83

انتخابی اصلاحات کیس: نوازشریف پارٹی صدارت کیلئے نااہل قرار، مجرم اور نااہل شخص پارٹی صدر نہیں بن سکتا، سپریم کورٹ

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ میں ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی تھی۔
چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے سب سے پہلے ریمارکس دیئے کہ طاقت کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ ہے، آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا اترنے والا ہی پارٹی صدر بن سکتا ہے، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوازشریف کا نام بطور پارٹی صدر ہٹانے کا حکم بھی جاری کردیا ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے 28 جولائی 2017 کو وزیراعظم کو نااہل قرار دیئے جانے کے فیصلے کے بعد نہ صرف یہ کہ نواز شریف وزیراعظم کے عہدے سے برطرف ہوگئے تھے بلکہ انتخابی اصلاحات کی شق نمبر کے تحت پارٹی کی صدارت کرنے کے بھی اہل نہیں رہے تھے جس کے باعث مسلم لیگ (ن) کے رہنما سردار یعقوب کو صدر منتخب کرلیا گیا تھا۔
نااہل شخص کو پارٹی صدر بنوانے کے لیے مسلم لیگ (ن) نے اپنی عددی اکثریت کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے 2 اکتوبر 2017 کو قومی اسمبلی سے انتخابی اصلاحات ترمیمی بل شق نمبر 203منظور کروا یا تھا جس کے بعد نواز شریف کو دوبارہ مسلم لیگ (ن) کا صدر منتخب کرلیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں پولیٹیکل پارٹی آرڈر سال 2002 میں یہ واضح طور پر کہا گیا تھا کہ کوئی بھی ایسا شخص پارٹی کا سربراہ نہیں بن سکتا جب تک وہ رکن قومی اسمبلی بننے کی اہلیت نہ رکھتا ہو۔
قبل ازیں سپریم کورٹ میں انتخابی اصلاحات کیس کی سماعت ہوئی، جس میں‌ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم فریق نہیں ہیں، ہم کسی کو وضاحت دینے کے پابند نہیں. ہم نے کسی رکن پارلیمنٹ کو چور ڈاکو نہیں کہا عدالتی کارروائی سے متعلق تمام ریکارڈنگ موجود ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دوسرے ملکوں میں بھی انٹرا پارٹی الیکشن ہوتے ہیں، ہمارے ہاں مختلف صورتحال ہے، پارٹی سربراہ کے گرد ساری چیزیں گھوم رہی ہوتی ہیں۔
اس موقع پر بیرسٹرفروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اخلاقی اقدار بنیادی نکتہ ہے، سیاسی جماعت کے سربراہ کے خلاف عدالت کا فیصلہ موجود ہے۔
دوران سماعت بابر اعوان ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ انتخابات کے لیے ٹکٹ نااہل شخص نے جاری کئے ہیں، لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ بنیادی حقوق کے تحفظ کا اختیار عدالت کو عوام نے دیا۔
سپریم کورٹ نے انتخابی اصلاحات کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے، مذکورہ تحریری فیصلہ پانچ صفحات پر مشتمل ہے جسے چیف جسٹس کی سربراہی میں3رکنی بینچ نےجاری کیا ہے۔
فیصلے کے مطابق آئین کے آرٹیکل62،63کے تحت نااہل شخص پارٹی کی صدارت کا اہل نہیں ہوسکتا، نااہلیت آرٹیکل62، 63کے تحت قابلیت بحال ہونے تک برقرار رہے گی۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ نااہل شخص کے تمام اقدامات اوراحکامات کالعدم تصور ہوں گے، اس کے علاوہ نااہل شخص کی جانب سےبحیثیت سربراہ جاری دستاویزات بھی کالعدم قرار دے دی گئیں ہیں۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس شخص کے اقدامات اور احکامات سے متعلق ایسا تصورکیا جائے گا کہ جیسے یہ کام ہوئے ہی نہیں ہیں۔
فیصلے میں الیکشن کمیشن کو اپنے ریکارڈ سے نوازشریف کا نام بطور پارٹی صدر ہٹانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انتخابی اصلاحات کیس2017 کا پس منظر
آئینی طور پر نااہل شخص کسی سیاسی جماعت کے عہدے کا اہل نہیں‌ ہوسکتا، پاناما کیس کے فیصلے کے بعد نواز شریف وزیراعظم کے عہدے کے ساتھ پارٹی صدر کے لئے نااہل ہوگئے۔
سابق نااہل وزیراعظم کو دوبارہ پارٹی صدر بنانے کے لیے مسلم لیگ (ن) نے اکتوبر2017 میں انتخابی اصلاحات ایکٹ2017 کی شق203میں ترمیم کی۔ پارلیمنٹ سے نئے بل کی منظوری کے بعد نواز شریف3اکتوبر کو پارٹی صدر منتخب ہوگئے۔
میاں نواز شریف کے پارٹی صدر بننے اور پارلیمنٹ سے انتخابی اصلاحات ترمیمی بل کی منظوری کے بعد تحریک انصاف، عوامی مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی جانب سے سپریم کورٹ میں اس کیخلاف درخواستیں دائر کی گئیں تھیں۔
یکم جنوری 2018 کو عدالت نے درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیا، بعد ازاں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بینچ تشکیل دیا گیا۔
کیس کی سماعت کے دوران عوامی مسلم لیگ کی جانب سے فروغ نسیم، تحریک انصاف کی جانب سے بابر اعوان اور پیپلز پارٹی کی جانب سے لطیف کھوسہ بطور وکیل پیش ہوئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں