102

اینٹی بایوٹکس نہ کھائیے، یہ قدرتی غذائیں آزمائیے

دنیا بھر میں اینٹی بایوٹک ادویہ بڑی تعداد میں استعمال ہوتی ہیں لیکن قدرتی طور پر کئی غذائیں قدرتی اینٹی بایوٹکس خواص رکھتی ہیں۔

اینٹی بایوٹکس پوری دنیا میں بکثرت استعمال ہوتی ہیں تاہم ان کے مضر اثرات اور خود انسانی جسم کی ان کے خلاف مزاحمت سے بھی ہم اچھی طرح واقف ہیں۔ برطانیہ میں این ایچ ایس کے مطابق ہر 10 میں سے ایک فرد اینٹی بایوٹکس کے مضر اثرات کا شکار ہوتا ہے اور اس سے نظامِ ہاضمہ شدید متاثر ہوتا ہے جبکہ 15 میں سے ایک فرد ان ادویہ سے الرجی کا شکار ہوجاتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق اگر اینٹی بایوٹک ادویہ کی جگہ قدرتی اجزا استعمال کیے جائیں تو اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ ان میں سے پہلا نمبر لہسن کو دیا جارہا ہے۔

لہسن

پوری دنیا اور بالخصوص مشرقی کھانوں میں لہسن بڑی مقدار میں استعمال ہوتا ہے اور اس میں بیماریوں سے بچانے کی بھرپور طاقت ہوتی ہے۔ لہسن کئی اقسام کے بیکٹیریا کے خلاف مؤثر ثابت ہوا ہے جن میں سالمونیلا اور ای کولائی بیکٹیریا سرِفہرست ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی اینٹی بایوٹکس سے شفا نہ ہونے والے مریضوں کو بھی لہسن کھلایا جاتا ہے۔ اسی بنا پر اپنی غذاؤں میں لہسن کا استعمال جاری رکھیے۔

شہد

ہزاروں برس سے شہد زخموں کو ٹھیک کرنے، توانائی کے حصول اور کئی امراض میں شفا کےلیے استعمال ہورہا ہے۔ پاکستانی ماہر ڈاکٹر کامران عظیم نے بھی شہد میں زخم مندمل کرنے والے ایسے اجزا دریافت کیے ہیں جو زخم میں انفیکشن نہیں ہونے دیتے اور انہیں جلد مندمل کرتے ہیں۔

2016 میں ماہرین نے دریافت کیا کہ شہد میں بھگوئی ہوئی پٹیاں زخم، ناسور، بستر کے پھوڑوں (bed sores) اور پھنسیوں کا خاتمہ کرتی ہیں۔ شہد میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ پر مشتمل اجزا ہوتے ہیں جو زخم کو مزید پھیلنے سے روکتے ہیں۔

2011 میں ایک حیرت انگیز مطالعے سے معلوم ہوا کہ شہد 60 اقسام کے بیکٹیریا کے خلاف بہت مؤثر ہے۔ یہاں تک کہ اسے میتھی سیلین رزسٹنٹ اسٹیفائیلو کوکس آریئس (ایم آر ایس اے) کے خلاف بھی مؤثر قرار دیا گیا ہے جس کے خلاف دنیا کی بیشتر اینٹی بایوٹک دوائیں ناکام ہوچکی ہیں۔

ادرک

سائنسی برادری جانتی ہے کہ ادرک ایک بہترین قدرتی اینٹی بیکٹیریا نعمت ہے۔ 2017 میں سائنسی بنیادوں پر یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ادرک کئی اقسام کے بیکٹیریا کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ علاوہ ازیں ادرک نقاہت کو بھی دور کرتی ہے اور بلڈ پریشر قابو میں رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

لونگ

لونگ ہزاروں برس سے دانتوں کے امراض کے خلاف استعمال کی جارہی ہے۔ اب ماہرین نے کہا ہے کہ لونگ پانی میں ای کولائی سمیت کئی اقسام کے بیکٹیریا کو اچھی طرح ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اوریگانو

اوریگانو پتوں کی جڑی بوٹی ہے جسے خشک کرکے کھانوں میں بطور مصالحہ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ جسمانی دفاعی نظام (امنیاتی نظام یا امیون سسٹم) کو مضبوط کرتی ہے جبکہ اس میں اینٹی آکسیڈنٹس بھی پائے جاتے ہیں۔ اس کا تیل قدرتی اینٹی بایوٹکس کے طور پراستعمال ہوتا ہے۔

لیکن یاد رہے کہ

اگر آپ قدرتی اجزا کے سپلیمنٹ استعمال کررہے ہیں تو پہلے یاد رکھیے کہ ان کے سپلیمنٹ سائیڈ ایفیکٹس کی وجہ بن سکتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ان اشیاء کو ان کی اصل حیثیت میں ہی استعمال کیا جائے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ لہسن کا سپلیمنٹ یا کیپسول وغیرہ کھانے سے خون کا بہاؤ تیز ہوسکتا ہے اور خون کا تیز اخراج بھی ہوسکتا ہے۔ اسی لیے قدرتی اشیا کے سپلیمنٹ سے گریز کرتے ہوئے انہیں اعتدال کے ساتھ اپنی غذا کا حصہ بنائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں