192

نئی حلقہ بندیاں ضلع منڈی بہائوالدین، تحریر عزت رسول

نئی حلقہ بندیاں ضلع منڈی بہائوالدین، تحریر عزت رسول

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے 2018 ء کے انتخابات کیلئے نئی حلقہ بندیوں کا اعلان کردیا گیا ہے جس کی رو سے ضلع منڈی بہاؤالدین کو قومی اسمبلی کے دو این اے 85 اور این اے 86 جبکہ صوبائی اسمبلی کے چار حلقوں پی پی 65، 66، 67، اور 68 میں تقسیم کیا گیا ہے۔ نئی نمبرنگ کے مطابق قومی اسمبلی کا سابقہ حلقہ این اے 108 اب این اے 85 اور این اے 109 اب این اے 86 بن گیا ہے۔ اسی طرح سابقہ حلقہ پی پی 116 نئی حلقہ بندی کی ترتیب کے مطابق پی پی 65، پی پی 117 اب پی پی 66، پی پی 118 پی پی 67 اور پی پی 119 پی پی 68 ہوگا جبکہ ضلع کا پانچواں صوبائی حلقہ پی پی 120 ختم کردیا گیا ہے اور اسکی آبادی بقیہ چار صوبائی حلقوں میں تقسیم کردی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے قانون کے مطابق قومی و صوبائی اسمبلی کا حلقہ محکمہ شماریات کی جانب فراہم کردہ آبادی کی تفصیلات اور ریونیو ریکارڈ کے مطابق قانونگوئی وائز بنایا جاتا ہے، ایک قانونگوئی ایک ہی حلقہ میں رہتی ہے۔ آبادی کا تناسب برابر کرنے کیلئے دو حلقوں کے درمیان صرف ایک قانونگوئی کو توڑا جاتا ہے۔
حلقہ این اے 108 موجودہ این اے 85 کی سوہاوہ بولانی قانونگوئی توڑ کر 3 پٹوار سرکلز کھیوہ، سوہاوہ دلوآنہ اور جھولانہ این اے 109 یعنی این اے 86 میں شامل کر کے قومی اسمبلی کے دونوں حلقوں کی حلقہ بندی کردی گئی ہے۔ حلقہ پی پی 116 نیا پی پی 65 منڈی بہاؤالدین، میونسپل کمیٹی MC منڈی بہاؤالدین، ٹاؤن کمیٹی TC مانگٹ، سوہاوہ بولانی، سوہاوہ جملانی اور چیلیانوالہ قانونگوئیوں پر مشتمل ہے ماسوائے رکھ مینار گڑھ، سویہ، ڈھوک کاسب، ڈھوک نواں لوک اور مرالہ پٹوار سرکلز کے۔
حلقہ پی پی 117 نیا پی پی 66 جوکہ پہلے پاہڑیانوالی، جوکالیاں، پھالیہ i، پھالیہ ii اور MC پھالیہ پر مشتمل تھا میں اب چیلیانوالہ قانونگوئی توڑ کر اسکے پانچ پٹوار سرکلز پی پی 116 یعنی 65 سے نکال کر پی پی 66 میں ڈال دئیے گئے ہیں۔ حلقہ پی پی 118 نیا پی پی 67 پہلے بھیرووال، قادر آباد اور میانہ گوندل قانونگوئی پر مشتمل تھا اب اس میں پوری بوسال قانونگوئی شامل کردی گئی ہے۔جس سے رکن، گوجرہ اور ڈفر پٹوار سرکلز شامل ہوگئے ہیں جو قبل ازیں پی پی 119 میں شامل تھے۔ صرف گوہر اور کھائی پٹوار سرکلز کو مائنس کیا گیا ہے۔ حلقہ پی پی 119 جس کا نیا نام اب پی پی 68 ہوگا میں ختم ہونے والے سابقہ حلقہ پی پی 120 کا بیشتر حصہ شامل کردیا گیا ہے۔یہ حلقہ اب چار قانونگوئیوں پر مشتمل ہوگا جس میں ملکوال، MC ملکوال، کٹھیالہ شیخاں اور سوہاوہ بولانی شامل ہیں ماسوائے سوہاوہ بولانی اور سوہاوہ جملانی پٹوار سرکلز کے۔
نئی حلقہ بندیوں پر امیدواروں سمیت کوئی عام شخص بھی اعتراض داخل کروا سکتا ہے۔ 9 مارچ تک الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اسلام آباد ہیڈ کوارٹرز میں اعتراضات دائر کئے جا سکیں گے جنکی سماعت بھی اسلام آباد میں ہوگی۔ اسکے علاوہ صوبائی سطح پر لوکل بنچ بھی تشکیل دئیے جاسکتے ہیں۔ ہمارے ناقص علم کے مطابق حلقہ این اے 85 سے جھولانہ اور پی پی 65 سینکالے گئے چیلیانوالہ قانونگوئی کے پانچ پٹوار سرکلز کے خلاف اعتراضات دائر ہو جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں