراہمی بالکل ممنوع ہے۔ وہاں کوئی بھی سرکاری یا غیر سرکاری ادارہ یا فرم اپنے صارفین کو پریشان نہیں کرتے ۔ اشیاء کی فروخت یا خدمات کی فراہمی کے حوالے سے ان ممالک میں مصنوعات پر وارنٹی ، ساخت، نمونہ اور خریداری حالات پر وارننگ بھی تحریر کی جاتی ہے۔ وطن عزیز میں یہ صورت حال کسی حد تک بڑی کمپنیوں اور مارکیٹوں تک رہی ہے۔پاکستان میں تحفظ صارف قانون متعارف ہو گیا ہے جو آہستہ آہستہ اپنی جڑیں بھی مضبوطی سے پکڑ رہا ہے۔ 1995میں اسلام آباد تحفظ صارف ایکٹ اور 2007میں صوبہ سندھ میں سندھ صارف تحفظ آرڈینینس کا نفاذ عمل میں آیا جبکہ حکومت پنجاب نے سال 2005میں قانون سازی کر کے کنزیومر ایکٹ نافذ کیا اور قانون سازی کی ذریعے ڈسٹرکٹ کنزیومر کورٹس اور ڈسٹرکٹ کنزیومر کونسل ابتدائی طور پر صوبے کے مختلف اضلاع لاہور، گوجرانوالہ، ساہیوال، ڈی جی خان، سرگودھا، گجرات، سیالکوٹ، ملتان، بہالپور، فیصل آباداور راولپنڈی میں قائم کر دی ہیں جو کہ صوبے بھرمیں صارفین کے حقوق کاتحفظ کرتی ہیں جبکہ ڈائریکٹوریٹ آف کنزیومر پروٹیکشن کونسل لاہور ان اداروں کے ہیڈکوارٹر کے طور پر کام کرتا ہے۔عوامی فلاح بہبود کے اس قانون کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ نا قص اشیاء اور خدمات کے خلاف عوام الناس کو فوری انصاف مہیا کرتا ہے۔


موجودہ دور میں صارف کے حقوق کا تحفظ اور فروغ ایک ترجیحی حیثیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ معاشرے کے بد دیانت عناصر ناقص اشیاء اور خدمات مہیا کر کے صارف سے ناجائز منافع کما رہے ہیں۔ ایسے شر پسندعناصر معاشرتی صحت اور سکیورٹی کیلئے بھی خطرہ ہیں۔ حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے استحصال اور بے لگام مارکیٹ والے نظام سے عوام الناس کو تحفظ فراہم کریں ان مسائل کے پیش نظر حکومت پنجاب نے عوام الناس کو نا قص اشیاء اور خدمات مہیا کرنے والو ں کے خلاف صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے اور پنجاب کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ نافذ کیاہے اور اسے ڈائریکٹوریٹ آف کنزیومر پروٹیکشن کونسل، کنزیومر کورٹس اور کنزیومر پروٹیکشن کونسل کے ذریعے تقویت دی تا کہ صوبے کے عوام کو ان اداروں کے ذریعے نا قص اشیاء اور خدمات کے خلاف دادرسی کر کے فوری اور مفت انصاف مہیا کیا جا سکے۔صوبے کے دیگر شہروں کی طرح صارفین کی شکایات کے ازالے کیلئے منڈی بہاؤالدین میں بھی 15مارچ کو ڈسٹرکٹ کنزیومر پروٹیکشن کونسل نے اپنے قیام کے بعد باقاعدہ کام کا آغاز کر دیا ہے۔ کونسل نے عوام الناس کی آگاہی کیلئیے کاروباری حضرات اور صارفین کیلئے ہدایت نامہ بھی جاری کیا ہے۔ جس میں کاروباری حضرات کو واضح ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ اپنی دکانوں پر فروخت کی جانے والی اشیاء کی قیمت آویزاں کریں ، اشیاء کی فروخت سے پہلے گاہک کو تبدیلی یا واپسی کی پالیسی سے متعلق آگاہ کریں۔مینو فیکچرر صارفین کو اپنی مصنوعات سے پیدا ہونے والے ممکنہ اثرات سے متعلق لیبل ضرور لگائیں اور اشیاء کی تیاری کی آخری تاریخ ، استعمال اور اجزائے ترکیبی سے متعلق بھی لیبل لگائیں۔اسی طرح صارفین کو بھی ہدایت نامے میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے خریدی گئی اشیاء کی رسید لازمی حاصل کریں اور مندرجہ ذیل چیزوں کا خاص خیال رکھیں۔ جن میں تاریخ خرید،خریدی گئی اشیاء کی تفصیل، اشیاء کی قیمت اور اشیاء بیچنے والے کا نام و پتہ لازماً ہونا چاہیئے۔ مندرجہ بالا کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں کی طرح ہمیں بھی اپنے عوام کو صارف کے حقوق کے تحفظ کے بارے میں شعور اور آگاہی کو عملی اقدامات کے ذریعے یقینی بنانا ہے جس سے صارفین کے حقوق کا سو فیصد تحفظ ہو سکے گا۔

تحریر:

راجہ منصور علی خان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں