72

کردار کی جنگ

کردار کی جنگ

سینٹ الیکشن کا دور ختم ہوا صاحب. اب ذرا نیند کے مزے لیجیے گا..
نیند کہاں آتی ہے جناب..ابھی تو منافق منافق کھیلنے کا ٹائم پورے جوبن پہ ہے… فیصلہ تو فیس بکی جیالوں نے کرنا ہے نا… بھڑکیں،جلن اور برنال کو لئے سب کے سب.. عسکریتی اور کرداری جنگ لڑنے کو ہیں..
صادق سنجرانی چیئرمین سینٹ منتخب ہونے کے بعد (ایک جماعت کے مطابق عسکریتی ووٹوں سےکامیابی)  کو بڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ رج کے بھڑاس نکالی جا رہی ہے.. کہ ساری کامیابی پورے انصاف سے ملی ہے اور اس میں کالے اور لمبے بوٹوں کی گھن گرج کاتڑکا لگایا گیا. اور اس پکی پکائی انصافی دیگ کے باورچی کوئی اور نہیں بلکہ جانے مانے زور داری صاحب کا وسیع تجربہ تھا. زورداری صاحب کے بارے میں مشہور ہے.. کہ ان کی دیگ میں ہرقسم کا انصاف پک سکتا ہے….
منافق اور منافقت.سنتے پڑھتے ہمارے دائیں بائیں والے کان پکنے کو ہیں جناب.  کیا کہیں اب ہم تو کردار کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں… دانشور فرماتے ہیں جنگل کا بھی کوئی قانون ہوتا ہے.. سینٹ تو سینٹ ٹھرا. راجہ ٹھہرا با کردار آدمی اس کا لیڈر کون،اس کا لیڈر کرپٹ نااہل ہماری جانے بلا.
بس راجہ اچھا آدمی ہے.. کردار کمال کا ہے. نون والا نمکین ہے تو کیا ہوا جرنیلی کردار سے تو مبرا ہے..
ن ش کو ہم نے نا اہل کروایا پر اس کے ورکر عہد ساز کرداری ہیں.
?اب ذرا بات سیدھی ہو جائے جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے فیس بکی مجاہد آج کل اس قسم کی لڑائیوں میں مشغول ہیں. اور اس کا رزلٹ کچھ بھی نہیں.
کیوں آئندہ جنرل الیکشن میں یہ بات بھی قابل ذکر ہو گی کہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے قریب آجائیں گی.. ہر ایک کو اپنی اپنی سیاسی صورتحال کے مطابق  ایک دوسرے سے تعاون اور حمایت کا فیصلہ کرنا پڑے گا. یہ بات اب بعید نہیں کی ہم عوام اور عوامی رائے کو کبھی بھی یہ سیاسی پارٹیاں مقدم نہیں رکھتیں… مذہبی جماعتیں بھی پیچھے نہیں ہیں اس معاملے میں. تحریک انصاف کا پیپلزپارٹی سے اور جماعت اسلامی کا مسلم لیگ ن سے مل جانا اس کا بڑا ثبوت ہے..
ان کی نظر میں عوامی رائے عامہ ہموار کرنا  ضروری نہیں ہے.
چار سال نو ماہ نظریات کو لے چلنے والی جماعتیں ملک کے وسیع تر مفاد میں ایسی پارٹیوں کی حمایت کر جاتے ہیں جن جو وہ پانچ سال نا اہل کروانے میں گزار دیتے ہیں. یا
ایسی پارٹی کا ساتھ ملتا ہے.  جس 22 سال کی سیاسی زندگی بھی داؤ پر لگ جانے خطرہ ہوتا ہے..
ساری باتیں ہم جذباتی عوام کے سامنے ہیں.. اور یہ وقت بھی ہم کردار کی جنگ میں گزار دیں گے.
انصاف کریں کردار اور کرداروں کے ساتھ
محمد ندیم اختر 
ڈھوک کاسب 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں