89

کھڈے لائن

کھڈے لائن

میرے پالتو جانوروں کی فہرست زیادہ لمبی تو نہیں ہے.. لیکن جو موجود ہیں ان میں میرے پاس کچھ ایسے پرندے بھی ہیں جن کو دیکھ کر مجھے یونین کونسل ڈھوک کاسب کی یاد آجاتی ہے. بے اختیار ہنسی کا وجود میرے ہونٹوں میں سمٹ آتا ہے. مرغیوں کے پنجرے کی ریاست میں دو مرغوں کی موجودگی متنازعہ ریاست کا سماں پیش کر رہا ہوتا ہے. ہر کوئی اس رعایہ پر اپنا حق تسلیم کروانے کی کوشش میں مصروف نظر آتا ہے.. آخر کار ایک مضبوط بادشاہ دوسرے کو کھڈے لائن لگا کرہی چھوڑتا ہے.. اور من موج میں مگن نظر آتا ہے..
کھڈے لائن لگانے کی بات کچھ سمجھ آتی ہے . ہر بندہ…. بندہ نہیں لیڈر اپنا مفاد لینے کے بعد عوام کو کھڈے لائن لگا دیتا ہے..
حالیہ حلقہ بندیوں کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو ڈھوک کاسب اور اس کے ملحقہ دیہاتوں کو بھرپور کھڈے لائن لگانے کی کوشش کی گئی ہے.. منڈی بہاؤالدین سے ہٹا کر پھالیہ تحصیل میں شامل کر لیا گیا ہے.. پی پی 65 سے پی پی 66 میں شامل کیا گیا ہے.
گذشتہ ادوار کا اگر جائزہ لیا جائے تو ہر دفعہ کھڈے لائن ہی لگایا جاتا رہا ہے… ق لیگ دور میں اپوزیشن کے ناظم اعلیٰ موجود تھے.. پی پی دور میں اپوزیشن کے ایم پی اے تھے.. اب بھی بلدیاتی چیرمین اپوزیشن کے ہیں.
مطلب پچھلے پندرہ سالوں کے دوران اس یونین کونسل کو کھڈے لائن ہی لگایا جاتا ہے. خاص طور پر ڈھوک کاسب کو کھڈے لائن بھی نہیں بلکہ کھڈے کے کونے میں ڈرے مرغے کی طرح کی اہمیت دی جاتی رہی ہے کبھی برداری ازم کے نام پر کبھی سیاسی مخالفت کے نام پر.
سیاسی دھڑے ایک دوسرے کو کھڈے لائن لگانے میں مصروف عمل نظر آتے ہیں.. نقصان اس گاؤں کا اجتماعی طور پر نظر آتا ہے.
مجودہ حکومت کے پانچ سال پورے ہونے والے ہیں… لیکن کھڈے لائن والی وہی پرانی رسم چلتی آرہی ہے کیونکہ آئندہ الیکشن بھی انھیں گلیوں اور نالیوں پر لڑا جائے گا جن پر گذشتہ قومی اور بلدیاتی انتخابات لڑے گئے تھے..
یونین کونسل ڈھوک کاسب کو اس طرح بھی کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے اس کو دو حلقوں میں شامل کر لیا گیا ہے. ڈھوک کاسب , ڈھوک مراد, ڈھوک نواں لوک اور ٹبی مالوال کو پی پی 66 اور ڈھوک سہارن کو پی پی 65 میں رکھا گیا ہے.
نہیں تو اور کیا ہے پٹووار حلقے کو ادھر سے ادھر کیا ہے بس.. کوئی فرق نہیں پڑتا..
الیکشن کی آمد ہے ممکنہ طور پر ہمارے علاقے میں غربت پھیلنے کے چانس کافی حد تک بڑھتے نظر آ رہے ہیں. فوتگیاں آن لائن ہونے کا بھی کافی امکان موجود ہے اور عدالتی جرمانے بھرنے کے دن بھی آرہے ہیں.. کسے ریڑھی والے کے ساتھ فٹ پاتھ پر بھوک بھی مٹائی جائے گی.. کیوں کہ ہمارے سیاسی آقاؤں کے پاس اب ہمارے لئے ٹائم ہی ٹائم ہو گا. روزانہ فیس بک اپڈیٹ ہو گا. ہم جیسے انقلابی بحث و مباحثوں میں ایک دوسرے کو کھڈے لائن لگانے کی ناکام کوششیں کریں گے. اور ہم عوام کا دماغ ووٹ ڈالتے وقت کڈھے لائن لگ جائے گا. پھر یہ ہم عوام کو پورے پانچ سال کھڈے لائن لگا دیں گئے ……کھڈے لائن.


Muhammad Nadeem Akhtar
Dhok Kasib
nadvad@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں